ملک محفوظ ہاتھوں میں دینا ہوگا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چلیں چند لمحوں کے لیے مان لیا۔

عمران خان ایک فلاپ سیاست دان ہے۔ اسے عالمی امور کی سمجھ بوجھ ہے اور نہ ہی اسے حکومت کرنا آتی ہے۔ یہ بھی مان لیا کہ عمران خان نے اس قوم سے جو وعدے کیے تھے وہ تمام کے تمام جھوٹے اور فلاپ نکلے۔ مجھے چند لمحوں کے لیے یہ بھی تسلیم کر لینا چاہیے کہ عمران خان نے نہ ہی بجلی سستی کی اور نہ ہی پیٹرول اور اشیائے خوردونوش۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ عمران خان کشمیر کے معاملے میں بالکل بھی سنجیدہ نہیں اور وہ کشمیر کا سودا کر چکے ہیں۔

مجھے اس بات کو بھی چند سیکنڈکے لیے تسلیم کرلینا چاہیے کہ عمران خان کو نہ تو سفارتی و خارجی امور کا علم ہے اور نہ ہی وہ ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکال سکے ہیں۔ اس بات کو تسلیم کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پچھلے ایک سال میں اس ملک کو اندھیروں ’جہالت‘ مہنگائی ’یوٹرن اور بے روزگاری کے سوا کچھ نہیں دیا اور سب سے اہم بات یہ بھی مان لینی چاہیے کہ عمران خان اپوزیشن سے بدلہ اور انتقام لے رہا ہے‘ ساری کی ساری اپوزیشن دودھ کی دھلی ہوئی ہے اور انھوں نے پوری زندگی نہ تو کوئی قوم سے جھوٹ بولا ’نہ یوٹرن لیا اور نہ ہی ایک روپے کی بھی کرپشن کی۔ مجھے یہ ساری باتیں تسلیم کرلینی چاہیے اور اس بات میں مجھے ان تمام لوگوں کی حمایت کرنی چاہیے جو کہتے ہیں کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے‘ اسے بہتر اور توانا ہاتھوں میں دے دینا چاہیے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا پہلا محفوظ ہاتھ پاکستان مسلم لیگ (نواز) کا ہے۔ پچھلے تیس سال اس پارسا جماعت نے حکومت کی ’نواز شریف پنجاب کا دو بار اورشہباز شریف ملک کے سب سے بڑے صوبے کا تین بار وزیر اعلیٰ رہا۔ نواز شریف تین بار ملک کی سب سے بڑی سیٹ وزارتِ عظمیٰ پہ بھی براجمان رہا اورہر دفعہ اس قوم نے نواز شریف پہ آنکھیں بند کر کے بھروسا کیا۔ اس نے جب جب اس قوم سے ووٹ مانگا یا مسکین بن کر حمایت طلب کی‘ اس قوم نے بنا کوئی سوال کیے نواز شریف کی آواز پہ لبیک کہا۔

اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ یہ دیکھنا ہے تو نواز شریف کے آبائی حلقے کا وزٹ کر لیں جہاں سے یہ ہمیشہ سے جیتتے آ رہے ہیں۔ یہ اس حلقے سے اس وقت بھی جیتے جب فیڈرل میں تحریک انصاف کی حکومت تھی ’نواز شریف جیل میں تھے اور کلثوم نواز اگرچہ الیکشن لڑ رہی تھی مگر خود لندن زیرِ علاج تھیں۔ مریم نواز نے الیکشن کمپین کی اور کلثوم نواز الیکشن جیت گئیں۔ ان ساری باتوں کے باوجود نواز شریف نے اس قوم کو کیا دیا؟ ایک اہم سوال کیونکہ اس بات سے میرے کسی دوست کو انکار نہیں اور نہ ہونا چاہیے کہ نواز شریف پر لگائے جانے والے تما م الزامات سچے نہ بھی ہوں تو یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ میاں صاحب تیس سالہ اس ملک کی جڑوں سے اس طرح چمٹے رہے اور ملک کو دیوالیہ کر کے چھوڑا۔

دوسرا محفوظ ہاتھ پاکستان پیپلز پارٹی کا ہے جس کی کارکردگی دیکھنی ہو تو سندھ کے تعلیمی ادارے ( جو ان کے بچوں کے ناموں سے منسوب ہیں ) کا دورہ کر لیں یا پھر کراچی کا کچرا دیکھ لیں۔ آپ کو اور کچھ ملے یا نہ ملے ”بھٹو زندہ ضرور ملے گا“ کیونکہ انھوں نے اور کوئی نیک کام کیا ہو یا نہیں لیکن انھوں نے آج تک بھٹو کونہیں مرنے دیا۔ جب بھی یہ جماعت برسراقتدار آئی اس نے سندھ کو دیوالیہ کیا۔ کراچی کے ہسپتالوں اور تھر میں مرنے والوں کی فہرست نکال کر دیکھ لیں ’آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ ہاتھ کتنے محفوظ ہیں۔

تیسرا محفوظ ہاتھ جماعت اسلامی کا ہے جس کی نظریاتی کمٹمنٹ کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ یہ ہر دور میں مفاہمت کی پالیسی پہ عمل پیرا رہی اوراس کی ایک زندہ مثال حالیہ الیکشن میں دیکھی جا سکتی تھی۔ فیڈرل میں یہ نواز شریف کے حامی تھی ’کے پی کے میں یہ عمران خان اور الیکشن میں یہ مولانا فضل الرحمن کو سپورٹ کرتی رہی۔ تو کیا تیسراس محفوظ ہاتھ جماعت اسلامی کا ہے؟ میرے دوستوں کا خیال ہے کہ جس جماعت اسلامی کا قول و فعل ہی ہر دور میں متنازعہ رہا‘ جودور میں یہ ریلیوں اور جلسوں پر سیاست کرتی رہی اسے کیسے آزمایا جا سکتا ہے لیکن میں پھر بھی جماعت اسلامی کو (دیگر سیاسی جماعتوں سے ) کسی حد تک بہتر سمجھتا ہوں۔

اگر آپ ان سب کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں تو ایک اور چوتھا محفوظ ہاتھ مولانا خادم رضوی کا ہے۔ پھر پاکستانی سیاست کی باگ ڈور اگلے پانچ سال کے لیے مولانا خادم رضوی کو سونپ دیں ’یہ جسے چاہیں عاشقِ رسول کا سرٹیفکیٹ جاری کریں‘ جسے چاہیں توہینِ رسالت کا الزام لگا کر مروا دیں۔ یہ ملک میں جگہ جگہ دھرنا بھی دیں گے اور مذہب کے فروغ کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار بھی لائیں گے ’یا پھر ان پر یقین کر لیں۔ ایک اور محفوظ ہاتھ ڈاکٹر طاہر القادری کا تھاجنہوں نے انتہائی دانش مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے سیاست سے کنارہ کر لیا اور ان کی بچی کھچی ساکھ محفوظ رہ گئی۔

اگر آپ کو ان سب پہ یقین نہیں تو ایک آخری محفوظ ہاتھ مولانا فضل الرحمن اور ایم کیو ایم کا ہے۔ ایم کیو ایم کا کردار سندھ اور جے یو آئی کا کردار ماضی کی حکومتوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ مولانا صاحب بھی ہر دور میں مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا رہے اور دس سال کشمیر کمیٹی کے انچارج رہے اور کشمیر تو فتح کرواتے کرواتے رہ گئے۔ مولانا کا خیال ہے کہ انہیں مزید پانچ سال کشمیر کمیٹی کی انچارج شپ مل جاتی تو آج کشمیر میں پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا ہوتا۔

آج جب مولانا صاحب سے یہ لیڈرشپ واپس لے لی گئی تو یہ کشمیر آزاد کرانے کے دعووں پہ پھر سیاست چمکانے سڑکوں پہ نکل آئے۔ ان سارے محفو ظ ہاتھوں کے بعد قارئین ہمارے پاس دو ہی آپشن ہیں۔ یا تو ہم یہ ملک دوبارہ ستر سال کے لیے مندرجہ بالا جماعتوں کے سپرد کر دیں اور خود نیند کی گولیاں کھا کے سو جائیں ’جب سرخ انقلاب آئے گا‘ ہمیں جگا دیا جائے گا۔ ہمیں پچھلے ستر سال کی طرح یہ ملک نواز شریف ’شہباز شریف‘ حمزہ شہباز ’مریم نواز‘ سلمان شہباز ’حسن اور حسین نواز‘ آصف ذرداری ’فریال تالپور‘ بلاول ذرداری ’آصفہ اور بختاور بھٹو کے حوالے کردینا چاہیے اور ان دونوں خاندانوں کی غلامی قبول کر کے انہیں حکومت دے دینی چاہیے کیونکہ پچھلے ستر سال یہ لوگ دل جمعی سے کام نہیں کر سکے‘ بقول ان کے کہ ”انہیں پورا موقع نہیں ملا“۔

اسی طرح ہمیں اگلے دس سال ایم کیو ایم ’جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے دعووں پہ اس ملک کو آزاد چھوڑ دینا چاہیے‘ سب سے بہتر اور محفوظ ہاتھ انہی مجاہدین کے ہیں کیونکہ ہم نے اس سے قبل تین دفعہ ملک میں مارشل لا کو بھی آزما لیا جس کا نتیجہ ہم سب بہتر جانتے ہیں۔ یا پھر دوسرا آپشن یہ ہے کہ ہمیں عمران خان کو اپنی حکومت کی مدت پوری کرنے دینی چاہیے کیونکہ پچھلے ستر سال میں اس ملک میں جو کچھ ہوتا رہا اس سے ہر ذی شعور آگاہ ہے لہٰذا جیسے ہم نے اتنا عرصہ مندرجہ بالا محفوظ ہاتھوں میں ملک دیے رکھا ’اگلے صرف پانچ سال عمران خان کے غیر محفوظ ہاتھوں میں دے دینا چاہیے۔

یقین جانیں اگر عمران خان واقعی پانچ سال کچھ بھی ڈلیور نہ کر سکا تو 2023 ء کے الیکشن میں میری حمایت کبھی بھی عمران خان کے ساتھ نہیں ہوگی۔ اب یہ ہم پہ منحصر ہے ’یا تو ہم آلِ ذردار اور آلِ شریف کی غلامی میں اگلی نسلیں پروان چڑھائیں یا پھرباقی کے چار سال عمران خان کی کارکردگی دیکھنی چاہیے کہ کیا وہ واقعی کچھ ڈلیور کر سکتا ہے یا اس نے اپنے بائیس سال اس قوم کو محض ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھا۔ قارئین اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ کون سے محفوظ ہاتھوں میں اس ملک کی باگ ڈور دینی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •