طاہر القادری کی خطابت اور سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سورۃ التکاثر پر درس قران دینا تھا۔ سب نے انکار کر دیا۔ کہا کہ صرف امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری ہی ان آیات میں مراد خداوندی متعین کر سکتے ہیں۔ صرف ان میں ہی اس سورۃ کی ترجمانی اور تفصیل و توجیح بیان کرنے کی لیاقت کے ساتھ ساتھ اہلیت موجود ہے۔ وہ مشترکہ ہندوستان کے مقبول ترین لیڈرتھے۔ گھنٹوں تقریر کرتے اور عوام صم بکم ان کی طرف دیکھتے رہتے۔ آغا شورش نے لکھاہے، ”اتنے مقبول عوامی مقرر کہ سوائے ان دنوں کے جو قید میں بسر ہوئے، کوئی دن بغیر تقریر کے نہ گزارا۔ “

مدرسہ قاسم العلوم ملتان کے عقب میں واقع محلہ ٹبی شیراں میں ایک چھوٹے سے کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر، دنیا کی خواہشات سے مبرا پایا، تو پتا چلا کہ سب ان کے بارے میں صحیح کہہ رہے ہیں۔ آغا لکھتے ہیں، ”ان کی بے نیازی حد سے بڑھی ہوئی تھی۔“ ایسا بے غرض اور بے نیازبندہ ہی سورۃ التکاثر کے معنی بیان کرنے کا اہل ہو سکتا ہے۔

”تمہیں حرص نے غافل کر دیا۔ یہاں تک کہ قبریں جا دیکھیں۔ ایسا نہیں، آئندہ تم جان لو گے۔ پھر ایسا نہیں چاہیے، آئندہ تم جان لو گے۔ ایسا نہیں چاہیے، کاش تم یقینی طور پر جانتے۔ البتہ تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے۔ پھر تم اسے ضرور بالکل یقینی طور پر دیکھو گے۔ پھر اس دن تم سے نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔“

بہت سے مذہبی وسیاسی لیڈربزور خطابت عوام الناس کے دلوں پر حکومت کرتے رہے ہیں۔ عطا اللہ شاہ بخاری کے ساتھ آغا شورش کاشمیری کو خطابت کے میدان کا رستم زماں کہا جاسکتا ہے۔

ان کے بعد لاہور کی گلیاں اور موچی دروازہ سنسان ہو گئے۔ اعلیٰ مقررین آئے۔ مولانا کو ثر نیازی بھٹو کی نگاہ کو بھا گئے۔ اطہر نفیس یاد آگئے،

ایک گلی ہے جس کی خاطر
درماندہ کو بہ کو رہا ہوں

علامہ احسان الٰہی ظہیر، فرقہ واریت کے ڈھول پیٹتے اسی معرکہ میں کھیت رہے۔

اسلامی تحریکوں کا دور تھا۔ نظام مصطفے ٰ نعرہ تھا، حکومت امیر المو منین کی تھی، ٹی وی کے علاوہ تمام سیاسی و غیر سیاسی تفریحات متروک ٹھہریں۔ اس دور میں بہت سے لوگوں کو علماء و مشائخ کی ٹوپی پہنا کر مردان درویش کا روپ دھارنے میں مدد دی گئی۔ علماء کو زیر دام لانے کے لئے وفاقی شرعی عدالت، زکوٰۃ و عشر کمیٹیاں اور مدارس کو حکومتی سرپرستی میں فنڈز کا اجراء شروع ہوا۔ اس کے ساتھ ان کی مجالس اور تقریبات کا اکلوتے سرکاری ٹی وی پر برا ہ راست کوریج دی گئی۔

ڈاکٹر اسرار احمد کا پروگرام ”الہدی“ شروع ہوا۔ ایک اچھا مقرر اور جدید علوم کا ماہرعالم دین سرکاری سر پرستی میں بولا تو مقبول ہوتا گیا۔ سکولوں کالجوں میں ان کے پروگرام کروائے گئے۔ ضیا الحق ان کی امامت میں باغ جناح میں جمعہ پڑھا کرتے تھے۔ وہ مجلس شوریٰ سے مستعفی ہوئے تو امیر المومنین نے وجہ پوچھی، جواب ملا، ”آپ نے اسلام نافذ کرنے کا جھوٹا وعدہ کیا تھا اور لوگوں کو اسلام کے نام پر دھوکا دیا۔ “ ٹی وی پروگرام اور سرکاری سر پرستی ختم کر دی گئی۔

جماعت اسلامی اور دوسری مذ ہبی جماعتیں اتحادی ہونے کے باوجود، ضیاء الحق اور اس کے حامیوں کو تنگ کر رہی تھیں۔ علاج تھا، فرانسیسی ڈرامہ ”بیکٹ، دی آنر آف گاڈ“ والا، اپنا پوپ تیار کیا جائے۔ پنجاب یو نیورسٹی کا استاد، ماڈل ٹاؤن کی مسجد کا خطیب، اتفاق فاؤنڈری کا سرمایہ ان کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں لایا گیا۔ طاہر القادری مرنجان مرنج قسم کے انسان ہیں۔ جتنی دیر میاں شریف کے زیر سایہ مسجد کی خطیب رہے اپنی وضع داری کے وجہ سے ان کے ہمدرد اور مہرو وفا کے پتلے بن کر رہے۔ میا ں نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے۔ ٹی وی پر درس قران شروع ہوا۔ چھا گئے۔ اکثریتی بریلوی مکتبہ فکر کے ماننے والے، قادری سلسلہ کے بیعت اور حکمرانوں کے پیر، دھنک کے سارے ہی رنگ موجود تھے۔

ہمارے، علامہ اقبال میڈیکل کالج میں بھی ”اسلام اور طب جدید“ کے موضوع پر خطاب کے لئے تشریف لائے۔ کیسٹ پر ریکارڈنگ بھی جاری تھی۔ جب اسے تبدیل کرنا ہوتا تھا تو پاؤں کے پاس بیٹھا ملازم ٹانگ کو ہاتھ لگا دیتا اور حضرت توقف فرما لیتے۔ پروگرام کامیاب تھا۔ کیوں نہ ہوتا؟ پیچیدہ باتوں کے وہ ماہر تھے، پیرو کاروں کا علم ان کی تقریروں کی کیسٹ با وضو سننے تک محدود تھا۔ اوراب تو وہ بنفس نفیس ارشادات فرما رہے تھے۔ جب وہ بولتے تھے تومحسوس ہوتا تھا کہ جیسے صرف و نحو کا کوئی استاد سبق یاد کروا رہا ہے اور بزاخفش شاگرد، سامعین سر دھن رہے ہیں۔ یہی سامعین، جن کے بارے میں شاہ صاحب کہتے تھے ”العوام کالانعام“ بعد میں عقیدت کی منازل طے کرتے ہوئے انہیں علامہ، ڈاکٹراورشیخ الاسلام تک لے گئے۔

پروگرام کی کامیابی کے بعد انہی کے مکتبہ فکر کی ایک سیاسی تنظیم نے نیک نامی اپنی کھاتے میں ڈالنے کے لئے اپنے نام سے کالج میں اشتہارات لگا دیے۔ ان کو کالج فنڈ سے رقوم کا اجرا بھی ہوا تھا۔ مخالف تنظیم کو کیسے گوارا ہوتا۔ جب دوبارہ ایک اورپروگرام کے لئے فنڈ جاری ہوئے تو اس تنظیم نے مخالفت شروع کردی۔ پرنسپل عظیم استاد سید علی رضا گردیزی تھے۔ انتہائی شریف النفس، باوقاراور بامیان کے بدھا کے مجسموں سے زیادہ بلند قامت۔ اس دن اس دل کے کھرے اور سچے انسان کو حکومتی اور اپنے طالبعلموں کے سیاسی اوراخلاقی دباؤ کے زیر اثر بے بس دیکھا۔ بالاخر پروگرام شروع ہونے سے اٹھارہ گھنٹے پہلے اسے منسوخ کرنے کا نوٹس جاری کرنا پڑا۔

خطابت اور مذہبی سیاست کے دیو قامت قائدین سید عطا اللہ شاہ بخاری اورآغاشورش کاشمیری کو دیکھیں تو ان کی سیاست ناکام ہوئی۔ لیکن وہ اتنی عزت کماگئے کہ آج ان کی پارٹیاں موجود نہیں پھر بھی وہ ان شعبوں میں مینارہ نور ہیں۔ دولت اور حکومت سے ان کی دوری اور نفرت نے ان کو اس مقام پر فائز کیا۔ طاہر القادری زبردست خطیب، اگر چہ ان کے عشر عشیر بھی نہیں، لیکن سواد اعظم ان کے ساتھ تھا، حکومتی ہمدردیا ں اور خفیہ ہاتھوں کی مدد ان کی عزت میں اضافہ کا باعث بنی ہے یا نہیں؟ تاریخ فیصلہ دے گی۔

آئیے سورۃ التکاثر کی پہلی دو آیات دوبارہ پڑھیں۔

أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ۔ حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •