بلوچستان میں گندم کی خریداری: کمال کا انصاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اردو کا محاورہ ہے۔ بندر کی بلا طویلے کے سر۔ اللہ بھلا کرے وزیراعلی بلوچستان کا جن کی نظام میں موجودگی کا ثمر ہے کہ مجھے اس محاورے کی سمجھ آئی۔ یہ داستان ہے ایسے صوبے کی ہے جو کہ گندم کی خریداری کے لئے گزشتہ کئی دہائیوں سے بینکوں سے قرضہ لے کر گندم تو ختم کرچکا ہے لیکن۔ 5 ارب روپے اس مد میں نہ صرف مقروض ہے بلکہ ہر تین ماہ بعد 18 کروڑ روپے اس پر سود بھی ادا کررہا ہے۔

اس صوبے کے چیف سیکرٹری نے حکم شاہانہ کی تعمیل کرتے ہوئے سکریڑی فوڈ و ڈائریکٹر جنرل فوڈ بلوچستان کو ٹائم پر گندم نہ خریدنے پر اور خریداری نہ ہونے کی وجہ سے گندم کی کمی ہوگی کو بنیاد بنا کر معطل کردیا ہے۔

گویا اہم عہدے پر فائز اس افسر کو ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرنے والے شبعہ زراعت تک کا پتہ نہیں۔ حکومت بلوچستان امسال سرکاری سطح پر جس قدر گندم خریدنے جارہی تھی وہ ملکی گندم کا زیرو اعشاریہ ایک فیصد ہے اور بلوچستان کی مارکیٹ سے بھی چار فیصد گندم خریدنی تھی۔ کوتاہی کہاں ہوئی ہے اس پر کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں۔ ڈائریکٹر خوراک نے گندم کی خریداری کے لئے 25 جنوری کو ڈائریکٹریٹ خوراک سے پروکیورمنٹ پلان تحریری طور پر صوبائی حکومت کو ارسال کیا۔

جس میں 15 لاکھ بوری گندم کی خریداری کی اجازت طلب کی گئی اور پانچ مئی کو وزیراعلی بلوچستان نے محکمہ خوراک سے اختلاف رائے کرتے ہوئے 15 لاکھ کی بجائے چار لاکھ بوری گندم خریدنے کی منظوری دے دی فائل واپس آئی اور یہاں پر خریداری کے لیے قانونی لوازمات کا حساب لگنا شروع ہوا اور بی پیپرا کے رولز کے مطابق باردانہ یعنی خالی گندم کی بوریاں خریدنے کے لئے قانونی طور پر محکمہ خوراک کے افسر ان کو 45 دن مزید انتظار کرنا پڑا اپریل کے آخر میں جب پروجیکٹ ڈائریکٹر کو گندم خریداری کا حکم جاری ہوا تو پی ڈی نے خریداری کے مقام سے گندم کی ناقص حالت کو دیکھتے ہوئے سیکرٹری کو رپورٹ کر دی کہ گندم کی خریداری حکومت بلوچستان کے لیے نقصان دہ ہے اور وہ خریداری نہیں کرسکتے ہیں۔

جس پر حقائق معلوم کرنے کے لئے معائنہ کمیٹی تشکیل دی گئی کمیٹی نے گندم کا مشاہدہ کرنے کے بعد 21 جون کواپنی رپورٹ جمع کراتے ہوئے گندم کو غیر معیاری قرار دے کر خریداری نہ کرنے کا سفارش کردی۔ وزیر خوراک چونکہ وزیراعلی کے مصائب خاص ہیں اور اپنے بیٹے کے عمر کہ وزیراعلی کو پیار سے ”بابا“ کے نام سے پکارتے ہیں انہوں نے دباؤ ڈالتے ہوئے سیکرٹری کو ہرصورت خریداری کرنے کے لئے رضامند کرنے کی کوشش کی تو سیکرٹری نے وزیراعلی بلوچستان کو حقائق سے آگاہی دینے کے لئے سمری ارسال کر دی۔

چیف سیکرٹری نے اپنے دفتر سے سمری واپس کرتے ہوئے لکھ دیا جس میں سمری کے پیرا نمبر سات کے مطابق خریداری اپریل کے مہینہ میں نہ کی جائے چونکہ اس مہینے میں اولاً زمینداروں کے پاس گندم کی کمی ہو جاتی ہے۔ دوئم وہ پہلے ہی اپنی گندم بیوپاریوں کو فروخت کر چکے ہوتے ہیں۔ اور ثانیا ”مارکیٹ میں موجود گندم کا معیار موسم اور دوسری وجوہات کے باعث گر چکا ہوتا ہے۔ لہذا“ گندم خریداری پالیسی ”کے تحت غیر معیاری گندم کی خریداری ممکن نہیں ہو سکتی۔

اور پیرا آٹھ میں ہدایات دیتے ہیں کہ اس وقت مارکیٹ میں گندم کی آزادانہ نقل و حرکت کے باعث گندم کی کمی کا کوئی بحران نہیں ہے۔ اور اگر ایسی کوئی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو گندم کی ضرورت کے پیش نظر حکومت پنجاب یا پاسکو سے خریداری کی جاسکتی ہے۔ اس خریداری سے گریز کیا جانا چاہیے۔ جہاں تک گندم کی خریداری کا تعلق ہے۔ سیکرٹری خوراک نے تو گندم خریداری کے لئے سمری بروقت وزیراعلی کو بھجوا دی تھی۔ اور پھر وزیراعلی حسب معمول بروقت کوئی فیصلہ نہ کرسکے۔

اور خریداری کا وقت نکل گیا۔ یوں وزیر خوراک ”بابا“ سے ناراض ہوگیا۔ فائل واپس آئی تو اس وقت محکمہ کے لوگوں نے سوچا کہ اگر اب خریداری کی تو سیدھا نیب کا کیس بنے گا اس لئے معطل ہونا منظور ہے لیکن جیل نہیں جانا۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ وزیر خوراک بڑے شیریں دہن ہیں اور زبان مبارک سے ہر وقت بڑی ثقییل اردو یا اپنی مادری زبان میں کسی نا کسی کی شان میں قصیدہ پڑھا جا رہا ہو تا ہے۔ اور یقینا افسر ان نے اس معطلی کے ساتھ ان کے ثقییل قصیدے کو بھی بونس کے طور پر سنا ہو گا۔

چلئے چھوڑیئے یہ دیکھئے اور سیکھئے کہ وزیراعلی نے کتنی سمارٹ موو کھیلی۔ جب خریداری کا وقت تھا اس وقت فائل سائڈ ٹیبل پر رکھی۔ اور جیسے بچپن میں ٹی وی پر عین ڈرامے کے درمیان لکھا آتا تھا کہ انتظار فرمائیے۔ تو بڑی کوفت ہوتی تھی اور یقینی طور پر اسی طرح وزیر خوراک بھی کوفت سے گزرے ہوں گے۔ لیکن جس طرح ہم اس کے باوجود ڈرامہ ختم کرکے اٹھتے تھے اسی طرح وزیر اور دیگر انٹرسٹ گروپ بھی فائل منظور کروانے میں کامیاب ہو گئے۔

لیکن وقت گزر چکا تھا۔ غالب طور پر وزیراعلی نے دیر سے منظوری اس لیے دی کہ وقت تو گزر گیا ہے۔ کہ اب افسر گندم خریدے گا نہیں اور سارا ملبہ افسر ان پر پڑے گا۔ معطلی میں جو الزام لگائے گئے ہیں وہ انتہائی بھونڈے ہیں اول تو پنجاب اور سندھ سے وافر مقدار میں گندم آرہی ہے نہ وہاں کمی ہے نہ یہاں کمی ہے۔ ویسے بھی حکومتی خریداری سے قیمت پر کوئی نہیں پڑتا اور شاید گورنمنٹ جس ریٹ پر خریدنا چاہ رہی تھی اس سے کم میں دستیاب ہو۔

صرف ٹرانسپورٹ کا ضرور فرق ہوگا۔ حکومت بلوچستان کو جتنی گندم چاہیے مل سکتی ہے۔ چیف سیکریٹری ”گھگی“ مارنے سے پہلے فائل کم از کم طلب کرتے اور اپنے استعداد کے مطابق کوئی فیصلے کرتے۔ ویسے گندم نہ خریدنے کا ایک فائدہ بھی ہوا ہے۔ اس طرح صوبے کی اچھی خاصی رقم خرد برد ہونے سے بچ گئی۔ سنا ہے وزیر خوراک اس معاملے کے بعد ناراض ہوکر اپنے آبائی علاقے میں چلے گئے۔ پھر ان کی خوشی کی خاطر یہ اقدام اٹھایا گیا ہے تا کہ وہ واپس آسکیں صوبائی حکومت نے بے گناہ افسران کی قربانی دی ہے۔

صوبے کی بیوروکریسی کہتی ہے کہ جس طرح افسر وں کو ذلت، بد اعتمادی اور قربانی کا بکرا اس ٹوئٹر والی سرکار نے ایک سال کے دوران بنایا ہے۔ اس کی مثال پورے صوبے کی تاریخ میں 1970 سے آج تک نہیں ملتی۔ سابق نگراں صوبائی سلام خان درانی وزیراعلی بلوچستان کو تحریری تجویز دی تھی کہ محکمہ خوارک کو ختم کیا جائے اس سے عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے غیر قانونی افسر ان کو معطل کرنے بجائے موجود حکومت اس تجویز پر عمل درآمد کروائے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •