آخری روسی بادشاہ نکولائی رومانوو اور ان کی ملکہ الیکساندرا رومانووا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مترجم : ڈاکٹر مجاہد مرزا

روس کے آخری شہنشاہ اور ان کی اہلیہ الیکساندرا کی جوڑی کو مثالی کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو محبت کی مکمّل نرم روی پر مبنی سات سو سے زیادہ محبت نامے لکھے تھے۔ ان کے بیاہ کے بعد ان کے پانچ بچے پیدا ہوئے۔ بیاہ کی بیسویں سالگرہ کے روز نکولائی نے اپنے روزنامچے میں لکھا تھا: ”خدا نے مجھے نادر گھریلو خوش بختی بخشی ہے۔“ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ ان کا ماہ عسل 23 برس جاری رہا تھا۔ ایسا بہت ہی کم ہوا کرتا ہے خاص طور پر شاہی خاندانوں میں۔ 1918 کی ایک گھڑی میں تب اس سب کا خاتمہ ہو گیا تھا جب اس خوش بخت کنبے کے تمام ارکان کو خدام اور خاندانی ڈاکٹر سمیت گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔

جب روس کے تخت شاہی کے جانشین نکولائی اور جرمن شہزادی الیسا میں محبت پروان چڑھی تھی تب کوئی اس طرح کے حزنیہ انجام سے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ یہ سچ ہے کہ ملکہ برطانیہ نے اس بیاہ میں رکاوٹ ڈالنے کی اپنی تمام تر کوشش کی تھی۔ الیسا ان کی پیاری نواسی تھی۔ ملکہ وکٹوریہ اسے پیار سے ”سنی“ ( دھوپ بھری) کہہ کر بلایا کرتی تھیں۔ الیسا کی بڑی بہن ایلی کو ملکہ وکٹوریہ، روس کے نواب سرگئی سے پہلے ہی بیاہ چکی تھیں اور اس پر بہت پشیمان رہا کرتی تھیں۔ ان کے لیے روس ایک پر از معّمہ اور ناقابل قیاس ملک تھا اس لیے وہ ایک اور نواسی کو اس دیس وداع نہیں کرنا چاہتی تھیں۔

الیسا ایک منکسر مزاج دوشیزہ کی حیثیت سے بڑی ہوئی تھی۔ جب وہ آٹھ برس کی عمر میں ماں کے سائے سے محروم ہو گئی تھی تو اپنے اندر بند ہو کر رہ گئی تھی۔ بس اپنی نانی کے ساتھ ہی باتیں کرتے ہوئے وہ کھل کر بول سکتی تھی، جو اس کی پرورش کرنے کے لیے اسے انگلستان لے گئی تھیں۔ الیسا پہلی بار اپنی بہن ایلی کے ساتھ، جس نے نواب اعظم سرگئی رومانوو کے ساتھ بیاہے جانے کے بعد ایلیزاویتا نام اپنا لیا تھا، مہمان کی حیثیت سے روس آئی تھی۔ پیٹرزبرگ میں چھ ہفتوں کے قیام کے دوران شہزادی تخت روس کے جانشین نکولائی سے متعارف ہوئی تھیں اور ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی تھی۔ ان دونوں جوان دلوں میں فوراً ہی ایک دوسرے کے لیے یگانگت پیدا ہوگئی تھی اگر یہ کہا جائے کہ پہلی ہی نظر میں پیار ہو گیا تھا تو غلط نہ ہوگا۔

کم عمر شہزادی کے دل سے نکولائی کی صورت محو نہیں ہو سکی تھی۔ اسے محسوس ہو گیا تھا کہ روس کے جانشین شہزادے سے نوجوانی کے عشق کا نتیجہ ضرور برآمد ہوگا۔ انگلستان لوٹنے کے بعد شہزادی نے روسی زبان سیکھنا شروع کر دی، روسی ادب پڑھنے لگی تھی حتٰی کہ لندن میں قدامت پرست کلیسا کے پادری کے ساتھ دیر تک باتیں بھی کرتی تھی۔ شہزادی نے روس میں پہلی بار قدامت پرست گرجا گھر کی عبادات سے شناسائی حاصل کی تھی۔ پروٹسنٹنٹ سادہ عبادات کے بعد انہیں روس کی شاندار اور پرشکوہ عبادات نے متحیّر کر کے رکھ دیا تھا۔

چار سال بیتنے کے بعد ایک واقعے نے دونوں محبت کرنے والوں کے مقدر کا فیصلہ کر دیا۔ 1893 میں روس کے شہنشاہ الیکساندر سوم شدید علیل ہو گئے تھے۔ فوری طور پر جانشین سے متعلق ایک سوال اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ مستقبل کا حکمران متاہل نہیں ہے۔ نکولائی نے کھل کر کہہ دیا تھا کہ وہ دلہن کا انتخاب محض محبت کی بنیاد پر کریں گے، خاندانی بندھنوں کی غرض سے نہیں۔ ان پورے چار سالوں میں وہ اپنی پیاری الیسا کو نہیں بھولے تھے۔

طویل عرصے کی حیل و حجت کے بعد شہنشاہ اپنے فرزند کا الیسا سے بیاہ کرنے پر رضامند ہو گئے تھے۔ البتہ ملکہ عظمٰی ماریہ نے جانشین کے، اپنے تئیں نامناسب انتخاب پر ناک بھوں چڑھائی تھی۔ اس بات پر ماریا نئے حکمران کے مزید خلاف ہو گئی تھیں کہ شہزادی روس کے شاہی خاندان میں تب شامل ہو رہی تھی جب شہنشاہ الیکساندر سوم بستر مرگ پر پڑے اذیت سہہ رہے تھے۔ عام طور پر جانشین کی بیوی بہت دیر تک دوسرے درجے کا کردار ادا کیا کرتی تھی اور اس اثناء میں وہ معاشرے کے ان مسائل سے روشناس ہوتی تھی جن سے اسے نمٹنا ہوتا تھا، ایک دوسرے کی پسند ناپسند سے آگاہ ہوا کرتی تھی اور اہم ترین یہ کہ ضروری دوست اور معاون بنا لیا کرتی تھی۔

الیکساندرا، روس میں الیسا کو یہی نام دیا گیا تھا، کو یہ سب کچھ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ جانشین سے بیاہ کرنا ان کے لیے آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مترادف تھا۔ وہ روس کے شاہی محل کی دشوار چالوں سے شناسا نہیں ہو سکی تھیں۔ پھر ان کا اپنا مزاج بھی ملکہ بننے کی لگن نہیں رکھتا تھا۔

مریضانہ حد تک خود میں گم رہنے کی وجہ سے وہ ہر شے سے نالاں سرد مزاج جرمن خاتون ہونے کا احساس دلاتی تھیں۔ خدام کے ساتھ ان کا سلوک اچھا نہیں تھا۔ انجان لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی تھیں۔ اعلٰی کونسل کے نمائندوں کے ساتھ سادہ اور دلی تعلقات قائم نہیں کر پاتی تھیں۔

نکولائی دوم خود بھی منکسرالمزاج شخص تھے۔ ان کے لیے اقتدار دراصل خود کو منوانے کی بجائے بس ایک کام تھا۔ وہ کنبے کی کسی بھی سرگرمی میں کار سرکار کو فراموش کر دیا کرتے تھے اور کنبے کی چھوٹی چھوٹی دلچسپیوں کو اطمینان کے ساتھ زیادہ اہمیت دیا کرتے تھے۔ نکولائی اور الیکساندرا بہت زیادہ وقت اکٹھے بسر کرنے کو پسند کرتے تھے: پڑھتے تھے، باتیں کرتے تھے، عبادت کرتے تھے اور بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ ممکن ہے کہ قسمت نے ان کے ساتھ دغا کیا ہو لیکن اس سے پہلے انہیں، موت کی گھڑی آنے تک اپنے بہت سے بچوں اور نواسے نواسیوں کے ساتھ وقت بتانے کا موقع ملتا رہا تھا۔ بادشاہوں کے کام بہت تلملا دینے والے ہوتے ہیں۔ کارسرکار اتنے دشوار ہوتے ہیں کہ کنبے کی خوش بختی کی دیواروں کے پیچھے پناہ لینے کی اجازت نہیں دیتے۔

ان کے دکھ بھرے انجام کی پیشین گوئی بہت پہلے سے کر دی گئی تھی۔ اس پراسرار تاریخ کا آغاز نکولائی کے سکڑدادا شہنشاہ پاول اؤّل کے عہد میں ہوا تھا۔ بہت سے ماہرین اس معمّہ خیز تاریخ کو مشکوک قرار دیتے ہیں لیکن شاہی خاندان کے اکثر اراکین اسے درست خیال کرتے۔ کہا جاتا ہے کہ اٹھارویں صدی کے اواخر میں میں ہابیل نام کا ایک راہب ہوا کرتا تھا جس میں مستقبل کو دیکھنے کی صلاحیت تھی۔ شہنشاہ پاویل اوّل سے ذاتی ملاقات میں اس نے رومانوو خاندان کے خاتمے اور روس میں ہولناک زمانوں کے بارے میں بتا دیا تھا کہ جب ”خون کے دریا بہیں گے اور بھائی بھائی کے خلاف ہو جائے گا۔“

شہنشاہ پاول اول نے اس پیشین گوئی کو لکھ کر ایک لفافے میں ڈال کر اپنی مہر لگا کر ہدایت کر دی تھی : ”میری اولاد میرے مرنے کے ایک سو سال بعد اس لفافے کو کھولے۔“ پاویل اوّل گیارہ اور بارہ مارچ 1801 کی درمیانی رات کو اس جہان سے سدھار گئے تھے۔ ان کے نامے کا مہر بند لفافہ شاہی دربار کے ایک خصوصی کمرے میں محفوظ تھا۔ رومانوو خاندان کے تمام حکمرانوں کو اس کے بارے میں علم تھا لیکن کسی نے جد امجد کی حکم عدولی نہیں کی تھی۔

نکولائی دوم کو ہی ایک سو سال کے بعد 1901 میں اس پراسرار خط کو کھولنا اور اس میں تحریر عقدے کو بغور پڑھنا تھا۔ بارہ مارچ 1901 کی صبح کو بادشاہ اور ملکہ بہت ہشاش بشّاش تھے۔ وہ شہنشاہ پاویل اوّل کے محل میں جانے کے لیے تیار ہوئے تھے تاکہ ایک صدی کے راز کو فاش کریں۔ وہاں جانے کی خاطر انہوں نے تہوار کی مانند تفریح کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ جب وہ گئے تھے تو خوش تھے لیکن لوٹے تو فکر مند اور پریشان تھے۔ اس کے بعد 1918 میں زار نے یاد کیا تھا کہ یہ تمام سال ان کے لیے ذاتی طور پر، رومانوو شاہی پیڑھی اور خود روس کے لیے کس قدر اتھل پتھل کر دینے والے رہے تھے۔

نکولائی اور الیکساندرا کی باہمی خوش بختی کا ایک اور امتحان تخت کے جانشین کا نہ ہونا تھا۔ روس کی روایات کے مطابق جانشیں صرف لڑکا ہو سکتا تھا۔ جب ملکہ عظمٰی نے یکے بعد دیگرے بیٹیوں کو جنم دینا شروع کیا تو زار کے کنبے اور متعلقین میں پریشانی اور بے چینی پائی جانے لگی تھی۔ اولگا، تاتیانا، ماریا، انستاسیا دلکش لڑکیاں تھیں مگر سب کو بچے کی امید تھی جو پیدا نہیں ہو رہا تھا۔ قسمت کے اس کھیل میں کسی کا دخل نہیں تھا۔

مگر اس وجہ سے الیکساندرا میں بیماری کی حد تک صوفی دوستی پیدا ہو چکی تھی۔ بتدریج محل کی تمام زندگی اسی کے گرد گردش کرنے لگی تھی۔ اب خود نکولائی کا ہر قدم آسمانی عنایت کی جانب اٹھتا تھا، کار سرکار بھی بچے کی پیدائش نہ ہونے کے رنج سے متاثّر ہونے لگے تھے۔ بیوی کا شوہر پر اثر بڑھتا چلا گیا تھا۔ نکولائی اپنی تمام ظاقت کے بل پر بیوی کو پرسکون کرنے کی کوششیں کیا کرتے تھے۔ ان کے ہمراہ راہب خانوں میں جاتے تھے اور بہت زیادہ دعاؤں میں شریک ہوتے تھے۔ پھر دیر سے متوقع معجزہ ہو ہی گیا، جانشین الیکسی نے دنیا میں آنکھ کھول لی تھی۔

مگر بچے کی پیدائش سے زار کے کنبے میں پریشانی نے گھر کر لیا تھا۔ بچے کو خطرناک وراثتی مرض ہیموفیلیا لاحق تھا۔ اس مرض میں رگوں اور شریانوں کی دیواریں کمزور ہونے کے باعث ادھڑ جاتی ہیں اور خونریزی شروع ہو جاتی ہے۔ بدبختی کی اس علامت کے پہلے آثار ہویدا ہونے کے وقت پہ ہی پیٹربرگ میں گریگوری راسپوتین پہنچا تھا۔ اس پراسرار تاریخی شخصیت کے بارے میں ہزاروں صفحات لکھے گئے ہیں۔ بلاشبہ غیر روایتی علاج کے راز بھرے طریقے کی صلاحیت اور پراسرار شخصیت کے بل پر اس نے حکمران کی یہ سوچ پڑھ لی تھی کہ خصوصی مشن رکھنے والا یہ شخص ”اتفاقاً“ نہیں آیا بلکہ خدا نے اسے تخت روس کے جانشین کو بچانے اور زندہ رکھنے کے لیے بھیجا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق، راسپوتین بچے کے سامنے کھڑے ہو کر عمل تنویم کے ذریعے اس کی خونریزی کو روک سکتا تھا۔ اس لیے مرض کے خطرناک مرحلوں وہ آخری امید بن جاتا تھا کہ وہ زار کے جانشین بچے کو بچا لے گا۔

زار کے بچے پیار اور خیال رکھے جانے کی فضا میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ بہت اچھے تھے صرف دیکھنے میں ہی نہیں بلکہ اپنی روحانی عادتوں کی وجہ سے بھی۔ جب پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تھی تو ملکہ زارینا نے اپنی چاروں بچیوں کے ہمراہ فلاحی کاموں میں شریک ہونا شروع کر دیا تھا۔ ملکہ عظمٰی اور ان کی دو بڑی بیٹیاں نیک کام کے طور پر جراحوں کی معاون نرسیں بن گئی تھیں۔ سپاہیوں کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ یہ شفیق نرسیں کون ہیں جو ان کے زخموں پر، جو اکثر پیپ بھرے اور بدبودار ہوا کرتے تھے، اتنی شفقت سے پٹیاں باندھ رہی ہیں۔ زار نکولائی دوم کہا کرتے تھے : ”جس شخص کا معاشرے میں جتنا بلند مقام ہو اسے اتنی ہی زیادہ دوسروں کی مدد کرنی چاہیے اور کبھی اپنے مقام کا احساس نہیں دلانا چاہیے۔“

جنگ کے دوران نکولائی اور الیکساندرا بہت دیر تک ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکے تھے۔ اپنے شوہر کے یوم پیدائش کے موقع پر الیکساندرا نے انہیں محاذ پر خط لکھ بھیجا تھا: ”میں رو رہی ہوں ایک بڑے بچے کی مانند۔ مجھے اپنے سامنے آپ کی اداس آنکھیں دکھائی دے رہی ہیں جو بالکل مہربان ہیں۔ میں کل کے لیے آپ کو اپنی پیار بھری خواہشات ارسال کر رہی ہوں۔ اکیس سال میں ہم اس دن پہلی بار ایک دوسرے سے دور ہوئے ہیں۔ میں زندہ ہوں اس لیے سب یاد ہے۔ میرے پیارے آپ نے مجھے کس قدر خوش بختی اور کتنی محبت دی ہے۔“

نکولائی اور الیکساندرا کے آخری سال بہت دشوار اور دکھ بھرے تھے۔ لوگوں نے پہلے ملکہ عظمٰی پر جرمن نواز ہونے کے الزامات کے اشارے کیے تھے اور پھر جلد ہی کھلے عام ”جرمن عورت سے نفرت“ کا اظہار کرنے پر تل گئے تھے۔ جبکہ اصل میں الیکساندرا نے دل سے اپنے خاوند کی مدد کی تھی۔ انہوں نے خود کو دیے گئے ملک کو اپنا گھر مان لیا تھا اور گھر کے لوگ انہیں سب سے زیادہ عزیز تھے۔

ممکن ہے پہلی جنگ عظیم میں روس کی شکست کے باعث ہی انقلابی اصلاحات کی وجہ سے نکولائی دوم کو تاج و تخت سے ہاتھ دھونے پڑے ہوں۔ زار کے خاندان کو پیٹربرگ سے شہر توبولسک منتقل کر دیا گیا تھا اور پھر ییکاترن برگ جہاں انہیں خدام کے ہمراہ نظر بند کر دیا گیا تھا۔ اپنی کوششوں کے مطابق سابق زار کی ایک ہی خواہش تھی کہ اپنی پیاری بیوی اور بچوں کو بچا لیں مگر معجزہ نہیں ہو سکا تھا۔

سولہ اور سترہ جولائی کی درمیانی شب دو بجے قیدیوں کو جگایا گیا تھا اور حویلی کے نیم تہہ خانے میں جانے کا حکم دیا گیا تھا جیسے کہ انہیں کسی دوسرے شہر منتقل کیا جانا ہو۔ نکولائی بیمار بچے کو اپنے بازووں میں اٹھا کر لے گئے تھے۔ ۔ ۔ ان کے پیچھے گردن بلند کیے ہوئے الیکساندرا تھیں۔ ۔ ۔ جلادوں کی گواہی کے مطابق ملکہ عظمٰی اور بڑی بیٹیاں مرنے سے پہلے اپنے بدن پر صلیب کا نشان بنانے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔

پہلے بادشاہ اور ملکہ کو گولیاں ماری گئی تھیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کو مرتے نہیں دیکھا تھا جن کو سنگینوں سے مارا گیا تھا۔ جوانی میں نکولائی اور الیکساندرا نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے اور ایک ہی دن مرنے کا عہد کیا تھا۔ ایسا ہی ہوا۔ وہ ہمیشہ کے لیے اکٹھے ہو گئے اور محبت اور وفاشعاری کا نشان بن گئے۔ ییکاترن برگ میں داغی گئی گولیوں نے روس میں رومانوو خاندان کے تین سو سالہ عہد کا خاتمہ کر دیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •