جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مترجم: عامر گمریانی۔

1965 کی گرمیوں کی ایک خنک رات تھی۔ ہوا بالکل بند تھی، مچھر بہت تھے، چاند نے آسمان میں اپنا آدھا سفر طے کیا تھا۔ میں اپنی چارپائی میں بے چین پہلو بدل رہا تھا، اور بے خواب آنکھوں سے چاند کے منزل کی راہ تک رہا تھا۔ میرے ذہن میں قسم قسم کے بے چین خیالات ایک دوسرے کے آگے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ کبھی گلاب کی باتیں اور کبھی فیاض کی زبانی جنگ کا احوال۔ اپنی افواج اور بہادر سپاہیوں کی بہادری کے کارنامے، ایک کے بعد ایک میرے سامنے آرہے تھے۔

جنگ گرم تھی اور گاؤں کے چیئرمین نے بھی اعلان کیا تھا کہ اگر دشمن کے فوجی آگئے اور چھتریوں کے ذریعے نیچے اترنے کی کوشش کی تو مارنے سے پکڑنا بہتر ہوگا۔ انہیں سوچوں میں آنکھوں میں نیند اتر آئی۔ چاند میری آنکھوں کو پہلے دو پھر ایک اور پھر دھندلا نظر آنے لگا۔ آنکھ ابھی پوری لگی نہیں تھی کہ اچانک شور اٹھا۔ ایک کالا منحوس سا جہاز بہت نیچے آگیا تھا اور پھر فوراً جہاز سے چند چھتریاں نیچے اتر آئیں۔ ایک چھتری ہمارے گھر اتر آئی۔

میرا ہاتھ آہستہ سے سرہانے کے نیچے پڑے پستول کی طرف بڑھا لیکن ابھی میں نے پستول نکالا نہیں تھا کہ ایک بدصورت فوجی نے چھلانگ لگائی اور میرے سینے پر بیٹھ گیا۔ پلک چپکتے ہی اس نے مجھے قابو کر لیا۔ پستول ہاتھ سے گر گیا۔ ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوگئے۔ میں جتنا بھی زور لگاتا اتنا ہی وہ مجھے قابو کر لیتا۔ بالآخر اس نے میرا گلا دبا دیا۔ موت آنکھوں کے سامنے آئی تو اچانک دل میں ایک خیال آیا۔ میں یکایک پوری طاقت سے چیخ اٹھا۔ بازوؤں میں بے پناہ طاقت پیدا ہوئی۔ پورے زور کے ساتھ فوجی کو پرے دھکیل دیا۔ پستول اٹھانے کے لئے چھلانگ لگائی تو نیچے گر پڑا، کلمہ پڑھ ہی رہا تھا کہ دیکھا کہ میں خود چارپائی میں پسینے شرابور تھکا ہارا جبکہ میرا تکیہ نیچے زمین پر پڑا ہوا تھا۔

پسِ تحریر: ارباب رشید احمد خان کے افسانے کے ترجمے کی ایک ادنی سی کوشش۔ ارباب صاحب کے پشتو افسانوں کی کتاب ”انگازے“ غالباً 1950 کی دہائی میں شائع ہوئی تھی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •