جمہوریت دوا نہیں مرض ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کالم یاسر پیرازدہ کے کالم ”جمہوریت کس مرض کی دوا ہے“ کے رد عمل میں لکھ رہا ہوں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یاسر پیرزادہ کا ایک نام ہے جس کے کالم شرق تا غرب پڑھے جاتے ہیں۔ جس کی تحریر سے ممکن ہے حکومتیں اپنی داخلی و خارجی پالیسیاں ترتیب دیا کرتیں ہوں گی۔ جنگ اخبار کے مشہور و مقبول کالم نگاروں کی اگر فہرست تیار کی جائے تو یقیناً یاسر پیرازہ ٹاپ 10 میں ہوں گے۔ مختصر یہ کہ میرے پسندیدہ کالم نگاروں میں ایک ہیں۔

یاسر پیرزادہ کے جس کالم کی بات ہو رہی ہے وہ جنگ اور ہم سب میں پبلش ہوا۔ ایسے کالم نگار کے کالم پر تجزیہ کرنا سورج کو انگلی سے چھپانے کے مترادف ہے۔ چھوٹا منہ بڑی بات کے مصداق ہے۔ اس کے باوجود تجزیہ کر رہا ہوں اس کی وجہ بھی موصوف خود ہیں۔ ایک مرتبہ پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ نے اسلام آباد ہوٹل میں نوجوان لکھاریوں کے لئے ایک ورکشاب کا انعقاد کیا۔ جس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا تو وہاں پہلی بار یاسر پیرزادہ کو لائیو سنا۔

موصوف نے اپنی تقریر میں اپنا ایک کالم پڑھ کر سنایا جو اگلے روز جنگ اخبار میں پبلش بھی ہوا۔ موصوف نے اپنی تقریر کی تمہیدی گفتگو میں عرض کرتے ہوئے کہا کہ ”میں کوئی مقرر نہیں نہ ہی شعلہ بیان ہوں اور سیدھی سی بات ہے مجھے تقریر آتی بھی نہیں۔ اس لئے میں اپنی ایک تحریر پڑھ کر سناتا ہوں“ جو یقیناً عاجزی تھی۔ تقریروں کے اختتام پر سوالات و جوابات کا سیشن شروع ہوا۔

موصوف نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ”میں خود نئے لکھاریوں سے بہت کچھ سیکھتا ہوں۔ یہ ضروری نہیں کہ جو جنگ اخبار یا ملک کے دیگر مشہور اخبارات میں کالم لکھتے ہیں تو صرف وہی بہت اچھے لکھاری ہیں۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ ان کا نام ہوچکا ہے اب وہ کچھ بھی لکھیں لوگ انہیں پڑھتے ہیں۔ حالاں کہ جو چھوٹے چھوٹے لوکل اخبارات میں لکھتے ہیں کبھی کبھار ان غیرمقبول و گمنام لکھاریوں کی تحریر پڑھ کر مجھے بہت حیرت ہوتی ہے کہ ایسا بہترین انداز تحریر! اور ان کی تحریروں سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملتا ہے۔“ موصوف کے انہی الفاظ نے مجھے ہمت دی کہ ان کے کالم پر اپنا تجزیہ پیش کروں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ موصوف میری تحریروں کو بھی اسی زمرے میں لاتے ہیں جس کا ذکر انہوں نے اپنی تقریر کیا تھا۔ خیر تمہیدی گفتگو سے گریز کرتے ہوئے اپنے اصل موضوع پر آتے ہیں جو یاسر پیرزادہ کے کالم کا ردعمل ہے۔

پہلے موصوف کے کالم کے متعلق چند گزارشات اشد ضروری ہیں اس کے بعد جمہوریت کیسے ایک مرض ہے پر چند گزارشات پیش کرونگا۔ سب سے پہلی بات دنیا میں حکومتیں چلانے کے کئی نظام ہیں۔ جن میں بادشاہت، ڈکٹیٹرشپ اور جمہوریت یہ وہ نظام حکومت ہیں جو پوری دنیا میں زیادہ مشہور ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے دنیا کے بیشتر ممالک میں جمہوریت کی خصوصیات کے بدولت جمہوریت کو ہی پسند کیا جاتا ہے مگر کئی ممالک ایسے بھی ہیں جہاں جمہوریت کا نام و نشان تک نہیں۔ جس کی واضح مثال عرب ممالک ہیں۔

جن ممالک میں جمہوریت ہے وہاں کی جمہوریت کا طریقہ کار ایک دوسرے سے ذرا مختلف ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں صدارتی نظام جمہوریت ہے۔ چین میں یک جماعتی نظام ہے۔ انگلستان، پاکستان اور بھارت وہ ممالک ہیں جہاں سارے اختیارات وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ماڈرن دنیا جمہوریت کو ہی بہترین نظام حکومت سمجھتی ہے کیونکہ جہموری نظام حکومت میں عوام کئی معاملات میں آزاد ہوتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کرسکتے ہیں، اپنے بنیادی حقوق کے لئے جمہوری انداز میں آواز بلند کرسکتے ہیں۔ جمہوری نظام کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ حکومتیں مخصوص مدت کے لئے ہوا کرتی ہیں۔ ان مخصوص مدتی حکومتوں کو یہ خدشہ لاحق ہوتا ہے کہ ہم نے کام نہ کیا تو اگلی مرتبہ عوام ہمیں مسترد کردیں گے۔ اور اگر واقعی حکومت کام نہیں کرتی تو عوام اپنے ووٹ کی صورت میں اسے مسترد کرکے دوسری پارٹی یا سیاستدان کو موقع دیتے ہیں تاکہ وہ عوام کی بہتری کے لئے کچھ کام کرے۔ ان خصوصیات کو دیکھا جائے تو مجبوراً یاسر پیرزادہ کے کالم ”جمہوریت کس مرض کی دوا ہے“ سے متفق ہونا پڑے گا۔ مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے جو موصوف کے کالم سے اتفاق نہیں اختلافات کو جنم دیتا ہے۔

یاسر پیرزادہ نے جس جمہوریت کو مرض کی دوا قرار کیا ہے وہ واقعی مغربی ممالک کے لئے درست ہے۔ مگر چونکہ موصوف کا واضح موقف پاکستان کا جمہوری نظام ہے اس لئے یہ بات کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں جمہوریت دوا نہیں بلکہ بذات خود ایک مرض ہے۔ یہ محض دعوی نہیں اس پر دلائل بھی ہیں جن کا مختصر ذکر کرتا چلوں۔

جمہوریت کے لئے عوامی رویے بھی جمہوری ہونے چاہییں جو پاکستانی عوام کے بالکل بھی نہیں۔ پاکستان میں عوام تو دور سیاستدانوں کے رویے بھی ڈکٹیٹرشب والے ہیں۔ دور نہیں جاتے موجودہ وزیراعظم کی گفتگو کو ہی دیکھیں وہ جب بھی تقریر کرتے ہیں ان کا لہجہ ڈکٹیٹرز والا ہوتا ہے۔ حالانکہ اصول یہ ہے جب تک کسی پر الزام ہے اسے مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا اور اس کے ساتھ عام شہری کی طرح پیش آنا چاہیے۔ حالاں کہ ہمارے خان صاحب کی تقریر میں انگلی ایسے اٹھی ہوتی ہے جیسے انہوں نے عوامی ووٹ سے وزارت عظمی نہیں لی بلکہ جنگ کرکے پاکستان فتح کیا ہے۔ اور جب تک زندگی ہے ہمیشہ کے لئے وزیراعظم کی سیٹ پر براجمان رہیں گے۔

تھوڑا پیچھے جائیں تو نواز شریف کی حکومت جیسی بھی تھی کم از کم اسے چلنے دیا جاتا تاکہ جمہوریت کا تسلسل جاری رہے ایسا نہ ہوسکا۔ نواز حکومت کے لئے بہت سی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تاکہ حکومت اپنی مدت پوری نہ کرسکے۔ انہیں ڈر تھا کہ نواز شریف نے اپنی مدت پوری کرلی تو اگلے الیکشن میں اسے ہرانا بہت مشکل ہوجائے گا۔ کیا سیاستدانوں کے ان رویوں کو جمہوری رویے کہا جاسکتا ہے؟

ہرگز بھی نہیں۔ پاکستان میں اپوزیشن اور عوامی احتجاج کا مطلب انقلاب لانا ہے اور دوسری طرف حکومتیں عوام سے اپنے بنیادی حقوق کے لئے احتجاج کا حق بھی چھین لیتی ہیں۔ کوئی کتنا ہی پرامن احتجاج کیوں نہ کر رہا ہو اس پر لاٹھی چارج ہوتا ہے۔ جمہوری حکومتوں کا تو یہ خاصہ ہونا چاہیے کہ اگر فرد واحد بھی مسائل کا شکار ہے اور حکومت وقت سے اپنے مسائل کے حل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے تو حکمران اسے بھی اتنی ہی اہمیت دیں جتنی بہت بڑے اجتماع کو دی جاتی ہے جبکہ ایسا نہیں ہوتا۔ جب تک سڑکیں بند نہ ہوں، کسی ریاستی عمارت پر قبضہ نہ کیا جائے، کسی سرکاری افسر یا حکومتی نمائندے کی ٹھکائی نہ کی جائے تب تک حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ جب تک توڑ پھوڑ نہ ہو پرامن احتجاج حکمرانوں کو احتجاج لگتا ہی نہیں۔

جمہوریت کا مطلب ہر شخص آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کرسکتا ہو۔ یہاں تو حکومت، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرنا غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ لوگ اسلامی ریاست میں اسلامی نظام حکومت (خلافت) کے قیام کی بات تک نہیں کرسکتے۔ کیا اسلامی نظام کو پسند کرنے والے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرسکتے ہیں؟ کیا عدلیہ کے چکروں سے تنگ آکر آئے روز مظلوم خود کشیاں کرتے ہیں ایسے عدالتی نظام کے اسٹرکچر کو بدلنے اور اسلامی طرز انصاف کے اسٹرکچر کا مطالبہ کرسکتے ہیں جہاں کسی وکیل کی ضرورت نہیں پڑتی۔

جہاں قاضی خود مدعی و ملزم کے بیانات سن کر گواہ طلب کرتا ہے اور انہی گواہوں کے بیانات کے بعد اسلامی اصولوں کے مطابق فیصلہ سناتا ہے؟ کیا ایسے اسلامی عدالتی نظام کا مطالبہ کرسکتا ہے؟ کیا عدالتوں میں بیٹھے کرپٹ و جانبدار ججز پر تنقید کرنے کا حق کسی شہری کے پاس ہے؟ جو بھی عدالتی اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپٹ ججز پر بات کرے تو اس پر توہین عدالت کے دفعات لگا دیتے ہیں۔ ججز و جرنیل تو ریاست پاکستان کے مقدس ترین عہدے ہیں جن کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی جرم ہے۔

ان سب باتوں کو ایک طرف رکھتے ہیں کیا پاکستانی عوام کا رویہ بھی جمہوری ہے؟ یہاں تو سیاست بھی اپنے اپنے دائروں میں ہوتی ہے۔ کوئی مذہب کے نام پر سیاست کرتا ہے تو کوئی سیکولر و لبرل نعرے پر، کوئی اداروں کی مخالفت پر سیاست کرتا ہے تو کوئی ”میں ان سابق حکمرانوں کو نہیں چھوڑوں گا“ کے نعرے پر عوام کو بیوقوف بناتا ہے۔ صرف انہی نعروں پر سیاست کرتے پھر بھی ٹھیک تھا یہاں تو انتہا پسندی پھیلائی جاتی ہے۔ کوئی مذہبی سیاست پر تنقید کرے تو فتوے لگ جاتے ہیں، کوئی سیکولر و لبرل سیاست پر تنقید کرے تو انتہا پسند کہلاتا ہے، کوئی ڈکٹیٹروں پر تنقید کرے تو غدار سمجھا جاتا ہے۔

ہر کسی نے اپنی اکیڈمیاں بنا رکھی ہیں جس میں ایسے لوگ تیار کیے جاتے ہیں جو صرف القابات دینے اور لوگوں کی عزتیں اچھالنے کے لئے ہوتے ہیں۔ کیا اسے جمہوریت کہیں گے؟ اگر یہ جمہوریت ہے تو ایسی جمہوریت سے برات کا اعلان ہے اور یہ جمہوریت دوا نہیں مرض ہے۔ اور اگر اسے جہموریت نہیں کہا جاتا تو پھر حقیقی جمہوریت پاکستان میں کبھی بھی نہیں آ سکتی۔ اس سے بہتر نہیں کہ جو الیکشن پر لاکھوں کروڑوں کے اخراجات لگا کر کچھ عرصہ کے بعد حکومت گرا دی جاتی ہے وہ پیسہ غریبوں پر خرچ ہو۔

پھر نئے الیکشن ہوتے ہیں پھر وہی اخراجات اور پھر اگلے سال حکومت گرا دی جاتی ہے۔ اگر حکومتیں گرانی ہی ہیں تو پھر الیکشن پر لگنے والا پیسہ عوام پر کیوں نہ لگایا جائے؟ پاکستان میں عوام کے رویے جمہوری ہیں نہ سیاستدانوں و جرنیلوں کے رویے جمہوری ہیں۔ جمہوریت اگر مضبوط ہوجاتی ہے تو صرف ججز و جرنیل کا ہی نہیں بلکہ سیاستدانوں کا بھی کڑا احتساب ہوگا۔ اس لئے کوئی نہیں چاہتا کہ پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہو اور ہمیں جمہور کے آگے جوابدہ ہونا پڑے۔ اس لئے پاکستان میں جمہوریت مرض کی دوا نہیں بذات خود ایک مرض ہے۔ امید ہے یاسر پیرزادہ میرے اختلاف پر برا منانے کے بجائے ایسے اختلافات کو پسند کریں گے تاکہ مکالمہ کی راہیں ہموار ہوں۔

اسی بارے میں: جمہوریت کس مرض کی دوا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •