کیا کشمیر کا سودا کر لیا گیا ہے؟ 

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان نے دو روز پہلے پاکستان سے کشمیر جانے کی خواہش رکھنے والوں کو ملک اور کشمیریوں کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی کوئی بھی کوشش بھارت کو سہولت بہم پہنچانے اور اسے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگانے کا موقع فراہم کرنے کے مترادف ہوگی۔ عمران خان کا یہ بیان گزشتہ جمعہ کو مظفر آباد ریلی میں کروائی گئی اس یقین دہانی سے متضاد تھا کہ لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کے لئے ان کے اعلان کا انتظار کیا جائے۔

مظفر آباد کی ریلی میں عمران خان نے نریندر مودی کو فاشسٹ اور ہٹلر ثانی کہنے کے علاوہ بزدل قرار دیاتھا جو مظلوموں، عورتوں اور بچوں پر ظلم کررہا ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کا سفیر بن کر کشمیر کا مقدمہ پیش کرنے جارہے ہیں۔  اس کے بعد وہ خود یہ اعلان کریں گے کہ کب لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کیا جائے۔  اس سے پہلے بعض کشمیری گروہوں کا ایل او سی کی طرف جانے کی کوشش میں پولیس کے ساتھ تصادم ہؤا تھا۔ اس تصادم میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔

مظفرآباد کے جلسہ عام میں عمران خان کا بیان اسی تصادم کے تناظر میں دیا گیا تھا۔ اس طرح یہ امید کی جانے لگی تھی کہ عمران خان بھی ایل او سی کی طرف مارچ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے جارحانہ اور غیر انسانی اقدامات کے خلا ف ایک مؤثر ہتھکنڈا سمجھتے ہیں۔  عمران خان یا تحریک انصاف نے وزیر اعظم کے اس بیان کی وضاحت کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا۔ اس تقریر اور اعلان کے بعد لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کا اعلان کرنے والے گروہوں نے عمران خان کے دورہ اقوام متحدہ سے واپسی کا انتظار کرنے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔

لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کے بارے میں دیے گئے بیان کے پس منظر میں جب بدھ کے روز طورخم میں صحافیوں نے عمران خان سے سوال کیا تو مقبوضہ کشمیر میں مداخلت کے بارے میں ان کا بیان دو ٹوک اور واضح لیکن مظفرآباد کی تقریر سے برعکس تھا۔ انہوں نے کشمیر جانے والوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی کوئی بھی حرکت پاکستان کے مفادات اور کشمیر کی کاز کو شدید نقصان پہنچائے گی۔ اس لئے ایسی کسی کوشش یا خواہش کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ عالمی دباؤ کی وجہ سے اب نریندر مودی کی حکومت شدید دباؤ کا سامنا کررہی ہے، رہی سہی کسر وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مقدمہ پیش کرکے نکال دیں گے۔  ان کا دعویٰ ہے کہ اقوام عالم کے سامنے کشمیر کا مقدمہ یوں پیش کریں گے جو آج تک کوئی بھی پاکستانی لیڈر پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ مقبوضہ کشمیر کی آئینی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد سے عمران خان کے بیشتر بیانات کی طرح یہ بیان بھی پرجوش اور حوصلہ افزا تو ہے جو عام پاکستانیوں میں یہ امید پیدا کرتا ہے کہ شاید عمران خان جیسا دبنگ لیڈر اب کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل کروا دے گا۔ کیوں کہ کوئی بھی لیڈر اس بے باک انداز میں بھارتی قیادت کو للکارنے، ہٹلر و فاشسٹ کہنے یا مودی کو بزدل بتانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

ان جوشیلے بیانات کی تہہ میں جاکر معاملہ سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے پاس بہت زیادہ آپشنز موجود نہیں ہیں۔  مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اکاّ دکاّ آوازیں ضرور سامنے آئی ہیں لیکن کسی بھی ملک نے پاکستان کی طرح کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے بارے میں بھارتی اقدام کو مسترد نہیں کیا۔ عمران خان نے گزشتہ چھے سات ہفتوں میں ٹوئٹ پیغامات، بیانات، تقریروں اور انٹرویوز کے علاوہ نیویارک ٹائمز میں لکھے گئے مضمون میں بھارتی حکومت کے استبدداد اور ظالمانہ ہتھکنڈوں کا پر زور طریقے سے ذکر ضرور کیا ہے لیکن بھارت کی طرف سے اس معاملہ پر کوئی رعایت دینے کا اشارہ سامنے نہیں آیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اگلے جمعہ کو عمران خان کی تقریر سے پہلے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی عالمی لیڈروں سے مخاطب ہوں گے۔  عمران خان کے برعکس بھارتی ذرائع یہ واضح کررہے ہیں کہ نریندر مودی کشمیر کا براہ راست ذکر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے البتہ وہ علاقے میں دہشت گردی اور اس میں پاکستانی کردار پر ضرور بات کریں گے۔  دوسرے لفظوں میں مودی بھی وہی بات کہیں گے جو عمران خان نے طورخم میں کہی ہے کہ پاکستان کی طرف سے کسی بھی قسم کی ہلچل کی صورت میں بھارت، پاکستان پر کشمیر میں مداخلت یا دہشت گردی کا الزام لگاتے ہوئے کشمیر کا مقدمہ کمزور کرنے اور پاکستان کو دفاعی پوزیشن میں لانے کی کوشش کرے گا۔ اسی لئے وزیر اعظم نے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ جہاد کرنے کے جذبہ کو ملک دشمنی سے تعبیر کیا ہے۔

عمران خان کے ا س مختصر بیان پر جنوبی و وسطی ایشیا کے لئے امریکی قائم مقام نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے تبصرہ کرتے ہوئے اسے ’واضح اور اہم‘ بیان قرار دیا ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ ’ہرقسم کے دہشت گرد گروہوں کو غیر مؤثر بنانے کے لئے پاکستان کا مسلسل عزم علاقے کے استحکام کے لئے بے حد ضروری ہے‘ ۔  کشمیر میں مداخلت کی خواہش و کوشش پر پاکستانی وزیر اعظم کے بیان کا امریکی وزارت خارجہ نے جس طرح نوٹس لیا ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی مناسبت سے پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم کے دورہ امریکہ سے قبل اس بیان کو جس طرح برصغیر میں دہشت گردی کے تناظر میں فٹ کرنے کی کوشش کی ہے، اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔

یہ مماثلت بے سبب نہیں ہوسکتی۔ پاکستان کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کے حق خود اختیاری کا مقدمہ لڑ رہا ہے جبکہ بھارت کا تسلسل سے یہ مؤقف رہا ہے کہ پاکستان علاقے میں دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے۔  اب امریکی نائب وزیر خارجہ نے پاکستانی وزیر اعظم کے بیان کو سراہتے ہوئے دراصل یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستانی لیڈر نے بھارت اور امریکہ کی خواہش کے مطابق تمام دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے تبصرہ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیش کش پر مبنی بیانات کے تناظر میں بھی جانچنا چاہیے۔  بھارت کی تردید کے باوجود صدر ٹرمپ ایک طرف مسلسل ثالثی کروانے کی بات کرتے رہے ہیں تو دوسری طرف وہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی اس بات پر یقین کا اظہار بھی کرچکے ہیں کہ کشمیر میں حالات بھارتی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔  اس حوالے سے البتہ انہوں نے ایک بار بھی کشمیر میں لاک ڈاؤن، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کے حق خود اختیاری کی بات کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ ان کی ساری کوشش پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کو روکنے پر مرکوز رہی ہے۔

اس حوالے سے وہ یہ ’خوش خبری‘ بھی سناتے رہے ہیں کہ اب حالات پہلے سے بہت بہتر ہیں۔  حالانکہ پاکستانی حکومت کی فراہم کردہ معلومات اور وزیر اعظم عمران خان کے بیانات سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں ہمسایہ ملک ایک ایسی جنگ کے انتہائی قریب ہیں جو ایٹمی تصادم میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

عمران خان اتوار کو رات گئے نیویارک پہنچ رہے ہیں۔  اس وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہوسٹن میں نریندر مودی کے ساتھ مل کر امریکی انڈین شہریوں کی بہت بڑی ریلی میں شریک ہورہے ہوں گے۔  جبکہ سوموار کی صبح کو وہ عمران خان سے ملیں گے۔  اس ملاقات کے ایجنڈے پر کشمیر کا موضوع سر فہرست ہے۔  عمران خان سعودی عرب سے ہوتے ہوئے امریکہ پہنچیں گے جہاں پر انہوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے کشمیر کے معاملہ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔  عام فہم کا انسان بھی جان سکتا ہے کہ امریکی صدر اور سعودی ولی عہد کشمیر کے معاملہ پر کس حد تک پاکستانی مؤقف کی حمایت کریں گے اور اس مسئلہ کے حل کے لئے کون سا راستہ تجویز کریں گے۔

نیویارک میں قیام کے دوران عمران خان اور نریندر مودی ایک بار پھر امریکی صدر سے ملاقات کریں گے۔  یہ بالواسطہ سہ فریقی ملاقاتیں کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان بظاہر شدت اختیار کرتے تصادم کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔  لیکن یہ خبر نہیں ہے کہ اس سفارتی مواصلت کا اصل ایجنڈا کیا ہے؟ یہ سوال اگرچہ بہت سی زبانوں پر مچلتا ہے لیکن کوئی اس کا جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔  دورہ طورخم کے موقع پر کشمیر میں مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان نے پاکستان کی دہائیوں پر استوار پالیسی کو تبدیل کرنے کا اشارہ دیا ہے۔  اسی لئے فوری طور سے امریکی وزارت خارجہ نے اس کی تحسین کی ہے۔  کیا عمران خان کا بیان کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرکے اسے بھارت کا ’اٹوٹ انگ‘ بنانے والے مودی کو ’زیتون کی شاخ‘ دکھانے کی کوشش ہے یا اسے صدر ٹرمپ کی ’ثالثی‘ کا معجزہ سمجھا جائے؟

تند و تیز بیانات کی آڑ میں وہ کون سی سفارت کاری ہو رہی ہے جس کا راستہ صرف امریکہ اور سعودی عرب سے ہوکر ہی گزرتا ہے۔  کشمیر کے سوال پر تحریک انصاف نے پارلیمنٹ کو ناقابل قبول پلیٹ فارم سمجھا ہے۔  اس لئے نہ اس اہم معاملہ پر کوئی قومی مؤقف تیار کیاجاسکا ہے اور نہ ہی یہ جانا جاسکتا ہے کہ مودی کے بارے میں گالم گلوچ سے لگا کھاتے بیانات کے درپردہ کون سی مفاہمانہ کوششیں ہورہی ہیں۔  کشمیر کی خود مختاری سے کم تر کسی بات پر سمجھوتہ ہونے کی صورت میں عمران خان اس الزام سے کیسے بچ پائیں گے کہ اپنے اقتدار کے لئے انہوں نے کشمیر کا سودا کرلیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1274 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali