کیا مہوش حیات پر تنقید جائز ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وجاہت مسعود صاحب کا ایک بلاگ پڑھ کر پتا چلا کہ معروف اداکارہ مہوش حیات ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں، انہوں نے اپنی چند تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں تو پرستاروں نے ان کے لباس کی وجہ سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ جان علی نامی شخص نے کہا کہ ”مسلمان خواتین کو ننگی ٹانگیں اور ننگے بازو دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔“ یقیناً وہ اور ان جیسے کئی پرستار مہوش حیات کا لباس دیکھ کر غیرتِ قومی سے زمین میں گڑ گئے ہوں گے۔ اقبال کے ان شاہینوں کے لیے ایک لائک تو بنتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مہوش حیات نے ایسا کیوں کیا؟ کیا انہیں علم نہیں کہ وہ پاک سر زمین کی پروردہ ہیں۔ پاکستان کا مطلب ہی پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ ہے۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ اداکاری جیسا بے ہودہ کام کرنے کی بجائے ڈاکٹر بن کر قوم کی خدمت کرتیں۔ بھلے ہی انہیں اس خدمت کا موقع دو چار سال ہی ملتا کیوں کہ شادی ہونے کے بعد زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ گھر میں رہ کر اپنے خاوند کی خدمت کرتیں اور نیک بیوی بن کر زندگی بسر کرتیں۔ اقبال نے عرفانِ خودی کا درس ضرور دیا تھا لیکن ان کے مخاطب قوم کے شاہین تھے قوم کی چڑیاں نہیں۔ چڑیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن انہیں بابل کے گھر سے اڑ جانا ہوتا ہے لہٰذا اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر ان سے کام لینا ان کا دردِ سر نہیں۔

یہ فلم، موسیقی اور فنونِ لطیفہ کے دیگر ذرائع ان قوموں میں پروان چڑھتے ہیں جو اس فانی دنیا سے دل لگاتے ہیں اور ہنس کھیل کر عمرِ عزیز گنوا دیتے ہیں۔ ہم ایسے ناہنجار نہیں ہیں۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس دنیا کی زندگی ہمارے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اصل زندگی موت کے بعد شروع ہوتی ہے۔ اسی لیے ہم ہمہ وقت اس زندگی سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ دوسروں کی بھی مدد کرتے ہیں کہ جلد از جلد اس زندگی کی قید سے رہا ہو کر اصل زندگی کا آغاز کر سکیں۔

راہِ راست سے ’بھٹکے‘ ہوئے لوگ اس دنیا سے دل لگانے کی وجہ سے اسی دنیا کو بہتر بنانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ کبھی کوئی ایسی ایجاد کرتے ہیں جس سے انسانوں کو اس دنیا میں سہولت ملے۔ کبھی کوئی ایسی دوا بنا ڈالتے ہیں جو کسی مہلک مرض سے انسان کو نجات دے کر اسے تندرست کر دے۔ کس قدر احمق ہیں اتنا بھی نہیں جانتے کہ کچھ بھی کر لیں آخر تو مرنا ہے۔ پھر کوئی جلدی مر جائے یا دیر سے مرے اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ بلکہ وہ خواہ مخواہ انسانوں کا قیام اس دنیا میں طویل کر کے انہیں اصل زندگی سے دور کرنے کے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔

ہم اس زندگی کو دوسری دنیا میں جانے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں اور پوری سنجیدگی سے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لیے تو ہم ہر وقت سیرئیس رہتے ہیں۔ آپ نے کبھی دیکھا ہے کسی پاکستانی کو ہنستے ہوئے؟ گھروں میں، سڑکوں پر، دفاتر میں، ٹاک شوز میں، سوشل میڈیا پر ہر طرف غم و غصے سے بھرے لوگ نظر آتے ہیں۔ دوسروں کو برا بھلا کہتے ہوئے، دوسروں پر تنقید کرتے ہوئے۔

اسی کی دہائی کے بعد سے تو ہم نے مکمل طور پر خود کو بدلنے کی سعی کی ہے۔ ہنسی مذاق، میلوں ٹھیلوں اور کھیل تماشوں سے مکمل طور پر کنارہ کش ہونے کی کوشش میں ہیں۔ اسی لیے تو ہماری فلم انڈسٹری اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے مگر بڑی ڈھیٹ ہے ابھی تک اس نے اپنی آخری ہچکی نہیں لی۔ موسیقی بھی بسترِ مرگ پر ہے۔ ڈراما آئی سی یو میں ہے۔

بہت جلد کوئی مسیحا چہرے پر خوشی کی ضیا بکھیرتے ہوئے فلم، موسیقی اور ڈرامے کی موت کا اعلان کردے گا۔ مسئلہ یہ کہ مہوش حیات جیسے زندگی سے بھرپور نوجوان ان دم توڑتے مریضوں کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ابھی تک زندہ ہیں۔

مہوش حیات کو اگر امریکہ جانے کا موقع مل ہی گیا تھا تو انہیں چاہیے تھا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کافروں کو نیکی اور پرہیز گاری کا درس دیتیں۔ شاید ان کی وجہ سے کوئی بھٹکا ہوا راہِ راست پر آ جاتا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے پہلا قدم یہ تھا کہ خود بھی ایسا لباس زیبِ تن کرتیں جو انہیں مکمل طور پر ڈھانپ سکتا۔ افغانی برقعہ اولین چوائس بن سکتا تھا مگر افسوس کہ انہوں نے پہلی شرط ہی پوری نہیں کی الٹا ان کے رنگ میں رنگ گئیں۔

کیا انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ اس طرح کا لباس نیکوکار اور پرہیزگار جوانوں اور بوڑھوں کے جذبات برانگیختہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ وہ بوجوہ اپنے جذبات پر قابو پانے کی صلاحیت نہیں رکھتے چناں چہ قوم کی ہر مہوش حیات کو ان کی نگاہوں سے چھپ کر زندگی بسر کرنی چاہیے۔

مہوش حیات کے ذہن میں شاید یہ خیال بھی رہا ہو گا کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کے لئے آزاد ہیں۔ یہ خیال نہایت لغو ہے۔ قوم کی بیٹیوں نے کیا پہننا ہے، کیا بولنا ہے اور کیا کرنا ہے اس کا فیصلہ ہم نے کرنا ہوتا ہے۔ اس میں برا ماننے کی کوئی بات نہیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان کی عقل ناقص ہوتی ہے اس لئے وہ اس قابل نہیں ہوتیں کہ فیصلہ کر سکیں۔

اس تناظر میں مہوش حیات نے جو کیا اس پر تنقید کرنا جائز ہے۔ ہم نہ صرف اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں بلکہ حکومتِ وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عمرو عیار کو ڈھونڈ کر اس کی زنبیل سے سلیمانی چادریں نکال کر تمام اداکاراؤں کو فراہم کی جائیں تاکہ مستقبل میں کسی کی ایسی تصاویر منظر عام پر نہ آئیں جس میں وہ نظر آ رہی ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •