مدرسوں کے طلبا کیا سوچتے ہیں؟ 

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خورشید ندیم صاحب کا فون آیا، کہا میں لاہور میں ہوں، میں نے جواب دیا بڑی اچھی بات ہے لکشمی چوک سے بٹ کی کڑاہی گوشت کھائے کافی دن ہو گئے اکٹھے چلیں گے، فرمانے لگے وہ بھی ٹھیک ہے مگر کیا ہی اچھا ہو اگر ہم جامعہ نعیمیہ میں ملاقات کر لیں۔ سبحان اللہ، کہاں لکشمی چوک کہاں جامعہ نعیمیہ۔ مزید گفتگو کے بعد معلوم ہوا کہ جامعہ میں طلبا و طالبات کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام ہے۔ اس سے اچھی بات بھلا کیا ہو سکتی تھی، تھوڑی دیر باہمی امور پر بات چیت کرنے کے بعد ہم نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا کہ کڑاہی گوشت یقینا خدا کی نعمتوں میں سے ایک ہے مگر فی الحال اسے ملتوی کرکے جامعہ نعیمیہ کے طالب علموں سے ملا جائے۔

جامعہ کے سربراہ مولانا راغب نعیمی نے استقبال کیا، مولانا ایک خوشگوار شخصیت کے مالک ہیں، نرم خُو، بذلہ سنج اور اپنے والد محترم جناب سرفراز نعیمی شہید کی طرح سادہ اور پُر خلوص۔ میں نے ازراہ تفنن کہا مولانا اگر آپ شیو کر لیں تو بالکل بانکے نوجوان لگیں۔ اِس بات پر آپ نے قہقہہ لگا کر خوشی کا اظہار کیا۔ جامعہ کے ہال میں طلبا اور طالبات کو اکٹھے دیکھ کر میں نے مولانا سے پوچھا کہ کیا یہاں مخلوط تعلیم ہے، انہوں نے فرمایا کہ نہیں لڑکیاں علیحدہ پڑھتی ہیں اور آج یہ خاص طور سے اِس نشست کے لیے یہاں آئی ہیں۔

 سب بچیوں نے نقاب اوڑھ رکھے تھے اور یہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کر رہی تھیں۔ راغب نعیمی صاحب کو اِس بات پر بجا طور پر فخر ہے کہ وہ پاکستان میں ایک ایسا مدرسہ چلا رہے ہیں جہاں دینی اور دنیاوی تعلیم ساتھ ساتھ دی جاتی ہے، انہوں نے بتایا کہ لڑکے یہاں مدرسے میں قران، حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ساتھ ہی اپنی پسند کے مضامین میں انہوں نے ایم اے /بی اے وغیرہ میں داخلہ بھی لے رکھا ہے۔

گفتگو شروع ہوئی تو وقت گذنے کا احساس ہی نہیں ہوا، تقریباً دو گھنٹے کی اِس نشست میں طلبا نے مختلف موضوعات پر سوال کیے، زیادہ تر سوالات اس قسم کے تھے کہ آخر ہمارے دیگر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قران، حدیث اور فقہ کی تعلیم کیوں نہیں دی جاتی، ہم دین سے دور کیوں ہیں، یہ ملک اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر بنایا گیا تھا تو کیوں یہاں اسلامی شعائر نہیں اپنائے جاتے، مسلم امہ متحد کیوں نہیں ہوتی، کشمیر کے مسئلے پر ہم اس قدر بے بس کیوں ہیں، وغیرہ۔

 دراصل یہ سوالات صرف مدرسے کے طالب علموں کے ذہنوں میں ہی نہیں ہم سب کے ذہنوں میں ہیں، دیگر یونیورسٹیوں میں بھی مجھے جانے کا اتفاق ہوتا رہتا ہے وہاں بھی نوجوا ن اسی فرسٹریشن کا شکار نظر آتے ہیں۔ خورشید ندیم اور راغب نعیمی صاحب نے اِن سوالوں کے نہایت علمی، مدلل اور تفصیلی جواب دیے، کچھ حصہ خاکسار نے بھی ڈالا۔  دراصل ہمارے ذہنوں میں مسلمانوں کی عظمت رفتہ کاوہ تصور ہے جب مدرسے ایک قسم کی سول سروس اکیڈمی ہوا کرتے تھے جہاں سے قاضی فارغ التحصیل ہو کر نکلتے تھے، یہ قاضی صرف قانون ہی نہیں بلکہ اسلامی فقہ کے بھی ماہر ہوتے تھے، اسی طرح مسلمانوں کے سائنس دان اور سکالر بھی انہی مدرسوں میں پڑھتے تھے اور بیک وقت دینی اور دنیاوی تعلیم حاصل کرتے تھے۔

آج کی دنیا چونکہ اسپیشلائزیشن کی دنیا ہے اس لیے اب یہ ممکن نہیں رہا۔ یہاں دو باتیں ہم نے نوٹ کیں، پہلی، طلبا نے ہماری گفتگو بے حد تحمل سے سنی، کسی بات سے ایسا نہیں لگا کہ مخالف نقطہ نظرسننے کا اُ ن میں حوصلہ نہیں، سخت گیری اُن میں دکھائی نہیں دی، وہ سیکھنا چاہتے تھے، سوالات کا جواب چاہتے تھے اور اِس بات پر نالاں تھے کہ معاشرہ اُن اصولوں پر کیوں نہیں چلتا جن کا حکم ہمارے دین نے دیا ہے۔ دوسری بات ہم نے یہ نوٹ کی کہ طلبا میں تنقیدی شعور کی کمی تھی مگر یہ اُن کا یا مدرسے کا قصور نہیں تھا، ہمارے ہاں کہیں بھی اسکول، کالج، یونیورسٹی یا مدرسے میں تنقیدی شعور پروان نہیں چڑھایا جاتا، یہی وجہ ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ، حتی کہ غیر ملکی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل بھی اکثر تنقیدی شعور سے نا آشنا ہوتے ہیں سو اِس بات پر مدرسے کے طالب علموں کے نمبر کاٹنا مناسب نہیں۔

ایک سوال میں نے بھی مدرسے کے طلبا سے کیا کہ کچھ دن پہلے میں ایک جنازے میں گیا، وہاں باغ میں نماز جنازہ کا اہتمام تھا، جب صفیں باندھنے لگے تو ایک شرعی وضع قطع کے نوجوان نے لوگوں سے کہا کہ اپنی اپنی جوتیاں اتار کر نماز جنازہ پڑھیں، سب نے ایسا ہی کیا، مگر اسی باغ کے باہر انہی لوگوں نے اپنی گاڑیاں غلط پارک کی ہوئی تھیں، لیکن کسی نے بھی اُنہیں اِس بات پر نہیں ٹوکا، سو کیا وجہ ہے کہ ہم لوگ دینی معاملات میں تو بہت حساس ہیں مگر ریاست کے قانون پر عمل کرنے کے معاملے میں حساس نہیں، کتنی ہی مجبوری ہو پرروزہ نہیں توڑتے البتہ افطاری کے وقت جلد بازی میں ٹریفک کے اشارے توڑتے چلے جاتے ہیں، ہمارا یہ دہرا میعار کیوں ہے؟

راغب نعیمی نے اس کا اچھا جواب دیا کہ دینی معاملات میں ہمارے سر پر جہنم کا ایک ڈنڈا ہے، اگر ہم نماز، روزے میں کوتاہی کریں گے تو آخرت میں ناکام ہوں گے، مگر دنیاوی قانون پر کوئی اُس وقت تک عمل نہیں کرتا جب تک اسے معلوم نہ ہو کہ اِس کی بھی سزا ملے گی، آج اگر شہریوں کو یقین ہو جائے کہ اُن کی غلطیو ں پر کوئی معافی نہیں ملے گی تو سب تیر کی طرح سیدھے ہو جائیں گے۔ میری رائے میں یہ معاملے کا ایک پہلو ہے، سزا کے بغیر قانون پر عمل درآمد کروانا ممکن نہیں مگر بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں لوگ سزا کے خوف کے بغیر بھی قانون پر عمل کرتے ہیں، آئین کا احترا م کرتے ہیں اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ریاست کے آئین اور قانون کو اسی طرح مقدس سمجھتے ہیں جیسے ہم عبادات کو ایمان کا جزو مانتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اُن معاشروں نے ایسی کیا جدو جہد کی جس کے نتیجے میں وہاں آئین اور قانون کو تقدیس مل گئی، اِس کا جواب پہلے بھی دیا ہے، دوبارہ بھی گوش گذار کر دوں گا!

اِس نشست میں ایک حیرت انگیز بات خورشید ندیم کی زبانی پتا چلی کہ ہمارے اسکولوں کے نصاب میں ایسی کوئی کتاب نہیں پڑھائی جاتی جس میں صراحت کے ساتھ بچوں کویہ بتایا جاتا ہو کہ سماج کیا ہوتا ہے، فرد اور سماج کا کیا تعلق ہے، سماجی اخلاقیات کیا ہوتی ہیں، اخلاقیات کی مذہبی بنیا د کیا ہے، سماجی رویے کیسے تشکیل پاتے ہیں، سماجی علوم کون سے ہیں، کسی معاشرے میں آئین کی ضرورت کیوں ہوتی ہے، آئین اور فرد کا کیا تعلق ہوتا ہے، سماجی تنازعات کیوں ابھرتے ہیں اور انہیں کیسے حل کیا جاتا ہے؟

 معاشرتی علوم کا مضمون ضرور نصاب میں شامل ہے مگر معاشرتی علوم کی کوئی درسی کتاب میری نظر سے نہیں گزری جس میں آئین کی افادیت بطور سوشل کنٹریکٹ بچوں کو پڑھائی جاتی ہو، حتی کہ اے لیول کے وہ بچے جو قانون کو بطور اختیاری مضمون پڑھتے ہیں انہیں بھی پاکستانی آئین کی بجائے برطانیہ کے آئین کے خدو خال سمجھائے جاتے ہیں۔ بات پھر وہی ہے کہ ریاست کے قانون اور آئین کا احترام ہماری آخری ترجیح ہے، اگر کسی درسی کتاب میں دین سے متعلق کوئی متنازع بات شائع ہو جائے، بھلے سہواً ہی ایسا ہو، تو کوئی اسکول وہ کتاب اپنے بچوں کو نہیں پڑھائے گا، مگر معاشرتی علوم کی کتاب میں چاہے آمریت کے فوائد ہی کیوں نہ گنوائے گئے ہوں، کسی کے کان پر جوں نہیں رینگے گی۔ سوجب تک جوں نہیں رینگتی اُس وقت تک اسکولوں کو چاہے ے کہ ادارہ تعلیم و تحقیق، اسلام آباد کی معاون درسی کتاب ”سماجیات“ بچوں کو پڑھائیں تاکہ انہیں قانون کی حکمرانی کا تصور واضح ہو سکے، یہ کم سے کم ہے جو ہم اپنے بچوں کے لیے کر سکتے ہیں۔

(ہم سب کے لئے خصوصی طور پر ارسال کی گئی تحریر)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 351 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada