ہڑتال برائے موسمیاتی تبدیلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

20 ستمبر 2019 کے روز پوری دنیا نے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والی تباہیوں پر ہڑتال کی۔

اس کا آغاز کرنے والی، گریٹا تھنبرگ ہیں، جن کا تعلق سوئیڈن سے ہے، اور اس وقت اس لڑکی کی عمر صرف 16 برس ہے۔ جی ہاں صرف سولہ برس۔

اور ان کی شروع کردہ ”فرائڈے فار فیوچر کمپین“ اس وقت دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے اثرات کو اجاگر کرنے، دنیا کے حکمرانوں کو اس کا احساس دلانے، اور ان پرمستقل لائحہ عمل اختیار کرنے کے حوالے سے چند بڑی کمپین میں سے ایک بن چکی ہے۔ اور اس کمپین کی خاص بات، نوجوانوں کا اس کمپین کو لیڈ کرنا ہے۔ 20 ستمبر کے دن دنیا کے تقریباً تمام ممالک سے کروڑوں لوگوں نے اس کمپین میں حصہ لیا۔ اور اس روز کلائمیٹ اسٹرائک ناصرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بنی رہی۔

پوری دنیا کی طرح، پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی اس کمپین کے حوالے سے ایونٹس کا انعقاد کیا گیا۔ اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی، محترمہ زرتاج گل وزیر صاحبہ کی سربراہی میں اسلام آباد کلائمیٹ مارچ کیا گیا، کراچی میں فرئیر ہال پر سول سوسائٹی کی جانب سے مشترکہ کراچی کلائمیٹ مارچ اور کلائمیٹ اسٹرائک کے عنوان سے ایک بہت بڑا اجتماع منعقد کیا گیا۔ جس میں خاصی بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

موسمیاتی حوالوں سے اثر انداز ہونے والے عوامل میں پاکستان کا شئیر صرف 1 فی صد ہے۔ جبکہ پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے متاثرہ ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے، آج ہی کراچی میٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری کی گئی وارننگ کے مطابق اگلے دو دن ہیٹ ویوو کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ کچھ دن پہلے ہی ٹائم میگزین نے صوبہ سندھ کے شہر جیکب آباد، جو کہ پاکستان کے گرم ترین مقامات میں سے ایک ہے، پر ایک خصوصی مضمون بھی شائع کیا تھا۔

اس ہی مہینے پورے پاکستان خصوصا کراچی میں برسنے والی بارشوں سے ہونے والے نقصانات میں انسانی جانوں کا ضیاع بھی اس موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں شامل ہیں۔

پاکستان نے ان اثرات کو کم کرنے کے لئے کافی اقدامات کیے ہیں، جن میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے بلین ٹری سونامی کے پروجیکٹ کو آئی یو سی این جیسے ادارے نے بھی سراہا ہے، ساتھ ہی ساتھ کلین اینڈ گرین پاکستان کیمپین، کلین اور رنیوایبل انرجی کے پروجیکٹس جن میں گھارو ونڈ پاور پروجیکٹ اور قائد اعظم سولر پاور پارک، اور پلاسٹک کی تھیلیوں کے استعمال پر پابندی جیسے منصوبے بھی شامل ہیں۔

لیکن ان اقدامات کے ساتھ ساتھ نوجوانوں، خاص کربچوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے آگاہی بڑھانا بہت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام صوبائی حکومتوں کی بھی ان اقدامات میں شمولیت بہت ضروری ہے۔

مندرجہ ذیل چند ایسے اقدامات بھی ہیں جنہیں اٹھا کر ہر شخص ماحول کی بہتری میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔

1۔ پانی کو ضائع ہونے سے ہر ممکن حد تک بچایا جائے۔

2۔ پلاسٹک کی تھیلیوں کا کم سے کم، بلکہ نا ہونے کے برابر استعمال، اس کے لئے کپڑے کے بنے تھیلے استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے۔

3۔ کچرے کو جلانے سے ہر ممکن حد تک پرہیز کریں۔ کچرہ کچرہ دان، کچرہ کنڈیوں میں پھینکا جائے۔

4۔ کچن گارڈننگ کو فروغ دیا جائے، اور بچوں کوخصوصا کچن گارڈننگ کے حوالے سے آگاہی دی جائے۔

5۔ اسکولوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے خصوصی نشستوں کا انعقاد کیا جائے۔

نوجوان آبادی کے اعتبار سے دنیا میں پاکستان چھٹا ملک ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آئیڈیاز، انرجی، اور ٹیلنٹ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ اور گریٹا کی طرح یہ نوجوان بھی، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم سے کم کرنے میں اپنا بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کلائمیٹ سٹرائیک کے دن نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ نوجوان اپنا یہ کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پاکستان میں ہڑتال برائے موسمیاتی تبدیلی میں ایک بڑی تعداد میں نوجوانوں کی بھرپور شرکت اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ اس معاملے میں یہ دنیا کے نوجوانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور پوری دنیا کے حکمرانوں کو ایک مشترکہ پیغام دے رہے ہیں کہ

اب نہیں تو کب۔

اللہ پاکستان کا، میرا اور آپ کا حامی و ناصر رہے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •