کشمیرپر پاکستان کا ایک بڑے اقدام کا اعلان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان کا یہ بیان پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان سے آزادی کی مسلح جدوجہد سے مکمل لاتعلقی کے اعلان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ جس میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ پاکستان سے مقبوضہ کشمیر جاکر لڑنے والا پاکستان اور کشمیریوں دونوں کا دشمن ہوگا جس کو جواز بنا کر بھارت کو کشمیریوں پر مظالم اور پاکستان کے خلاف الزام تراشی کا موقع ملے گا۔ یوں پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں تقریبا تیس سال سے جاری مسلح جدوجہد آزادی کی حمایت کا خاتمہ کیا گیا ہے۔

طورخم میں ایک تقریب سے خطاب میں کشمیر کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت بری طرح پھنسا ہوا ہے، رہی سہی کسر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نکال دوں گا، جب تک مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال اور کرفیو کا خاتمہ نہیں ہوتا، مودی سرکاری سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، کشمیر کا کیس اقوام متحدہ میں اس طرح پیش کروں گا جو آج تک کسی نے نہیں کیا۔

سالہا سال سے انڈیا کی یہ کوشش چلی آ رہی ہے کہ پاکستان کو کشمیر کی تحریک مزاحمت میں لاتعلق رہنے پر مجبور کر دیا جائے۔ یوں پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی تحریک مزاحمت کے سیاسی، عسکری اور سفارتی تین شعبوں میں سے عسکری شعبے میں حمایت ختم کر نے کا اعلان کرتے ہوئے اس جانب پیش رفت کی گئی ہے۔ بلاشبہ وزیر اعظم عمران خان کا یہ اعلان فوج کی کشمیر پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ بھی ہے۔

پاکستان انتظامیہ کے اس بڑے فیصلے سے آزاد کشمیر میں موجود کشمیریوں کی مسلح جدوجہد کے کمانڈروں کے مستقبل پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ان کشمیری فریڈم فائٹرز کے حوالے سے پاکستان انتظامیہ کیا فیصلہ کرتی ہے، اس کے تعین اور اعلان کا مرحلہ اب زیادہ دیر کا معاملہ معلوم نہیں ہوتا۔ مختلف حلقوں کی طرف سے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سابق سول حکومتوں کی ایسی پالیسی کو فوج کی طرف سے ناپسندیدہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔

یہ بات بھی تعجب خیز ہے کہ کشمیر کے حوالے سے ملکی سلامتی و بقاء سے مربوط چیلنجز کا سامنا کرنے میں تو کمزوری کی مجبوری کا اظہار بار بار کیا جا رہا ہے لیکن امریکہ کی طر ف سے تفویض کردہ ذمہ داریوں کی ادائیگیوں کے حوالے سے امریکہ پاکستان سے اب تک خوش ہی چلا آ رہا ہے۔ یعنی امریکی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی راہ میں ہمارے ملک کی کوئی بھی کمزوری آڑے نہیں آ سکتی۔ چاہے وزیر اعظم عمران خان کو اپنے موقف کے برعکس فیصلے اور اقدامات کرنے پر ”مسٹر یو ٹرن“ کہا جاتا ہو لیکن حقیقت یہی ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر سے متعلق جو قدم بھی پیچھے ہٹاتا ہے پھر پاکستان کو اس پسپائی سے ایک قدم بھی آگے آنے کی اجازت نہیں ملتی۔ کیاہم آزاد اور خود مختار ملک ہیں؟ یقینا نہیں۔ ملک کی پالیسیاں کون بناتا اور چلاتا ہے؟ کیا کوئی ان سے ملک کو سنگین خطرات کی طرف دھکیلنے والے اقدامات پر باز پرس کر سکتا ہے؟ یقینا نہیں کیونکہ ملکی حاکمیت چلانے والے ملک کے اندر کسی قسم کی جوابدہی سے ماورا ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان اگر کشمیر کے سیاسی حریت پسندوں کی مدد و حمایت میں نمایاں اضافے کے ساتھ ان کو کنٹرول کرنے، کشمیری تنظیموں کو اپنے احکامات پر چلا ئے جانے کا سلسلہ ختم کرنے کا اعلان بھی کر سکیں تو یہ حقیقی طور پر کشمیریوں کی تحریک آزادی کی بہت بڑی مدد ہو گی۔ حریت پسند کشمیریوں کی بھر پور مدد و حمایت، معاونت پاکستان کی ذمہ داری ہے لیکن کشمیری حریت پسندوں کو کنٹرول کرتے ہوئے ان پر اپنی کمانڈ مسلط کرناکشمیریوں کی سیاسی جدوجہد کے لئے تباہ کن ہے۔

مانا کہ ملکی کمزوریوں کی پیش نظر موجود ہ حکمت عملی ہی بہتر ہے لیکن کشمیری حریت پسندوں کو اپنے فیصلے خود کرنے اور آزاد کشمیر حکومت کو اس کے قیام کے مقصدکے مطابق کردار دینے سے ہی واضح ہو سکتا ہے کہ پاکستان انتظامیہ کے کشمیر کے حوالے سے ”یوٹرن“ کے فیصلے صرف انڈیا کے حق میں ہی نہیں بلکہ کشمیریوں اورپاکستان کے حق میں بھی نئے فیصلے شامل ہیں۔ اگر مسئلہ کشمیر پر مزید پسپائی کے حالیہ اقدامات کے تباہ کن نتائج کے کاؤنٹر کے طور پر کشمیریوں پر پاکستان کے اعتماد کو بہتر بنانے سے متعلق درج بالا اقدامات نہیں کرتا تو یہ پاکستان کی طرف سے کشمیر پر فیصلہ کن پسپائی کے مترادف ہو گا۔

آج اس حقیقت کا اعتراف کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ پاکستان اسٹیبلشمنٹ نے کشمیر کے حوالے سے قبائلی حملے سے لے کر آج تک ہر قومی مقصد پر مبنی اقدمات کسی جرم گناہ کی طرح خفیہ طور ادا کیے ہیں جس کا اقرار بھی نہیں کیا جا سکتا جبکہ انڈیا شروع سے غلط، ناجائز اقدامات کو بھی جائز قرار دیتے ہوئے کھلے عام جارحانہ انداز اپنائے نظر آتا ہے۔

کاش کہ پاکستان میں سویلین بالادستی قائم رہتی، غاصبانہ حاکمیت پاکستان کا مقدر نہ بنتی تو آج پاکستان اس طرح کمزور، مجبور، بے بس اور لاچار نہ ہوتا بلکہ انڈیا کی جارحانہ پالیسی کا چیلنج قبول کرنے کی طاقت کا حامل ہوتا۔ کاش ایسا ہوتا تو آج پاکستان انڈیا کے سامنے بیچارگی کے عالم میں نہ ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •