کینسر ہسپتال بنانے والے نے کینسر کے مفت علاج کی سہولت کیوں واپس لے لی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے وزیراعظم صاحب نے اپنی والدہ ماجدہ کی کینسر کے سبب کسمپرسی میں جہاں فانی سے کوچ کرنے کے واقعے کو اتنا دل پہ لیا کہ ان کی یاد میں کینسر ہسپتال بنانے کا بیڑا سر پہ اٹھا لیا۔ جب پاکستان نے ورلڈ کپ جیتا تو ورلڈکپ ہاتھ میں لے کر میلبورن کے تاریخی میدان میں انہوں نے اپنی خواہشات اور ان کی تکمیل کے بارے میں بتاتے وقت تاریخی کلمات ادا کئیے تھے اور فرمایا تھا کہ ”ورلڈکپ جیت کر میں نے آج اپنی ایک خواہش کو تو پورا کردیا ہے مگر اپنی ماں کے نام پہ پاکستان میں ایک کینسر ہسپتال کا خواب ابھی پورا ہونا باقی ہے، اور اسے میں جلد پورا کرنے کی خواہش رکھتا ہوں“

پھر پاکستانیوں سمیت دنیا نے دیکھا کہ خان صاحب نے دن رات ایک کرکے چندے، زکوات، خیرات، فطرات، صدقات کس طرح کن مشکلات اور کٹھنائیوں سے جمع کیے اور کینسر ہسپتال کا لاہور میں سنگ بنیاد رکھا۔ جو خواب انہوں نے دیکھا تھا اس خواب کا اظہار انہوں نے 1989 لاہور میں پاک بھارت ٹیسٹ میچ کے دوران کیا اور وہیں سے چندہ لینے کی مہم کا آغاز ہوا جو دسمبر 1991 میں میاں نواز شریف کے ہاتھوں شوکت خانم کینسر ہسپتال کے سنگ بنیاد پر منتج ہوا۔

ابھی خواب ادھورا تھا منزل دور تھی مشکلات بھی بہت تھیں مگر 1992 کے ورلڈ کپ کی فتح کے بعد خان صاحب کے خواب کے شرمندہ تعبیر ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگی، پاکستان سمیت دینا بھر کے لوگوں یہاں تک کہ آنجہانی لیڈی ڈیانا نے بھی ان کے اس خواب کی تکمیل میں ہاتھ بٹایا اور پھر دسمبر 1994 میں شوکت خانم میموریل ٹرسٹ ہسپتال کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ اس کی تعمیر میں تقریبآ ستر فیصد کے قریب چندے زکوات فطرات صدقات سے حاصل رقوم استعمال ہوئیں تو تیس فیصد کے قریب قرض لیا گیا، زمین اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کی پنجاب حکومت نے عطیہ کی مجموعی طور پر اڑسٹھ کروڑ روپے کی لاگت سے ہسپتال مکمل ہوا اور آج اس کے سالانہ اخراجات دس ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکے ہیں جو سارے کے سارے عوامی چندوں، فطروں، زکوات و خیرات سے حاصل کیے جاتے ہیں۔

یہاں یہ تفصیل اس لئے بھی اپنے پڑھنے والوں کے گوش گزار کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ بہت سے قارئین یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ شوکت خانم ہسپتال کس طرح کن حالات میں قائم ہوا۔ خان صاحب نے غریبوں کے لئے کینسر جیسے موذی مرض کا بہت ہی مہنگا علاج مفت کرنے کے دعوے کیے تھے اور فرمایا تھا کہ میری والدہ کو میں نے کینسر سے لڑتے موت کے منہ میں جاتے دیکھا علاج مہنگا ہونے کی وجہ سے وہ اپنی والدہ کا بروقت اور درست طریقہ سے علاج نہیں کروا سکے اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ کسی اور کے پیارے اس طرح کسمپرسی کی حالت میں کینسر سے لڑتے موت کے منہ میں نہ جائیں۔

آج یہ کالم لکھنے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ انہیں خان صاحب کے راج میں جو غریبوں کو علاج معالجے کی مفت سہولیات کی فراہمی کے نہ صرف خواہشمند تھے بلکہ دعویدار بھی، وہ اپنی ہر تقریر، ہر انٹرویو میں شوکت خانم کے قیام کا حوالا دیتے اسے غریبوں کے لئے مفت اور ملک کا نجی شعبے میں سب سے بڑا غیر منافع بخش ادارا قرار دیتے رہے ہیں، ان کی حکومت پنجاب میں ان کے وسیم اکرم پلس نے پہلے سرکاری ہسپتالوں سے مختلف امراض کے مفت تشخیص کی سہولیات ختم کیں، پھر علاج غریب کی دسترس سے ہی دور کردیا اور اب انتہائی مہنگے کینسر کے علاج کی مفت ادویات کی فراہمی بھی بند کر دی گئی یعنی خان صاحب نے جھوٹے دعووں اور وعدوں کے اس تسلسل کو علاج معالجے کے معاملے میں بھی برقرار رکھا جو وہ اپنے اقتدار کے پہلے دن سے قوم سے کرتے آئے ہیں۔

اب اگر شوکت خانم کینسر ہسپتال میں غریبوں، مفلسوں ناداروں کو دستیاب مفت علاج کی سہولیات کا جائزہ لیا جائے تو بھی خان صاحب کے دعوے صرف دعوے ہی نظر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جب کوئی بات کسی سے چھپی نہیں رہ سکتی تو خان صاحب کے شوکت خانم کینسر ہسپتال میں غریبوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے اکثر سوشل میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں، پنجاب کے ضلع گوجرہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے رہائشی پرائمری استاد اللہ بخش کے بیٹے کو کینسر جیسے موذی مرض نے جکڑ لیا وہ پہلے تو اپنے بیٹے کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے گیا جہاں اس کے مرض کی تشخیص نہ ہو سکی، پھر وہ غریب اپنی جمع پونجی لے کر لاہور گیا جہاں اسے بتایا گیا کہ اس کے بچے کو کینسر ہے تب وہ اس امید پر اپنے بیٹے کو شوکت خانم کینسر ہسپتال لے گیا کہ وہاں اس کے بیٹے کا نہ صرف بہترین علاج ہوگا اور بالکل مفت ہوگا لیکن جب وہ شوکت خانم ہسپتال پہنچا تو پہلے تو دو دن تک دھکے کھاتا رہا کہ میرے بچے کا چیک اپ کرلو اور اس کو ہسپتال میں داخلہ دے دو اسے کہا گیا کہ تم نے باہر سے پہلے ٹیسٹ کیوں کرائے، بہرحال بڑی منت سماجت اور آہ و زاری کے بعد ہسپتال انتظامیہ اس بچے کو ایڈمٹ کرنے پر تو راضی ہوگئی مگر اللہ بخش سے کہا گیا کہ جب تک یہ نہیں تصدیق ہو جاتی کہ تم واقعی علاج کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں ہو اور یہ کہ تم کو علاج معالجے میں کتنی رعایت دینی ہے دس لاکھ روپے ایڈوانس جمع کراؤ۔

اب اللہ بخش کے پیروں تلے زمین ہی کھسک گئی خان صاحب کے دعوؤں نے جو سپنوں کا محل اس کی آنکھوں میں سجایا تھا وہ ریت کے گھروندے کی طرح ایک دم سے ڈھے گیا۔ آخر اللہ بخش اپنے بچے کو لے کر وہاں سے نکلا پھر کسی نے اسے بتایا کہ سندھ میں جناح ہسپتال میں کینسر کا بالکل مفت علاج ہوتا ہے تو وہ کراچی پہنچا اور پھر اس کے بیٹے رب نواز کا علاج شروع ہوا جو ڈھائی مہینے تک چلا۔ اس دوران اللہ بخش نے کہا کہ اس کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا اور اس کا بیمار تکلیف میں مبتلا بیٹا اللہ تعالیٰ کے مہربانی و رضا سے صحتیاب ہوکر اپنے گھر آ گیا۔

یہ ساری کہانی یہاں بیان کرنے کا مطلب کسی کی مدح سرائی یا کسی کی برائی کرنا ہرگز نہیں ہے بلکہ اربابِ اختیار اور خصوصی طور پر خان صاحب کو ان کے وہ وعدے اور دعوے یاد دلانا ہیں جو انہوں نے تعلیم، صحت، امن و سلامتی، ترقی و خوشحالی، مہنگائی و گِرانی کے خاتمے کے لئے اپنے لوگوں سے خاص طور اپنے ووٹروں اور چاہنے والوں سے کیے تھے۔ آج پنجاب میں گورننس کی مجموعی صورتحال تمام صوبوں سے زیادہ خراب ہے، کرپشن اقربا پروری عروج پر ہے، نا اہلی نالائقی کا حال تو یہ ہے کہ پنجاب حکومت کا ترجمان یہ کہہ کر اپنی حکومت کی ترجمانی سے علیحدہ ہوگیا کہ اب مزید نا اہلیت نالائقیت اور بدترین طرزِ حکمرانی کا دفاع نہیں کر سکتا۔

پنجاب کی عوام جنہوں نے خان صاحب کے مسند اقتدار ہونے میں سب سے زیادہ حصہ ڈالا آج وہ سب سے زیادہ متمنی ہیں خان صاحب کے اقتدار سے علیحدہ ہونے کے کیونکہ خان صاحب کی نا اہلی اقربا پروری اور حالات سے چشم پوشی نے نہ صرف امن و امان کی صورتحال کو تحس نحس کردیا ہے بلکہ عوام سے روٹی روزگار تک چھین لیا ہے اور اب سونے پہ سہاگا مہنگے ترین علاج کی مفت سرکاری دواؤں کی سہولیات بھی واپس لے لی گئی ہیں۔

عمران خان صاحب کی حکومت کے صرف تیرہ ماہ ان کی بدترین کارکردگی کا پول کھول گئے ہیں۔ خان صاحب پچھلے چھ سال سے کے پی کے میں حکومت میں ہیں مگر انہیں شوکت خانم کینسر ہسپتال بنانے کے لئے عوام سے اربوں روپے کے فنڈز کی تو ضرورت تھی مگر سرکاری سطح پہ نئے ہسپتال بنانے اور پرانے ہسپتالوں کی حالتِ زار کو بہتر کرنے کا نہ وقت تھا نہ ہی خواہش، کے پی کے کے ہسپتال اس بات کا بین ثبوت ہیں۔ خان صاحب کے پی کے میں پچھلے چھ سالوں میں علاج معالجے کی مفت سہولیات تو کیا فراہم کرتے جو سہولیات عوام کو پچھلی حکومتوں کے ادوار میں حاصل تھیں وہ بھی چھین لی گئیں۔

آج خان صاحب مرکز سمیت پنجاب کے پی کے میں حکومت کر رہے ہیں مگر ان کے اس تیرہ ماہ کے اقتدار میں ایک بھی منصوبے کا نہ ہی سنگ بنیاد رکھا گیا ہے نہ ہی کوئی منصوبہ بندی کی گئی ہے، پشاور بی آر ٹی خان صاحب اور ان کے اکابرین کی بدترین کرہشن، نا اہلی، نالائقی کا واضح ثبوت ہے، ان کی حکومت میں پہلے سے جاری ترقیاتی منصوبے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ آہستہ آہستہ عوام سے مختلف مفت سرکاری سہولیات بھی واپس لینے کا سلسلہ جاری ہے جس کی مثال بلکہ بہت ہی خطرناک مثال کینسر ادویات کی مفت فراہمی کی سہولت کا خاتمہ ہے۔

وزیراعظم صاحب کو ملک کے سب سے بڑے صوبے جہاں ان کی حکومت ہے کی عوام کی تکالیف و مشکلات میں اضافہ کرنے کے بجائے انہیں علاج معالجے صحت و تندرستی کی بہتر سے بہتر سہولیات کی فراہمی پہ نہ صرف خصوصی توجہ دینی چاہیے بلکہ اپنے وسیم اکرم پلس کی بدترین طرزِ حکمرانی پر انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے عوام کو فوری رلیف دینے کے احکامات صادر کرنے چاہئیں تاکہ عوام کی سیاسی نظام اور سیاسی جماعتوں سے ختم ہوتی دلچسپی اور اعتماد کو بحال کیا جا سکے اور پنجاب کے کروڑوں غریب و نادار لوگوں کو بہتر سے بہتر اور مفت علاج کی سہولیات حاصل ہو سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •