عثمان بزدار کی شرافت اور ایک نیا یوٹرن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر کبھی آپ نے گلہری کو دیکھاہو کہ وہ درخت پر کس پھرتی سے چڑھتی اور اترتی ہے، بعض دفعہ آنکھ جھپکتے ہی وہ کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے اوربندہ دیکھتا ہی رہ جاتا ہے، تبھی تو کہتے ہیں کہ ”بس اس کی آنیاں جانیاں دیکھو“ یعنی کرنا کرانا کچھ نہیں بس بھاگ دوڑ ہی نظر آئے گی۔ یہ عموماً ایسے لوگوں کے لیے بھی کہا جاتاہے کہ جو کام کرتے کچھ نہیں، ظاہر یہ کرانا چاہتے ہیں کہ وہ روح رواں ہیں۔

کسی نے وزیراعلیٰ کے ایئرپورٹ پر ہونے والے اجلاس کی تصویر فیس بک پر شیئر کرتے ہوئے ساتھ لکھ دیا کہ یہ اجلاس یہاں کرنے کا مقصد کیا تھا؟ یا تو جہاز سے اترتے ہی سیدھا چونیاں پہنچ جاتے اور دکھی خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھتے، یا ایئرپورٹ سے ایوان وزیراعلیٰ جاتے کیوں کہ یہاں سے دس منٹ کی بھی مسافت نہیں۔ اب جتنے مرضی ہی ایئرپورٹ پر اجلاس بلا لیں، بارش میں سڑکوں پر نکل لیں، افسران کو معطل کرلیں، ہنگامی میٹنگز کرتے رہیں، بیورو کریسی کے ذہن میں ایک بات بیٹھ چکی ہے کہ انہوں نے کرنا کچھ نہیں۔ یعنی ہم جو مرضی کرتے پھریں، یہ شریف آدمی ہیں، کام سے کام رکھنے والے بندے ہیں، کبھی اونچی آواز میں بات کرتے نہیں دیکھا، کبھی کسی کو بُری کارکردگی پر بھی ڈانٹتے نہیں دیکھا، میڈیا کے لیے جاری ہونے والے ہینڈآؤٹ میں سرزنش اور برہمی کا لفظ بھی نجانے کون لکھ دیتاہے؟

اوپر سے لطیفے بنانے والوں نے بھی حد ہی کردی ہے، ہر لطیفہ سائیں پر فٹ کردیتے ہیں۔ ابھی دوران تحریرمیاں فصیح الرحمان بھٹی نے لطیفہ بھیج دیاہے، نجانے اسے کیسے پتہ چلا کہ میں سائیں کی تعریف میں کچھ لکھ رہاہوں۔ ”اگرمہوش حیات کو“ پنجاب نہیں جاؤں گی ”پرتمغہ امتیاز مل سکتاہے تو سائیں کو“ پنجاب نہیں چلاؤں گا ”پر نشان پاکستان ملنا چاہیے۔“ حدہے ویسے، مجھے ایسے لوگوں پرحیرت ہوتی ہے، بھئی اپنے کام سے کام رکھو، کیوں چھیڑتے رہتے ہو، ”سائیں“ نے کبھی آپ کو چھیڑا ہے؟ لیکن یاد رکھو کہ ایک دن ضرور آئے گا جب سبھی سائیں کے معترف نکلیں گے۔ ویسے تو شرافت کا کوئی زمانہ نہیں رہا، اینٹ کا جواب پتھر سے دینا پڑتاہے ورنہ دنیا جینے نہیں دیتی مگر ”سائیں“ یہ غلط ثابت کریں گے کہ ضروری نہیں کہ اینٹ کا جواب پتھر سے ہی دیاجائے، اینٹ کا جواب خاموشی سے بھی دیاجاسکتاہے۔

سائیں تو خاموش رہیں گے کیوں کہ یہ ان کی طبعیت اور ان کامزاج گرامی ہے۔ نہ انہوں نے منصب کے لیے خواہش اور دلچسپی ظاہر کی، نہ ہی کپتان نے ملک چلانے کے لیے کرکٹ کے میدان میں چلنے والے اصولوں کو ملک پر اپلائی کیا۔ لیکن یہ اصول یہاں زیادہ اثر انداز نہیں ہوسکے اور گیم ہاتھ سے نکلتی دکھائی دینے لگی۔ یہ الگ بات ہے کہ کھیل کے میدان میں بعض دفعہ آخری بال پر بھی فیصلے ہو جاتے ہیں مگر ضروری نہیں کہ ملکی معاملات میں بھی وہ رسک لیا جائے۔ یہاں کچھ باتیں حالات دیکھ کر بھی کرنا پڑتی ہیں اور کچھ صبروتحمل کے ساتھ مشکل فیصلے بھی کرنا پڑتے ہیں۔ یوٹرن لینے میں اگر خرج نہیں کہ اسی میں ”آپ“ ملکی مفاد دیکھتے ہیں تو ایک یوٹرن پنجاب میں لیے گئے اس فیصلے پر نہیں لے سکتے؟

جیسا کہ آپ اس سے قبل کافی یوٹرن لے چکے ہیں، حالیہ یوٹرن جو ضروری بھی نہیں تھا مگر آپ نے لیا۔ خیبرپختونخواہ میں عبایہ کا نوٹیفکیشن جاری کرکے پھر ”کچھ“ لوگوں کے رد عمل پر واپس لے لیا۔ حالانکہ ریاست مدینہ کے نعرے کے تحت آپ اس پر ڈٹ بھی سکتے تھے مگر ایسا نہیں کیاگیا تو کیا آپ پنجاب کی آواز نہیں سن رہے؟

سائیں کی شرافت، صداقت، امانت اوردیانت پر کسی کو کوئی شک نہیں مگر پنجاب کے لوگوں کو ایک ایسا بندہ چاہیے جو کام کراسکے۔ چوہدری پرویزالہیٰ کی صورت میں آپ کے پاس بہترین آدمی ہے جنہیں تجربہ ہے، بیوروکریسی سے کام لینا جانتے ہیں، زراعت سے متعلق کاشتکاروں کی پریشانیاں سمجھتے ہیں، اور کچھ نہیں تو پرویزالہیٰ دور کے کام کو ہی دیکھ لیں، صرف ریسکیو 1122 ہی ایسا کام ہے کہ جسے ہرخاص وعام سراہتا ہے۔

جہاں آپ آئے روز اپنے کھلاڑیوں کو گراؤنڈ کی مختلف پوزیشنز پر کھڑے ہونے کی ہدایت کرتے رہتے ہیں، آپ نے فواد چوہدری کے معاملے میں کافی تجربے کرلیے ہیں، شاید اِنہیں تجربوں کی بنا پر ہی چوہدری صاحب کو وزارت بھی تجربوں والی دیدی، کیاپتہ ہم بھی چاند پر پہنچ جائیں اورجس قوم کے لیے ابھی تک ہم کچھ خاص نہیں کرسکے واپسی پر ان کے لیے دو چار تارے ہی توڑ لائیں۔ دیگرتجربات کی طرح ایک تجربہ پنجاب کے بارے میں بھی یوٹرن لے کر دیکھیں، نتائج نہ نکلے تو دوبارہ یوٹرن لے لیجیے گا کیا فرق پڑجائے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •