نکولس دوم کا روس، راسپوٹین کی روحانیت اور آج کا پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چٹھی ملی ہے۔ پرانی ڈاکیے والی نہیں۔ بجلی والی۔ گکھڑ منڈی سے۔ چٹھی پیٹرزبرگ کی انستاسیا کی ہے۔ وہ اپنے پاکستانی سسرال آئی ہوں۔ ماشاء اللہ سے سسرال سیاست میں بڑا نام رکھتا ہے۔ لکھتی ہے۔ گذشتہ ڈھائی ماہ سے یہاں ہوں۔ پاکستانی سیاست کی شعبدہ بازیاں سُن سُن کر مجھے تو کچھ یوں لگتا ہے جیسے میں پیٹرز برگ یونیورسٹی کے طلبہ کو نکولس دوم کے عہد کو پڑھا رہی ہوں۔ راسپوٹین کی خود ساختہ روحانی علمیت کی قصہ کہانیاں اور اُن کے اثرونفوذ پر بحث کررہی ہوں۔

کتنے ڈھیر سارے سوالوں نے سر اٹھا کر مجھ سے کچھ پوچھا ہے۔ اب میں من و عن یہ سوال نہیں لکھ رہی ہوں۔ کہ کیا تمہارا ویسے مجھے کہنا چاہیے تھوڑا سا میرا بھی یہ ملک اِس وقت کچھ مخفی، کچھ سفلی، کچھ معجزاتی قوتوں کے زیر اثر ہے؟ کیا سلطنت کے اہم امور پر عملیات کا کوئی اثر ہے؟ مملکت کے کام وظیفوں اور دعاؤں کے مرہون منت ہیں۔ کیا ہم آخری زار نکولس دوم کے جیسے دور میں سے گزر رہے ہیں۔ کیا دارالحکومت پر راسپوٹین جیسے جھوٹے اور عیار لوگوں کا اثر پھیلا ہوا ہے۔ اسلام آباد پیٹرز برگ کے بیسویں صدی کے آغاز کی جھلکیاں نہیں پیش کررہا ہے؟ کیا اس کے درودیوار پر وہ فیصلے رقم نہیں ہورہے ہیں جو مستقبل کی کوئی اچھی تصویر نہیں دکھا رہے ہیں؟ کیا ہمیں کچھ نشان دہی ہورہی ہے جو یہ بتارہی ہے کہ قوموں اور ملکوں کی زندگیوں میں انقلاب کیوں آتے ہیں؟

تاریخ کی اُستاد ہونے کے ناتے مجھے تو 1910 کے روس اور آج کے پاکستان میں بڑی گہری مماثلت نظرآتی ہے۔

اس میں تو بہرحال کوئی شک نہیں کہ پاکستانی توہمات، اعتقادات اور واہموں میں گھری رہنے والی قوم ہے۔ ستاروں کی چالیں، معجزوں کی برکات اور پیشن گوئیوں پر ایمان دراصل حکمرانوں کے نالائق اور کمزور ہونے کی دلیلیں ہیں۔ نکولس دوم اپنے باپ الیگزینڈر سوم جیسے بہادر، جی دار اور پرعزم انسان کی بجائے کمزور، بزدل، تیز حکومتی فہم و فراست سے عاری اور بیوی کے اشاروں پر ناچنے والا زار تھا۔

اپنے سسرالی گھر میں ہونے والے تبصروں میں مجھے اس ملک کے اقتدار کے ایوانوں میں جو جو قصے کہانیاں سُننے کو مل رہی ہیں۔ اُن سب میں مجھے اس دور کی جھلک نظرآتی ہے۔

راسپوٹین کے زار شاہی میں داخل ہونے کے اسباب میں انہی عملیات اورروحانیت کا پر تو نظر آتا ہے۔ چار بیٹیوں کے بعد پیدا ہونے والا بیٹا الیکسی ہوموفلیا Homophilia کا مریض ہے۔ اس کی بیماری نے ماں باپ کا چین اڑا رکھا ہے۔ اس پس منظر میں پوکروسکو کا ایک دیہاتی جس کا بچپن چوریوں اور آوارہ گردیوں میں گزرا۔ مختلف خانقاہوں، گرجاؤں، ان کے پادریوں سے مباحثے، مذاکروں اور مناظروں میں اُلٹے سیدھے مخفی علوم پر دسترس سے وہ کچھ ماورائی قوتوں کے حامل انسان کے طور پر مشہور زار شاہی کے ایوانوں میں بچے کے معالج کے طور پر داخل ہوتا ہے۔

اس کی سامرانہ اور ساحرانہ کاوشیں بچے کو اس کے درد اور تکلیف سے نجات کا باعث بنتی ہیں۔ بس تو وہ دھیرے دھیرے ان کی کمزرویوں کے سبب اہم امور میں داخل ہوگیا تھا۔ اس سے ملتی جلتی کیفیت معاف کرنا شاید تمہیں بُرا لگے مگر جب صوبوں کے سربراہ بزدل اور کمزور ہوں اور فہم و فراست سے تھوڑا خالی ہوں۔ اشاروں پر چلتے ہوں۔ اندازجہاں بانی میں کمزور ہوں تو ایسے میں اِس نوع کے توہمات پروان چڑھتے ہیں۔ ایک جیالے اور پرعزم انسان کے ہاں اِن کی گنجائش نہیں ہوتی۔ جہاں تک مجھے اِس ملک کے سربراہ کی خصوصیات کا علم ہوا ہے۔ وہ دلیر اور جی دار تو ہے مگر ضدی اور ہٹیلا بھی ہے۔

سسرالی گھرانہ کاروباری بھی ہے اور زمیندار بھی۔ 60 کی دہائی کو میرا سُسر بہت یاد کرتا ہے کہ صنعتی عروج کا زمانہ تھا۔ صنعتوں کو قومیانے اور امن کی مخدوش صورت نے سرمایہ دار کو بھگا دیا۔ آج معیشت کا ڈھانچہ منہ کے بل پڑا ہے۔ چند سال پہلے میرے دیوروں نے روس کے لیے چاول کی سپلائی شروع کی۔ اپنی زمینوں کا چاول۔ روس ہم سب کا ایک طرح اپنا ملک ہے مگر پاکستانی بیوروکریسی نے ہم لوگوں کو زچ کردیا۔

اب یہ بھی تو حیرت کا مقام ہے کہ کلیدی کرسیوں پر افراد کا انتخاب روحانی اشاروں پر ہوتا ہے۔ اُن کی مسلسل نالائقیاں بھی قابل گرفت نہیں۔ کیونکہ اِسے کرسی پر بٹھائے رکھنے میں کچھ غیبی اشارے ہیں۔

مجھے پندرہویں صدی کے عثمانیہ سلطنت کے بانی سلطان محمد فاتح کا زمانہ یاد آیا ہے۔ قسطنطنیہ یعنی موجودہ استنبول کا محاصرہ جاری ہے۔ مشرقی یورپ کے عیسائی حکمران گرجوں اور چرچوں میں بلند آواز میں سلطان کی ناکامی اور اس کے تباہ ہونے کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔

سلطان محمد نے اپنی جنگی حکمت عملی اور تیاریوں کو اپنے پیش نظر رکھا ہے۔ دعا ہے مگر عمل میں ہر ہر پہلو پر نظر ہے۔ شکست اور فتح دونوں صورتوں کی شکل میں حکمت عملیاں بڑی واضح اور منظم انداز میں ترتیب دی گئیں۔

circa 1911: Grigory Yefimovich Rasputin peasant, mystic and self styled holy man (Photo by Topical Press Agency/Getty Images)

اِس تناظر میں آج کے پاکستانیوں، کیا مسلمانوں کا وہی کردار نظر آتا ہے۔ ہندوستان نے کشمیر کے ساتھ جو کرنا تھا وہ کرلیا۔ آپ لکیر کو پیٹ رہے ہیں۔ خالی خولی نعروں سے خود کو طفل تسلیاں دے رہے ہیں۔ حکومت کے ذمہ دار سیٹوں پر بیٹھنے والے لوگوں کے بچگانہ بیان پڑھ اور سُن کر ہنسی آتی ہے کہ ان لوگوں نے کشمیر کے مظلوموں کی مدد کرنی ہے۔

چٹھی نے مجھے افسردہ اور ملول کردیا ہے۔ انستاسیا پاکستانی انجنیر شاہد کی بے حد پیاری بیوی ہیں۔ پیٹرز برگ کی بہت سی میری یادیں اس سے وابستہ ہیں۔ اب ایسے میں مجھے شام کا انقلابی شاعر نزار قبانی کیسے نہ یاد آتا۔ آپ بھی ذرا اُسے سُن لیجیے۔

اب اگر آسمانوں نے تمہاری ضمانت نہیں دی

تو اُسے کوسو مت

حالات کو بھی لعن طعن مت کرو

خدا انہیں فتح دیتا ہے جنہیں وہ چاہتا ہے

خدا کوئی ہتھیار گھڑنے والا لوہار تو نہیں

یاد رکھو

ہمارے دشمن ہماری سرحدوں میں رینگ کر نہیں آئے

وہ تو چیونیٹوں کی طرح

ہماری کمزوریوں کے ذریعے آئے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •