حکومت بلوچستان کی کارکردگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا ماننا ہے کہ میں کوئی بہت پڑھا لکھا شخص نہیں ہوں۔ نہ ہی مجھے اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔ لیکن ایک بات کی ہمیشہ کوشش کی ہے کہ علم و دانش والے شخصیات کی صحبت کا ثمر اور ان سے جو کچھ حاصل ہو وہ آپ تک سادہ الفاظ میں پہنچا سکوں۔ میری اس قلمی جدوجہد کے پیچھے کچھ حاضر ریٹائرڈ بیوروکریٹکس، یونیورسٹی اور کالج کے اساتذہ، سوشل ورکرز کے تجربات اور مشاہدات کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے میں کوشش کرتا ہوں کہ ہر وقت ان سے رابطے میں رہوں اور ان کے علم اور تجربات سے مستفید ہوتا رہوں۔

میری تحریروں کا محور میرا پیارا صوبہ بلوچستان ہے اور رہے گا۔ اس میں جو چیزیں اچھی ہوں گی، وہ سپردِ قلم کی جائیں گی، اور بری چیزوں کو بھی اجاگر کیا جائے گا، تاکہ اصلاح ہوسکے۔ اکثر کرپشن کی حمایتی بیوروکریسی نے حقائق عیاں کرنے کی بجائے حقائق کو چھپائے رکھا۔ لیکن جو بیورو کریٹس اس صوبے کا درد رکھتے ہیں وہ کھل کر دلیلوں کے ساتھ اظہار خیال کرتے ہیں۔ میں ان کا مشکور ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ انہوں نے کسی حد تک اس دھرتی کی نمک حلالی کی ہے۔ اچھی حکمرانی پر ان اچھے لوگوں سے بات چیت اور گفتگو کے بعد مجھے معلوم ہوا ہے کہ ایک اچھی گورننس کو پرکھنے کے لئے ویسے تو بہت سے معیار ہیں لیکن کسی بھی حکومت کو جانچنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر کم ازکم پانچ معیار مقرر کیے گئے ہیں۔

اول رول آف لاء یعنی قانون کی حکمرانی اور میرٹ سسٹم۔ جس حکومت میں سیکریٹری کی پوسٹ ایک یا دو محکموں میں نہیں، بلکہ چھ محکموں میں، اور خاص طور پر ان محکموں میں جو وزیراعلی کے پاس ہوں، میں خالی ہوں، اور وہاں چھ، چھ ماہ اور بعض محکموں میں تو 9 ماہ سے کوئی تعیناتی نہ ہوئی ہو، وہاں حکومت کیا خاک فیصلہ سازی کررہی ہے۔ جہاں سینئر کو چھوڑ کر جونیئر کو چارج تفویض کیے گئے ہوں، وہاں میرٹ کا یقین کیسے کیا جائے؟

تین سیکرٹری 19 گریڈ میں کام کررہے ہیں۔ ہاں البتہ سی ایم آئی ٹی میں سال سے زیادہ کے عرصے سے عارضی بنیادوں پر تعینات اعلی گریڈ کے افسروں کی بھر مار ہے۔ وہ آپ مجھ سے بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ کہ وہ کیوں ہے۔ پھر وزیر خان کا کیس ہے۔ غرض کس کس کا ذکر کیا جائے ہر محکمے میں کمائی والی پوسٹ پر جونیئر افسر ز نظر آئیں گے۔ یہ میرٹ کی دعویدار حکومت میں سب ہو رہا ہے۔

دوسرا معیار شفافیت کا گردانا جاتا ہے۔ اور شفافیت کو ناپنے کا پیمانہ انفارمیشن تک رسائی ہے۔ جس کی گارنٹی ہمارا آئین بھی دیتا ہے۔ لیکن بلوچستان حکومت میں مجال ہے آپ کو کوئی انفارمیشن آزادانہ طور پر مل جائے۔ آپ بلوچستان حکومت کی ویب سائٹ پر چلے جائیں تو آپ کو کوئی تازہ انفارمیشن نہیں ملے گی۔ لگتا ہے جب سے بنی ہے اس کو اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا ہے حالانکہ ہمارے وزیراعلی خود آئی ٹی کے بڑے ماہر ہیں۔ ہاں البتہ یک طرفہ انفارمیشن بذریعہ ٹوئٹر اور اخباری اشتہارات کی شکل میں ضرور ملتی ہیں۔

بلکہ افسر ان کو سختی سے منع کیا گیا ہے کہ محکمے سے متعلق کوئی خبر یا انفارمیشن کسی سے شیئر نہ کی جائے۔ یہاں تک کہ محکمہ ایریگیشن، محکمہ مواصلات و تعمیرات اور دیگر ترقیاتی کام کرانے والے محکموں میں تبادلوں کے نوٹیفکیشن بھی اس قدر پوشیدہ رکھے جاتے ہیں، کہ جس کا آرڈر ہوا ہے اس کے عالاوہ کسی کے پاس آرڈر کی کاپی نہیں ہوتی ہے۔ کسی اور کے لئے اس کا حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اگر حکومت میرٹ پر چل رہی ہے تو اسے سب ڈاکیومینٹ کو پبلک کرنا چاہیے۔

تیسرا معیار بڑا اہم ہے یعنی احتساب۔ احتساب کے حوالے سے موجودہ حکومت نا ہی سنجیدہ تھی نہ ہے اور نہ ہوگی۔ جس طرح مختلف محکموں میں کھلم کھلا پیسے لے کر سینئر افسر کو ہٹا کر جونیئر کو لگانے کی خبریں زبان زد عام ہوں اور وہ ظاہر ہے اس لیے ہو رہا ہے کہ یہ سب کرنے والوں کو احتساب کا کوئی خوف نہیں۔

چوتھا معیار ایفیشنسی یا کارکردگی اور وقت پر فیصلہ کرنے سے متعلق ہے۔ اس معیار سے متعلق سب متفق تھے کہ اس حکومت کی کارکردگی اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت پچھلی گزری ہوئی حکومتوں کے مقابلے میں انتہائی کم تر ہے۔ پچھلا سارا سال پی ایس ڈی پی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرسکے اور معزز عدالت کو بھی مطمئن نہ کرسکے جس سے صوبے کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ اسکیمات کی کاسٹ بڑھ گئی۔ لوگوں کو جو روزگار ملنا تھا وہ نہ مل سکا۔

اب بھی تقریبا صورتحال وہی ہے۔ جو فائل جاتی ہے اس پر تین تین ماہ تک کوئی فیصلہ نہیں ہوتا اور اگر کبھی خوش قسمتی سے کوئی فائل واپس آ بھی جائے۔ تو اکثر دو معنی جملے لکھے ہوتے ہیں۔ اب سیکریٹری پریشان ہے کہ اس سے کیا مطلب اخذ کیا جائے غرض فیصلہ سازی کا فقدان ہے۔ پانچواں معیار Equitable یا برابری کو گردانا گیا ہے۔ اگر کوئی حکومت سب کو برابری کی نظر سے دیکھتی ہے۔ اور شہری یہ سمجھتے ہوں کہ ہمیں اس حکومت میں برابری کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

تو اس حکومت کو بہتر حکومت کہا جاتا ہے۔ بد قسمتی سے یہ حکومت برابری کے تاثر کو پیدا کرنے میں مکمل ناکام نظرآتی ہے۔ اپوزیشن چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے۔ کہ ان کے علاقوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ حکومت کے بعض اتحادی بھی یہی شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔ اس سے زیادہ لکھوں گا تو متعصب کا ٹھپہ لگ سکتا ہے۔ حالانکہ بات سچ ہو گی۔ یہ چند سطور دراصل عام لوگوں کی آراء ہیں احساسات ہیں۔ امید ہے گورنمنٹ مستقبل میں اس تاثر کو زائل کرنے کوشش کرے گی۔ بہرحال انسان کو بہتری کی امید رکھنی چاہیے۔ !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •