ریجنل جماعتیں متبادل قیادت بن سکتی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک وقوم کی ترقی اور تنزلی قیادت کے باعث ہوتی ہے کہ قیادت وژنری اورباصلاحیت ہوتو ملک ترقی کرتے ہیں اور قو میں عروج حاصل کرتی ہیں۔ قیادت سے یہاں مراد ٹیم اور ٹیم لیڈر سے ہے کسی فرد واحد کی بات نہیں ہے۔ وطن عزیز اس وقت قیادت کے شدید بحران کا شکار ہے۔ قیادت کا بحران ہی سیاسی، معاشی اور عدم استحکام جیسے بحرانوں کو جنم دیتا ہے۔ ملک و قوم کو آج جو بھی چینلجز درپیش ہیں وہ قیادت کی بحرانی کیفیت کے باعث ہیں۔

سیاسی جماعتیں، سیاسی تنظی میں قیادت کی آبیاری کرتیں ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے یوتھ ونگ، لیبر ونگ اور طلبہ تنظی میں نئی قیادت کی نرسریوں کا کام کرتی ہیں۔ 1999 کے بعد جنرل پرویز مشرف کی آمریت اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت دو ایسے حادثات پیش آئے کہ ملک آج تک سنبھل نہیں پایا ہے۔ پرویز مشرف آمریت میں سیاسی جماعتوں کی چیر پھاڑ کرکے نئے گروپ بنائے گئے۔ احتساب کے نام سیاستدانوں کو بدنام کیا گیا۔ سیاست نہیں ریاست بچاؤکے نعرے کے ساتھ اس لوگ میدان میں اترے جنہوں نے آمریت کی حمایت کی اور جمہوریت پر لعنت بھیجتے رہے ہیں۔

دوسری جانب محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے سیاست و جمہوریت یتیم ہوکر رہ گئی۔ پیپلزپارٹی آصف زرداری کے نرغے میں آکر بنیادی نظریات اور فلسفے سے دور ہوتی گئی اور آج یہ حالت ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں کوئی فرق باقی نہیں رہا ہے۔ اچھے لوگ سیاست سے کنارہ کشی کرتے ہیں تو برے لوگ سیاست میں وارد ہوتے ہیں۔ یہی ہوا۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی سیاسی ساکھ ختم ہونے پر تحریک انصاف ابھر کر سامنے آئی اور سیاسی قدروں، نظریات کو روندتے ہوئے گالی کی سیاست کے گھوڑے پر سوار اقتدار تک پہنچ چکی ہے۔

اقتدار میں آنے کے بعد پی ٹی آئی کی اصلیت بے نقاب ہوئی ہے کہ عمران خان سمیت حکمران جماعت میں کسی کے پاس کوئی وژن، کوئی نظریہ، کوئی پروگرام اور نظام نہیں ہے۔ پی ٹی آئی بطور جماعت بھی کہیں اسٹنڈ نہیں کرتی ہے۔ غبارے سے ہوا نکل چکی ہے۔ عمران خان جس تیزی کے ساتھ بے نقاب ہوئے ہیں شاید ہی کسی کو اندازہ تھا کہ پی ٹی آئی ہوا سے بھری ٹیوب ہے۔ زیادہ تفصیل میں جانے کی بجائے یہ کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ پاکستان اس وقت سیاسی قیادت سے محروم ہے۔

ایک پرعزم اور نئی متبادل کی قیادت کی ضرورت ہے جو ملک کی معاشی، سیاسی، سماجی ترجیحات کا نہ صر ف تعین کرے بلکہدرست بھی کرے۔ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے لئے جذباتی نوعیت کا ہے۔ پوری قوم کشمیر پر یکساں موقف رکھتی ہے۔ کشمیر کے ایشو پر سیاسی قیادت کی عدم موجودگی کے باعث بے یقینی اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ موجودہ دورکی سیاسی جماعتیں کشمیر ایشو پر کوئی خاطر خواہ پوزیشن لینے میں ناکام رہی ہیں۔ اگر پاکستان کے عوام کی بعض پرتیں بلاول اور مریم میں قیادت دیکھ رہی ہیں تو یہ ذہنی غلامی کی بدترین مثال ہوگی۔

قیادتوں کی تعمیر کا مطلب یہ نہیں کہ نواز شریف اور زرداری کے بچے پہلے دن سے ہی اپنے بڑوں کی پارٹیوں کی سربراہی کریں۔ ایسا تجارتی اور کاروباری اداروں میں ہوتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں میں پہلے کارکن کی حیثیت سے کام کا آغاز کرنا پڑتا ہے۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں سیاسی کلچر ہی موجود نہیں ہے۔ پسندناپسند، تعلق داریاں اوررشتہ داریاں دیکھی جاتی ہیں۔

عہد حاضر کی سیاسی جماعتیں سیاست کے بنیادی اصولوں کے برعکس ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ریجنل سیاسی جماعتیں، چھوٹی سیاسی گروپ انتخابی اتحاد کی صورت میں میدان عمل میں آئیں اور ملک وقوم کو متبادل قیادت فراہم کریں۔ بصورت دیگر پھر کوئی مصنوعی قیادت ابھارئی جائے گی یا پھر مریم اور بلاول کے گیت گانے پڑیں گے یعنی نواز شریف، زرداری اور عمران خان کسی نئی شکل میں نمودار ہوتے رہیں گے۔ عوامی حقوق، ملکی ترقی اور قومی مسائل کے حل کے لئے جب تک عوام متبادل کے طور پر سامنے نہیں آتے ہیں تماشا لگے رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •