کشمیری اپنی شناخت برقرار رکھنے کے لئے لڑ رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

20 ستمبر 2019 کو ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی مظفرآباد کی مقامی خواتیں نے چھتر چوک میں جمع ہو کر مقبوضہ کشمیر کی ماووں، بہنوں اور بیٹیوں سے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا۔ جان کر خوشی ہوئی کہ مجمع میں ہر خاتوں کا جذبہ دیدنی تھا۔

کسی بھی حساس دل کے لئے 2016 کی صورت حال بھی آج کی صورت حال سے مختلف نہ تھی مظفرآباد کے انہی چوکوں میں کبھی بھرے مجمعوں میں اور کبھی تن تنہا میں دیوانوں کی طرح دھوپ، چھاوں، گرمی، سردی اور بارش کی پرواہ کیے جب کھڑی ہوتی تھی تو سب سے پہلا سوال دماغ میں یہی ابھرتا تھا۔ کیا ان لوگوں کو پتہ ہے کشمیری اپنی جان کی قربانی کیوں دے رہے ہیں؟ اس شہر مظفرآباد میں رہنے والے اپنے آپ کو کشمیری کیوں کہتے ہیں؟ چنانچہ the identity یعنی شناخت کے نام سے ہم نے سوشل میڈیا مہم کا آغاز کیا اور اسی طرح 26 ہفتے مسلسل جمعہ کے دن ہم اکٹھے ہو کر آزادی چوک میں عام لوگوں کو کشمیر کی صورت حال سے آگاہی بھی دیتے تھے اور اپنے جذبے کو بھی تروتازہ کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ شاید ایک دن اعلان ہو جائے، تمام قوم جاگ چکی ہے اور اپنا حق خود ارادیت مانگتی ہے۔

چونکہ سوچنے، بولنے اور گھومنے پھرنے کی آزادی اس خطے میں میں PSA اور AFSPA جیسے کالے قانون کے ڈر خوف سے بھی آزاد ہے تو یوں ہر شخص اپنی سوچ کا اظہار بلا خوف و خطر کرتا ہے مگر پہاڑیوں کی طبعیت میں موروثی طور پر بھی یہ خصوصیت پائی جاتی ہے۔ جس کا اندازہ آپ و وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر صاحب کی تقاریر سے بھی لگا چکے ہوں گے۔ جو اپنی سوچ کا اظہار کرتے کبھی بھی نہیں ہچکچاتے۔

ہم سب جانتے ہیں کشمیر کی آزادی بہت بڑا مقصد ہے اور یہ مقصد تب تک ادھورا ہے جب تک ہر ایک عام و خاص کو یہ معلوم نہ ہو جائے کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے اپنی شناخت کو برقرار رکھنے کے لئے 80 ہزار سے زائد قربانیاں دیں۔ اور دوسری طرف آزاد کشمیر میں بھی صورت حال مختلف نہیں یہ لوگ جو اپنی مٹی سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ کئی دفعہ میں خونی باڑ پر لوگوں سے ملاقات کے دوران ایک ہی بات کئی دفعہ کہتی رہی اگر اتنی گولہ باری ہوتی ہے تو ہجرت کیوں نہیں کرتے جواب ملتا ہے، نہیں یہ ہمارے بزرگوں کی زمیں ہے اور ہمارا جینا مرنا یہیں ہے۔

میرے جیسے کئی اور لوگ اس منتق کو سمجھنے سے شایداس لئے قاصر ہیں کہ ان کے خاندان ملک سے باہر ہیں اور شادیاں بھی ملک سے باہر ہوئی ہوں۔ کیونکہ ہمارا اس خطے سے تعلق اپنی خواہش ( by choice ) ہے اور ہم گلوبل سیٹزن کے فارمولے پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں۔

مگر اس براعظم ایشیا کی 3 ارب آبادی کے درمیان ڈیڑھ کروڑ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی شناخت برقرار رکھنے کے لئے بغیر کسی نیوکلیئر بم کے خوف، معاشی راہداری کے فائدے، نقصان جانے بغیر صرف اور صرف اپنی شناخت برقرار رکھنے کے لئے لڑ رہے ہیں کیونکہ وہ کشمیری جانے جاتے تھے اور اپنی اگلی نسلوں کو بھی وہی پہچان دینا چاہتے ہیں جو انہیں اپنے آباواجداد سے ملی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ماریہ اقبال ترانہ کی دیگر تحریریں
ماریہ اقبال ترانہ کی دیگر تحریریں