کربلائے پاکستان
میں لاڑکانہ کے اسپتال کے باہر اپنی ماں کی گود میں آخری ہچکیاں لے رہا ہوں۔ جان نکلنے کو بے تاب ہے۔ مگر جسم ساتھ چھوڑنے کو راضی نہیں، عجیب و غریب سے وحشت ذدہ منظر نظر سے گزر رہے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی میری ماں نے مجھے کربلا کی کہانیاں سنا ئی تھیں۔ سمجھ نہیں آرہا کہ نزع کے عالم میں یہ منظر دکھائی دے رہے ہیں کہ یہاں واقعی ہی دور جدید کا کرب و بلا بپا ہے۔
میرے سامنے ایک ہوسٹل کے دروازے پہ پولیس کھڑی ہے اور ایک نوجوان لڑکی نمریتا کی بے بس پنکھے سے جُھولتی لاش اتار رہی ہے۔ قتل کو خودکشی سمجھا جا رہا ہے شاید۔ اس کا بھائی ہاتھ باندھ کر رو رہا ہے کہ نمریتا خودکشی نہیں کر سکتی۔ اس کے گلے، بازو کے نشان دیکھو میں اس کی فورنسک جانچ کروا لوں گا۔ مجھے اجازت دو یہ خودکشی نہیں قتل ہے۔ چند افسر اس کو کہہ رہے ہیں کمیٹی بن رہی ہے آپ بے فکر رہیں۔ معاملہ حل ہو جائے گا۔
دائیں جانب ایک ڈاکٹر کے ہاتھ میں صلاح الدین کی پولیس تشدد سے موت کی تصدیق والی پوسٹ مارٹم رپورٹ ہے۔ جس کو ڈاکٹر سرگوشی کر کے پاگل صلاح الدین کے باپ کو بتا رہا ہے کہ اس پہ تشدد ہوا ہے اس کے پھیپھڑے بھی سکڑ گئے تھے۔ ایک پولیس والا اس دوران چلا کے کہتا ہے۔ یاد رکھیں آپ کا بیٹا چور تھا۔ بوڑھا آنکھوں میں آنسو بھر کے کہتا ہے چور تھا تو پکڑ لیتے سزا دے دیتے یوں مارتے تو نا۔
اوربائیں جانب ایک طرف آٹھ سال کے فیضان کی وحشی درندے کی ہوس کا نشانہ بنی لاش پڑی ہے۔ اس کی ماں اس کا ماتھا چوم رہی ہے۔ مگر میں ابھی زندہ ہوں نا۔ میری ماں کا منہ دوسری طرف ہے وہ مجھ سے نظریں نہیں ملا پا رہی۔ شاید وہ انتظار کر رہی ہے کہ میری بوجھل سانسیں تھم جائیں تو میری طرف رخ کرے۔
تھوڑی سی دور بچوں کی مٹی کے نیچے سے مسخ شدہ لاشیں نکل رہی ہیں۔ ماں باپ اپنے گمشدہ پیاروں کو کپڑوں کے ٹکڑوں سے پہچاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے ہاں یہ میرا ہے۔ ایک چیخ آتی ہے ہاں یہ نیلے کپڑے تو میں نے ہی بنوائے تھے۔
اس دوران ایک موٹر سائیکل سامنے سے گزرتا ہے۔ ایمبولینس کو دینے کے دو ہزار نہیں ہیں۔ کچھ دیر پہلے دو مرد طے کر رہے تھے، پیسے ایمبولینس والے سے طے نہیں ہوئے۔ اور وہ اپنے جگر کی لاش کو موٹر سائیکل پر اٹھا کے چل پڑے۔ میرے ذہن میں فوراً آیا کہ خوش نصیب ہیں۔ میں مر گیا تو میری ماں کس طرح میری لاش گھر لے کے جائے گی۔ اس کے پاس تو ٹیکا لگوانے کے پیسے نہیں ہیں۔ موٹر سائیکل کاکچھ دور ایکسیڈنٹ ہوتا ہے۔ اور لاش اٹھائے باپ اور چچا گر کر میرے سامنے دم توڑ دیتے ہیں۔ لوگ آگے بڑھ کر تینوں لاشیں گھر کی طرف روانہ کر رہے ہیں۔
چند لمحیں اسی کشمکش میں گزرتے ہیں کہ دیکھتا ہوں کہ ہسپتال کے سامنے دو پولیس والے ایک بندے کو ٹھڈے مار کر کھڑا کر رہے ہیں۔ ایک کہہ رہا ہے اوہ عیسائی کھڑا ہو نخرے کرتا ہے۔ اور اس کو گھسیٹتے ہوئے ہسپتال میں لے جاتے ہیں۔ اور چند لمحوں بعد یہ کہتے نکل رہے ہیں کہ یہ سالا تو مر گیا ہے۔ لگتا ہے تشدد زیادہ ہی ہو گیا تھا۔ ایک کہتا ہے چلو اچھا ہوا عیسائی تھا۔ کوئی بھی دفعہ لگا کر فارغ کروائیں گے۔ میں نے شکر کیا کے میں مسلمان ہوں اور سب سے بڑھ کر ریاست مدینہ کا فرد بھی ہوں۔
یکایک ان کے پیچھے ایک نوجوان لڑکی کی لاش اسٹیچر پر ہسپتال کے گیٹ سے نکالی جا رہی ہے۔ اس کا باپ اس کے سرہانے کھڑا بین کر رہا ہے کہ میری ثنا گُل میرے چمن کا پھول تو نے پڑھنا تھا آگے۔ مگر تیرے رکھوالے نے تجھے مسل دیا۔
میں ان خوفناک لمحوں کو برداشت کرنے کی ہمت نہیں جُٹا پا رہا۔ ایک طرف تو میرا بھی تو سانس اکھڑ رہا ہے۔ مانو جیسے کسی نے پہاڑ سینے پر رکھ دیا ہو۔ اور دوسری طرف یہ سب دردناک منظر۔
اچانک ایک شور واویلا بلند ہوتا ہے۔ لوگ کافر کافر کے نعرے لگاتے آگے بڑھتے ہیں۔ آس پاس کی مختلف دکانوں اور گھروں سے سامان نکال رہے ہیں۔ مردوں کو پیٹ رہے ہیں، سامان جلا رہے ہیں۔ کافر کافر کی سدا اتنی بلند ہے کہ میرے سینے سے نکلتی بوجھل سانسیں بھی دب کے رہ گئی ہیں۔ لوگ ایک مندر میں گھستے ہیں۔ توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ سنا ہے ایک لڑکے نے الزام لگایا تھا کہ کسی نے مذہب کی توہین کی ہے۔
میری ماں نے اس شور اور لوگوں کے ہجوم میں مجھے اپنی گود میں زور سے تھام لیا ہے۔ مگر میں ماں کو دوسری طرف تکتا دیکھ کر اسے حوصلہ دے رہا ہوں کہ شکر کرو تمہیں میری لاش دفنانے کو ملے گی ابھی تک اس کی آنکھیں میرے چہرے کی طرف نہیں ہیں۔ کسی مسیحا کے انتظار میں ہے۔ میں اسے حوصلہ دے رہا ہوں کہ دیکھ تیری گود میں ہوں یہیں دم توڑ رہا ہوں۔ ورنہ اس کرب و بلا میں تو لوگ کب کہاں اٹھا لیے جائیں کسی کو علم نہیں ہوتا۔ مائیں راہ تکتی تکتی مر جاتی ہیں۔ جن کے مل جائیں ان کی لاشیں اتنی مسخ ہو جاتی ہیں کہ اپنے پیاروں کی شناخت مشکل ہے۔
میری تھکن بڑھ چکی ہے مزید رن کا میدان دیکھنے کی ہمت باقی نہی رہی۔ اب میری درد اور اٹکی سانس کی تکلیف سے میری ماں چیخ رہی ہے اورمیں اس کو دیکھ کر اس کرب و بلا میں ایڑیاں رگڑتے جان دے رہا ہوں۔


