وزیر اعظم کا ’مشن کشمیر‘ کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملیحہ لودھی تجربہ کار صحافی اور سفارت کار ہیں۔ یہ تجربہ یوں بھی کثیر الجہت ہے کہ انہیں ایک دوسرے کی گردن ناپنے والی حکومتوں کا یکساں طور سے اعتماد حاصل رہا ہے ۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران انہوں نے امریکہ، برطانیہ اور اب اقوام متحدہ کی سفارت پر براجمان ہوکر اپنی ہمہ قسم صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔ اس لئے اگر وہ وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ (یا اقوام متحدہ) کو ’مشن کشمیر‘ قرار دے رہی ہیں تو اسے سچ ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوسکتا۔ تاہم اس مشن کے اسکوپ اور کامیابی کے بارے میں شاید ملیحہ لودھی جیسی گھاک اور دنیا ساز سفارت کار بھی کوئی یقینی بات منہ سے نہیں نکالیں گی۔

وزیر اعظم عمران خان بھی نیویارک روانہ ہونے سے پہلے بار بار یہ یقین دلاتے رہے ہیں کہ قوم بس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان کی تقریر کا انتظار کرلے، کشمیر کے معاملہ پر وہ پوری دنیا کے لیڈروں کو متاثر کرکے ہی گھر لوٹیں گے۔ یہ دعویٰ تسلیم کرلینے میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن محض تقریروں سے کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا کجا کہ وہ کشمیر جیسا الجھا ہؤا اور دہائیوں پر محیط تنازع ہو۔ جس کے دونوں فریقوں کے نقطہ نظر میں زمین آسمان کا بعد ہو اور دنیا کے لیڈر اسے کشمیری عوام کے حق خود اختیاری کی بجائے، جوہری صلاحیت کے حامل دو ملکوں کے درمیان تصادم کے اندیشے کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہوں۔

عمران خان قوم کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کی کرشمہ سازی کا یقین دلاتے ہوئے شاید خود بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جنرل اسمبلی کو لندن کے مشہور زمانہ ہائیڈ پارک سے زیادہ حیثیت حاصل نہیں ہے، جہاں کوئی بھی شخص جو چاہے بول سکتا ہے لیکن اسے سننے والا کوئی نہیں ہوتا اور اگر دو چار سننے والے میسر آبھی جائیں تو وہ بھی زیر لب مسکراتے ہوئے ان باتوں کا لطف لیتے ہیں اور پھر اگلا نظارہ کرنے کے لئے کسی دوسرے مقرر کی طرف رخ کر لیتے ہیں۔ جنرل اسمبلی میں ملکوں اور حکومتوں کے سربراہان کی تقریروں کو تو اتنی اہمیت بھی نہیں دی جاتی جتنی صدر مملکت عارف علوی کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کو دی گئی تھی۔ کیوں کہ صدر عارف علوی اگرچہ محض ’آئینی ‘ یعنی بے اختیار صدر ہیں لیکن وہ تحریک انصاف کے نمائندے ہیں اور ان کی باتوں کو کسی حد تک ایوان میں اکثریت رکھنے والی پارٹی کی گفتگو سمجھا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ یوں بھی قوموں کے درمیان تنازعات ختم کروانے کے لئے ایک بے اختیار ادارے کی حیثیت رکھتا ہے جسے طاقت ور ملک اپنی ناقص اور بعض صورتوں میں انسان دشمن پالیسیوں کے لئے ایک اوزار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اسی لئے اقوام متحدہ کا ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق خواہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کتنی ہی تشویش کا اظہار کرے اور بھارتی حکومت کو نہتے مظاہرین کے خلاف مہلک ہتھیار استعمال کرنے کا ذمہ دار قرار دے، اقوام متحدہ یا اس کے رکن ممالک ان باتوں کو سنی ان سنی کرکے اپنے مفاد کی سیاست پر عمل پیرا رہتے ہیں۔ یوں بھی اقوام متحدہ کے نظام میں جنرل اسمبلی کو نہیں بلکہ سلامتی کونسل کو فیصلہ کرنے یا اسے نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ اختیا ربھی عملی طور سے پانچ بڑی طاقتوں کی ویٹو پاور کا اسیر ہے۔ گویا نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی والا معاملہ ہے۔ نہ دنیا کے سرپنچ متفق ہوں گے اور نہ ہی انسانوں پر ظلم ہو یا کسی کمزور ملک کے خلاف فوج کشی کا معاملہ، اس کے حل ہونے کی نوبت آئے گی۔

اس حوالے سے یوں تو کشمیر کا معاملہ ہی مثال کی حیثیت رکھتا ہے جو گزشتہ سات دہائیوں سے سلامتی کونسل کی ’خواہش‘ کے باوجود حل طلب ہے اور ہر سال پاکستانی حکومت کے نمائیندے کو جنرل اسمبلی کے خطاب میں یاد دلانا پڑتا ہے کہ یہ مسئلہ بھی حل طلب ہے۔ اور پھر سفارتی معاملات پرانی ڈگر پر رواں رہتے ہیں۔ تاہم اس کی تازہ ترین مثالوں میں شام کی طویل خانہ جنگی کے علاوہ یمن پر سعودی اتحاد کی مسلط کردہ جنگ بھی شامل ہیں۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد اس بات پر تو بحث ہو رہی ہے کہ یہ حملہ حوثی کر ہی نہیں سکتے، اس لئے یہ لازمی طور سے ایران نے کیا ہوگا لیکن کوئی عقل کی یہ بات زبان پر لانے کے لئے آمادہ نہیں ہے کہ سعودی عرب کو یمن پر فضائی حملے بند کر کے، اس غریب ملک کے عوام پر تباہی، موت اور بیماری مسلط کرنے سے باز رہنا چاہئے تاکہ مشرق وسطیٰ کسی نئی افتاد سے محفوظ رہ سکے۔

اب اسی ناکارہ اور آزمودہ پلیٹ فارم پر وزیر اعظم عمران خان کشمیر کا مقدمہ پیش کرنے کے لئے گئے ہیں جسے ملیحہ لودھی ’مشن کشمیر‘ کا نام دے رہی ہیں۔ عمران خان پر اس مشن کی کامیابی کا بار ڈالنے سے پہلے تو ملیحہ لودھی کو اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ انہوں نے سال ہا سال تک اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کون سا کارنامہ سرانجام دیا ہے اور اس معاملہ پر اقوام متحدہ کے نظام میں کیا ہیش رفت دکھانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ ان کی اس کارکردگی کا البتہ پوری دنیا کو علم ہے کہ وہ 2017 کے ایک اجلاس میں بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم کا ذکر کرتے ہوئے فلسطینی بچی کی تصویر ’ثبوت‘ کے طور پر دکھاتی پائی گئی تھیں۔ اس کے باوجود انہیں اپنی ناقص ’ریسرچ‘ اور معلومات پر کوئی شرمندگی نہیں ہوئی اور وہ پاکستان میں حکومت تبدیل ہونے کے باوجود اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب کے عہدے پر بدستور فائز ہیں۔ اس تناظر میں ان کا عمران خان کے دورہ نیویارک کو ’مشن کشمیر‘ قرار دینا قابل فہم ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کی وجہ تسمیہ ذاتی ہے، کشمیر کاز سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔

مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے علاوہ سات ہفتوں سے مقبوضہ وادی میں لاک ڈاؤن کی کیفیت مسلط کرنے کے باوجود بھارتی حکومت کو دنیا میں کسی خاص سفارتی دشواری کا سامنا نہیں ہے۔ اس ماہ کے شروع سے جینوا میں اقوام متحدہ کی 47 رکنی انسانی حقوق کونسل کا اجلاس منعقد ہورہا ہے۔ پاکستان اس اجلاس میں بھارت کے خلاف قرارداد پیش کرنے کے لئے 16 رکن ملکوں کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے اس اجلاس میں ایسی کوئی قرارداد پیش نہیں کی جا سکی۔ کونسل کے اجلاس میں قرارداد منظور کروانے کے لئے کم از کم 24 رکن ملکوں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ یہ اجلاس 27 ستمبر کو ختم ہو جائے گا لیکن اس بات کا بھی امکان نہیں ہے کہ پاکستان کشمیر کے معاملہ کو ایجنڈا پر لانے اور اس پر بحث کروانے میں کامیابی حاصل کر سکے۔ وزیر اعظم عمران خان اور وزارت خارجہ نے اس کے برعکس یہ دعویٰ ضرور کیا ہے کہ کشمیر کے معاملہ پر 58 ملکوں نے پاکستان کی حمایت کی ہے۔ تاہم اس کا کوئی دستاویزی ثبوت سامنے نہیں آ سکا۔

دنیا کے لئے مقبوضہ کشمیر کا معاملہ دو حوالوں سے اہم ہے۔ 1) وادی کے 80 لاکھ شہری کرفیو، مواصلاتی مقاطعہ یا دوسری قسم کے لاک ڈاؤن کا سامنا کررہے ہیں۔ ان کا دنیا سے رابطہ نہیں ہے اور کشمیریوں کی بہبود کے بارے میں مصدقہ معلومات تک دنیا کی رسائی نہیں ہے۔ 2) یہ معاملہ پاکستان کے ساتھ بھارت کے تنازعہ کو سنگین کرنے کا سبب بنا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم اور حکومت نے اس حوالے سے گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران تند و تیز بیانات دیے ہیں اور بھارتی حکومت کو انتہا پسند ایجنڈے کا پیروکار بتایا ہے۔ اس صورت حال میں دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم کو روکنا، دنیا کے اہم ملکوں کے لئے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔

اس کے برعکس پاکستانی وزیر اعظم کے نام نہاد ’مشن کشمیر‘ کی بنیاد یہ نکتہ ہے کہ اقوام عالم کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے اور کشمیریوں کو قیدی بنانے پر بھارت کی مذمت کریں۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔ بظاہر عمران خان کا یہ مشن شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بھارتی حکومت امریکہ سمیت دنیا کے اہم ممالک کو یہ یقین دلانے میں کامیاب دکھائی دیتی ہے کہ کشمیر میں حالات اس کے کنٹرول میں ہیں اور بتدریج وہاں پر پابندیاں کم کی جا رہی ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ بھی کشمیر کے معاملہ پر متعدد درخواستوں کی سماعت کے دوران بھارتی حکومت کا یہ مؤقف تسلیم کر چکی ہے۔ عالمی سطح پر اس کی سب سے بڑی کامیابی آج رات ہوسٹن میں مودی کے جلسہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت ہو گی۔

امریکی صدر نریندر مودی کے علاوہ عمران خان سے بھی ملاقات کریں گے لیکن ان ملاقاتوں میں کشمیریوں کے حق خود اختیاری کے سوال کو بنیادی اہمیت حاصل نہیں ہوگی۔ اس صورت میں یہ سوال جواب طلب رہے گا کہ عمران خان کا ’مشن کشمیر ‘ کیا ہے اور کیا تحریک انصاف کی حکومت کشمیر کے ساتھ بھی وہی سلوک کرنے والی ہے جو ملکی معیشت کے ساتھ کیا جا چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1274 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali