میرا کشمیر جل رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گاڑی سڑک پر برق رفتاری کے ساتھ دوڑ رہی تھی۔ گاڑی میں ایک مدھر سا گیت چل رہا تھا۔ ہم کشمیر کی جانب گامزن تھے۔ وہ کشمیر جسے جنت نظیر کہتے ہیں۔ قدرتی حسن سے مالا مال تھا۔ مری کے راستے چلے تو پہلا پڑاؤ مظفرآباد پہ ہوا۔ مظفرآباد سے آگے کا راستہ چھوٹے چھوٹے جھرنوں اور آبشاروں سے بھرا ہوا تھا۔ پہاڑوں سے نیچے جھانکا تو نیلم بہتا ہوا نظر آرہا تھا۔ خوبصورت نیلم پہاڑوں میں گھر کر اور بھی حسین لگ رہا تھا۔ میں تو شاید کشمیر کی خوبصورتی میں کھو ہی گئی تھی۔

ارد گرد کی خبر ہی نہیں تھی۔ بس یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میرے اور نیلم کے درمیان کوئی تیسرا نہیں ہے۔ سبزہ سے ڈھکے ہوئے خوبصورت پہاڑ، قدم قدم پہ بہتے ہوئے جھرنے اور قدرتی چشمے ان کے درمیان لہرا کے بل کھا کے گزرتا ہوا مغرور سا دریائے نیلم۔ دل چاہ رہا تھا وقت یہیں ٹھہر جائے۔ اورمیں ان پہاڑوں میں ہمیشہ کے لیے گم ہوکر بس نیلم کی ہوجاؤں۔ مگر خیر دل نادان تو اور بھی بہت کچھ چاہتا ہے۔ کشمیر کے بارے میں جس نے بھی کہا ہے سچ کہا ہے کہ کشمیر جنت کا حصہ ہے۔

کیونکہ یہ بات تو میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ وہ اس زمین کا حصہ نہیں ہے۔ اور وہ ہو ہی نہیں سکتا۔ دریائے نیلم کی خاص بات یہ ہے کہ وہ کبھی نیلگوں ہوجاتا نیلم جیسا اور کبھی سبز لبادہ اوڑھ لیتا۔ مظفر آباد کے قریب دریائے جہلم جب نیلم سے ملتا ہے تو نیلم بھی گدلا سا ہو جاتا ہے۔ ان خوبصورت آبشاروں اور چشموں سے گزرتے ہوئے، پہاڑوں کا دامن چیر کے بنائی گئی سڑک پر سے ہوتے ہوئے ہم کیرن پہنچ گئے۔

یہ وادی نیلم کا وہ حصہ ہے جو قدرتی حسن سے مالامال ہے۔ قدرتی مناظر کے دیوانے کیرن سے نیچے جا کر نیلم کے بالکل قریب جا پہنچے۔ وہاں سے نیلم بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ اور میں تو ٹھہری ازلوں سے نیلم کی دیوانی سو اس کے بالکل پاس جا بیٹھی۔ نیلگوں نیلم اس کے اطراف سبزہ سے ڈھکے ہوئے پہاڑ۔ دریا کے کنارے خوبصورت رنگ برنگے پتھرنیلم کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے۔ ٹھنڈی ہوا ہڈیوں کو چیرتی محسوس ہو رہی تھی۔ مگر نیلم کے عشق میں وہ احساس بھلا سا معلوم ہو رہا تھا۔

اور میں بھی نیلم کنارے بیٹھ کے اس منظر کو آنکھوں میں سمونے کی کوشس کر رہی تھی۔ دریا کہ ایک طرف آزاد کشمیر اور دوسری طرف مقبوضہ کشمیر تھا۔ ایک دم ایسا محسوس ہوا کہ نیلم کا رنگ بدل رہا ہے۔ اس کے نیلگوں رنگ میں سرخی سی بھرتی جا رہی تھی۔ وہ نیلم جو کچھ دیر پہلے اپنے حسن سے میری آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا وہ بپھرتا جا رہا تھا۔ کانوں میں چیخوں کی آوازسنائی دینے لگی۔ کوئی رو رہا تھا۔ پیچھے پلٹ کر دیکھا تو کٹی پھٹی لاشیں پڑی تھیں۔

خون ہی خون تھا ہر طرف۔ آسمان سرخ ہوتا جا رہا تھا۔ نیلم کنارے پڑے پتھر خون کے رنگ میں رنگے جا چکے تھے۔ پہاڑوں پر موجود درخت انگارہ بن کر ایک ہیبت ناک منظر پیش کر رہے تھے۔ میرے آس پاس خون میں بھری لاشیں تھیں کوئی درد سے کراہ رہا تھا۔ کوئی رو رہا تھا۔ اور کوئی اپنے پیاروں کا بین کر رہا تھا۔ کوئی بھاگتا ہوا مجھ سے ٹکرایا میں نے سنبھالنے کی کوشش کی۔ وہ ایک بوڑھی عورت تھی جن کے بازو پہ گولیاں لگی ہوئی تھیں اور ان کا خون بہہ رہا تھا۔ خون ان کے چہرے پہ بھی آرہا تھا۔

مجھے دیکھ کے چلائی تم؟ تم تو پاکستان ہو نہ؟ وہ دوبارہ چلائی دیکھو دیکھو کشمیر تمہاری شہہ رگ ہے نہ؟ تمہاری شہہ رگ کاٹی جا رہی ہے۔ تم زندہ کیسے ہو؟ مجھے لگا میرا سانس بند ہورہا ہے میری شہہ رگ کٹ گئی تھی درد شدت اختیار کر رہا تھا۔ گھٹن ہورہی تھی میں وہاں سے بھاگی تو جموں کشمیر کی گلیوں میں جا پہنچی۔ بھارتی فوج کی بندوقیں آگ اگل رہی تھیں۔ بھوک سے بلکتے بچے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے رہے تھے۔

مرنے والوں کودفنانے کا وقت کہاں تھا۔ لاشوں سے تعفن اٹھ رہا تھا۔ آہوں اور کراہوں کے بیچ میں چلاتی ہوں کوئی تو بچائے میرا کشمیر جل رہا ہے۔ دور سے کوئی کراہتا ہے یہ کشمیر نہیں ہے یہ کربلا ہے۔ میں سر جھٹکتی ہوں نہیں، نہیں۔ اوپر آسمان کی طرف دیکھتی ہوں سرخ انگارہ آسمان میرے اطراف میں لاشوں کا ڈھیر بھوک اور پیاس سے بلکتے ہوے لوگ۔ میں زور سے چلاتی ہوں ہاں ہاں یہ کربلا ہے یہ کربلا ہی تو ہے۔ ہاں میرے کشمیر پہ کربلا کا سایہ ہو گیا ہے۔

میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے میں دوبارہ چلاتی ہوں ارے یہ کربلا ہی تو ہے جہاں حق پہ ہونے کہ باوجود خون بہایا جا رہا ہے۔ تبھی کسی کی آواز سنائی دیتی ہے ہاں ہم کربلا ہی تو دہرا رہے ہیں۔ دیکھو تمہارا کشمیر جلارہے ہیں قہقہہ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ میں کشمیری خون میں نہائی ہوئی تھی۔ پاکستان کی شہہ رگ کٹ رہی تھی۔ کشمیری اور پاکستانی خون ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہو کر بہہ رہا تھا۔ ایک دم میری نظر ایک بچی پہ پڑی جو خوفزدہ سی ایک کونے میں دبکی ہوئی تھی میں بھاگ کر اس کے پاس پہنچی اس نے اپنی مٹھیاں زور سے بند کی ہوئی تھیں۔

اس کی بند مٹھیاں کھولیں تو اس میں پاکستان کی جھنڈی دبی ہوئی تھی جو خون میں بھیگی ہوئی تھی وہ چلائی کشمیر بنے گا پاکستان۔ میرے آنسو اور شدت سے بہنے لگے اس خون کی وادی میں لاشوں کے درمیان خون میں لت پت میں چلاتی ہوں کوئی تو روک لو میری جنت جل رہی ہے میری شہہ رگ کٹ رہی ہے میرا کشمیر جل رہا ہے۔ میرا کشمیر جل رہا ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میری آواز بند ہوگئی ہے۔ بس اس کے ساتھ ہی ایسے لگا جیسے مجھے ہوش آگیا ہے میری آنکھ کھل گئی میں بہت گہری نیند سے جاگی تھی۔ میرا چہرہ آنسووں سے بھیگا ہوا تھا۔ اور میں منہ ہی منہ میں بڑ بڑا رہی تھی میرا کشمیر جل رہا ہے۔

جب ڈھل کے گہرے پانی میں
کشتیاں چلتی پھرتی تھیں
تب نیلم کی اس وادی میں
قہقہے گونجا کرتے تھے

ٹھنڈی ٹھنڈی سبک ہوا میں
پریاں اڑتی پھرتی تھیں
ہر سو پرندے چہکا کرتے تھے
تا حد نظر پھول مہکا کرتے تھے

دور کھڑے چنار کے پیڑ
ہوا میں جھوما کرتے تھے
وادی میں ننھے منے بچے
بے خطر گھوما کرتے تھے

تب ہر سو امن و سکون تھا
اور گنگا جمنا بھی پوترتھے
مگر یہ گئے دنوں کی کہانی ہے
یہ داستان کچھ بہت پرانی ہے

یہ سب تواب اک خواب ہوا
اور خواب بھی وہ جو عذاب ہوا
اب نہ ڈھل میں نیلا پانی ہے
نہ کشتیاں اس میں تیرتی ہیں

اب ہر سو لہو کی لالی ہے
اور لاشیں بکھری رہتی ہیں
معصوم قہقہے ہوا میں تحلیل ہوئے
آہوں چیخوں میں تبدیل ہوئے

پریاں سرعام پامال ہوئیں
چرند پرند بھی مفقود ہوئے
چنار بھی رو رو ہار گئے
ہریالی اپنی بھی وار گئے

جب سے جموں کی وادی میں
انسانیت کے یہ بیوپار گئے
ہر شے سے خوف ٹپکتاہے
ہر سمت اداسی چھائی ہے

جانے اس سندر وادی پہ
کیسی یہ آزمائش آئی ہے
اب نہ رہی وہ وادی باقی
نہ ہی اس کے رہنے والے

رہ گیا تو صرف ظلم باقی
اور اس کے رہنے والے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •