رتی گلی کا رومانس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رتی گلی دیوِی ہے۔ روپ کے دیوتا کی سب سے چہیتی بیٹی۔ نیلم کے بازار حُسن کی مَلکہ۔

دَواریاں سے بائیں ہاتھ کی جانب اوپر کو مُڑیں تو مسلسل پتھریلی ڈھلوان آتی ہے۔ سترہ اٹھارہ کلو میٹر کا سفر قریباً چار گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ یہ ساری مسافت جِیپوں پر بیٹھ کر یا شاید اچھل اچھل کر گزاری جاتی ہے۔ ایسا ہی ہے رَتی گلی کے محل سرا کا راستہ، خوب رو رقاصہ کا مسکن۔

وادی نیلم روپ نگر ہے اور رتی گلی اِس کی رانی۔ رانی کے محل کے راستے میں آپ کو جگہ جگہ پہرے دار ملیں گے۔ کہیں گُنگُناتے جَھرنے تو کہیں کرومائیٹ کے پہاڑ۔ کہیں حد نظر سبزہ زار تو کہیں فلک بوس اَلپائن جنگلات۔ یہ سب آپ کی توجہ بانٹنے کی کوشش کریں گے۔ آپ کو تھکائیں گے مگر آگر آپ کا جذبہ سچا ہے تو با آداب جھک کر آپ کی سیوا کریں گے، میٹھا پانی پلائیں گے، ٹھنڈی ہوا کِھلائیں گے اور آپ کو رتی گلی کا راستہ دکھائیں گے۔

میں، زین، شقائق اور بہرام راجہ جب رتی گلی سَر پہنچے تو آسمان اچھا خاصہ سُرمئی ہو چکا تھا۔ جھیل کی فصیلیوں کے پیچھے سے چاند کی کِرنیں ایک ایک کر کے سامنے آ رہی تھیں۔ ہم نے مشورہ کیا کے رتی گلی کا رقص دیکھنا ہے تو نصف شب سے بہتر کوئی پہر نہیں۔ ہم نے توانائیاں جمع کیں اور چُستی سے جھیل کی سامنے کھڑے گَٹیاں پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دیا۔ قریبا اڑھائی گھنٹے میں ہم گٹیاں پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھے ہانپ رہے تھے۔

رتی گلی دن بھر بے نیاز پڑی رہتی ہے، لوگ آتے ہیں اس کی حسن سے آنکھیں خیرہ کرتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔ شام کو جب اُفق لال رنگ سے بھر جاتا ہے تو رتی گلی کے جسم میں لرزش ہوتی ہے مگر برابر سوتی رہتی ہے۔ دھیرے دھیرے چاند اُگنے لگتا ہے۔ پہاڑوں کی درزوں سے اس کی کرنیں چپکے چپکے رتی گلی کو دیکھتی ہیں اور اسے گدگدانے لگتی ہیں۔ رتی گلی بیدار ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ کرنیں جوان ہوتی ہیں اور پھر شروع ہوتا ہے ٹین کے سپاہی اور طوائف کا کھیل۔ رومانس کی معراج۔

کِرنیں ٹولیوں کی صورت میں لہروں کا لَمس حاصل کرتی کرنے کو اترتی ہیں اور لہریں شرما کر کلبلانے لگتی ہیں۔ ان میں سرد حرارت پیدا ہوتی ہے اور سنپولیوں کے ایسے کرنوں سے لپٹنا شروع کر دیتی ہیں۔ ایسے میں چاند کی مَسیں بھی بھیگ جاتی ہیں اور وہ رتی گلی کے عین اوپر آ کھڑا ہوتا ہے۔ اس کی کَشَش ثَقل کی حدت بڑھتی ہے اور رتی گلی انگڑائی لے کر چاند کی بانہوں میں اتر آتی ہے۔ پھر ٹین کا سپاہی اپنا ہنر دکھاتا ہے۔ سارا پانی مِلن کے مناظر سے بھر جاتا ہے۔ کرنیں لہروں سے لپٹ رہی ہیں، بوس و کنار چل رہا ہے۔ چاند رتی گلی کی گود میں سر دھرے اپنی بے ترتیب دھڑکن کو درست کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور رتی گلی جذبات کے مارے ہلکورے لے رہی ہے۔

ٹین کے سپاہی کی یہ بَزم رَزم سحر تیسرے پہر تک جاری رہتی ہے۔ پھر اس کی جوانی گھٹنے لگتی ہے۔ اس کی روشنی کی چمک مانند پڑنے لگتی ہے، کرنیں اندھی ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور اس کا پورا بدن ٹوٹنے لگتا ہے۔ دیوی کی گود سے سپاہی اپنا جسم چُھڑا کر بھاگتا ہے اور پہاڑوں کے پیچھے گر کر مر جاتا ہے۔ رتی گلی تِشنہ رہ جاتی ہے۔ ایسے میں اس کے چُور جسم پر نیند کا خمار چڑھنے لگتا ہے اور صبح ہونے سے پہلے ہی طلوع سحر ہے شام قلندر کے مصداق اپنا جسم سمیٹتے ہوئے اوندھے منہ گر کر سو پڑتی ہے۔

اگلے دن لوگ پِھر آتے ہیں، اس کے پامال حسن کی داد دیتے ہیں، کچھ رنگ مزاج بازار حسن کی دیگر فاحشاؤں ہنس راج، سَرل، پَتلَیاں اور کالا سَروں کا رقص دیکھنے کو نکل پڑتے ہیں اور کچھ رتی گلی کے چرن چھو کر ہی قلب و نظر کو سکون دیتے ہیں۔

رتی گلی اس سارے عمل سے بیزار پڑی رہتی ہے، اسے چَنداں فرق نہیں پڑتا۔ اسے بس انتظار رہتا ہے کہ کب سُرمہ پھیلے، چاند کا اگلا جنم ہو اور ٹین کا سپاہی اسے بانہوں میں بھر لے۔

عمار بیگ
بیس کیمپ، رتی گلی سر

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •