آزادی مارچ کی کامیابی کے لیے مولانا کی چومکھی چالیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا فضل الرحمن نے پیروں سے رابطہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی ہے ۔ اس میں ایک عدد پیر صاحب خود بھی شامل ہیں ۔ دلچسپ موو ہے ۔ اگر دیوبند کی نمائندہ سیاسی جماعت پیروں تک چل کے خود جانے لگی ہے تو گھنٹیاں بج جانی چاہئیں کہ معاملہ سیریس ہے ۔اک کمیٹی ڈپلومیٹ حضرات سے رابطے کے لیے قائم کی گئی ہے ۔ یہ بھی کام سیریس ہے کی اک اور نشانی ہے ۔ جے یو آئی سندھ کے مولانا سومرو گھوٹکی مندر میں کھڑے اظہار یکجہتی کرتے پائے گئے ہیں ۔ انہوں نے ہندو برادری سے اظہار یکجہتی کیا ہے ۔

کچھ سمجھ آئی کسی کو ؟ نہیں آئی ہو گی ۔ جے یو آئی پاکستانی ڈائنامکس کو سامنے رکھتے ہوئے ہر کلسٹر تک پہنچ رہی ہے ۔

مولانا مظفر آباد میں جلسہ کر آئے ہیں ۔ ان پر ہم بہت آرام سے کشمیر کمیٹی کا الزام لگا تے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ مدتوں کشمیر کمیٹی کی چئرمینی کی ہے ۔ کشمیر آزاد نہیں کرایا ۔ یہ بھی اعتراض ہوتا ہے کہ ان کی جماعت اور دیوبند مکتبہ فکر کا موقف بھی پاکستان کے ریاستی موقف سے ہم آہنگ نہیں ہے ۔ اب مولانا کشمیر کمیٹی کی اسی صدارت کا تجربہ استعمال میں لا کر جب سوالات اٹھا رہے ہیں ۔تو سرکار بے چینی سے کروٹیں لیتی محسوس ہوتی ہے ۔ یہ بے چینی دیکھ کر سمجھ چکے ہیں کہ کشمیر پر خارش کرنے سے سرکار اس وقت شرماتی گھبراتی ہے ، کہ مصیبتوں کی ماری ہوئی ہے ۔

کشمیر ہو سی پیک ہو یا کاروبار ہو یہ سب کبھی جے یو آئی کے لیے سیاسی ایشو نہیں رہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ مولانا کشمیر پر سی پیک پر آواز اونچی کرتے جا رہے ہیں ۔ وہ کاروباری لوگوں کی مشکلات کو بیان کرنے لگ گئے ہیں ۔ وہ مہنگائی کی بھی بات کر رہے ہیں ۔ یہ تینوں پوائنٹ یہ بتاتے ہیں کہ مولانا عوام خواص کی بات کر رہے ہیں ۔ وہ حساس ریاستی معاملات پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں ۔ سوال کرنا جانتے ہیں بات کرنے کا ڈھنگ آتا ہے کہ اپنی بات ایسے کہتے ہیں کہ جن سے کہتے ہیں اور جو سب سنتے ہیں سب ہی متاثر ہوتے ہیں ۔

مولانا کبھی ریاستی معاملات میں کسی بھی حکومت کے لیے مشکلات کا باعث نہیں بنے ۔ الٹا مدد کو آتے رہے ہیں ۔ جب عراق فوج بھجوانے کا مسئلہ سامنے آیا ۔ مشرف کی آمر حکومت دباؤ میں آئی تو مولانا نے اس کو اس طرح عوامی ایشو بنا دیا کہ حکومت پریشر سے نکل گئی ۔ اب ایسا کیا ہوا ہے کہ مولانا کسی طور مان کر ہی نہیں دے رہے ۔

بے وثوق ذرائع بتاتے ہیں کہ الیکشن سے پہلے مولانا نے بہت رابطے کیے کہ دیکھو زیادتی نہ کرو ، ہمیں ہمارا حصہ جو ہے ملنا چاہئے ۔ ان رابطوں کا جواب نہیں دیا گیا ، مولانا خود دو سیٹوں سے ہارے ۔ کوئی ملاقات بھی نہ ہو سکی ۔ پچھلی عمرے عشق خوار ہی کرتا ہے ۔ وہ بھی تب جب عاشق گیت وغیرہ بھی انگریزی سنتا ہو ۔ دل توڑنے والے دیکھ کے چل ہی سنا ہوتا تو کپتان کی محبت بھی حاصل ہو جاتی پرانی محبتیں بھی برقرار رہ جاتیں ۔ انگریزیاں لے کر بہہ گئیں ، خیر ۔

الیکشن سے پہلے رابطے مولانا کی طرف سے ہو رہے تھے ۔ وہ تیار تھے کہ سیاسی فراست کا ایزی لوڈ ادھار دے دیں ۔ تب ان کی نہ سنی گئی ، اب کام الٹ ہے، اب ان سے رابطے کیے جا رہے ہیں ، اب مولانا لفٹ نہیں کرا رہے ۔ حامد میر نے اک ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات کی اطلاع دی تھی ، اس کی نہ تصدیق ہو سکی نہ تردید آئی ۔

کراچی اور پنجاب کے بڑے مدارس تو مولانا کی تحریک سے لاتعلق ہیں ۔ انہیں جب اپنی مصیبت پڑے تب یہ دوڑے آتے ہیں ۔ اب یہ مدارس تحریک کے لیے کتنا تعاون کریں گے ۔ یہ مولانا کی اپنی ایک تقریر سے واضح ہے ، جس میں وہ بتاتے ہیں کہ جو لوگ یہ سمجھتے کہ ان کے بڑے مدرسے ہیں ہمیں ان کی ضرورت ہے تو وہ اپنے گھر بیٹھیں ۔ ہمیں ان کی ضرورت نہیں ہے ۔ اندرون سندھ بلوچستان اور کے پی کے مدارس اور تنظیم ہی مولانا کو اصل افرادی قوت فراہم کرتی ہے ۔ یہاں جوش و خروش بڑھ رہا ہے ۔ جے یو آئی غالبا پشاور میں ایک علما کانفرنس منعقد کرنے جا رہی ہے جس میں آنے کے لیے ہزاروں علما کو دعوت نامے بھجوائے گئے ہیں ۔ اس اجتماع کے بعد جوش نکتہ عروج کی طرف جانے لگے گا ۔

پی پی اور مسلم لیگ نون بار بار اعلان کر رہی ہیں کہ دھرنے احتجاج میں اگر مذہبی کارڈ استعمال کیا گیا تو ہم اس سے لاتعلق رہیں گے ۔ مذہبی کارڈ ضرور استعمال ہو گا ۔ لیکن ہم شائد غلط سمجھ رہے ہیں ۔ جے یو آئی کی تیاریوں سے باخبر اک ذریعے کا کہنا ہے ۔ مولانا یہ سمجھتے ہیں کہ دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں ہمیں زبردستی باہر کیا گیا ۔ اگر ہم نے ایک حکومت ہلا کر نہ دکھائی تو اگلے ایک آدھ الیکشن کے بعد مذہب جماعتوں کی سیاست کا اختتام ہو جائے گا ۔ اس لیے مذہبی نعرے اتنے تو ضرور لگیں گے جتنے یہ بتانے کو ضروری ہیں کہ پاکستانی سیاست میں مذہبی فیکٹر ابھی زندہ اور جوان ہے ۔ البتہ ان نعروں سے آبادی کے مختلف حلقے گھبراہٹ کا شکار نہ ہو جائیں اس کے لیے بھرپور رابطے ان سے براہراست کیے جا رہے ہیں ۔

اس وقت جے یو آئی کی مقامی تنظیموں نے خاصا چندہ جمع کر لیا ہے ۔ بسوں پر بہہ کر اسلام آباد آنے کے لیے اب سرمائے کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ کراچی کے تاجروں نے بھی اک چھوٹی سی تھیلی دینے کی نیت باندھ رکھی ہے ۔ اتنے کم پیسے دینے پر ان سیٹھوں کی خاطر تواضع کرنی بنتی ہے ۔ ایم ایم اے میں جمعیت علمائے پاکستان ، فقہ جعفریہ اور جمعیت اہل حدیث سے تعلق رکھنے والے دھڑے بھی مولانا کی قیادت میں شامل رہے ہیں ۔ وہ بھی ٹوکن شرکت کریں یہ امکان ہر گز رد نہیں کیا جا سکتا ۔

یہ سب لکھ کر دل چاہا ہے پوچھنے کو کہ سر جی مولانا کے ساتھ مل کر سب کچھ طے کیوں نہیں کر لیتے ۔ ضرور ہم جیسوں سے سے سننا ہے کہ ہن آرام اے ؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 369 posts and counting.See all posts by wisi