ایک نئی اشرافیہ کی تخلیق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گویا صورت حال یہ ہو گئی ھے کہ آپ تین بار کے منتخب وزیراعظم نوازشریف کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے چور، ڈاکو اور خائن بولتے رہیں ملک کے موجودہ وزیراعظم عمران خان تو کیا اس کی بہنوں کے سروں کی چادروں تک کو کھینچتے رہیں سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کو ڈکیت اور مافیا کے القابات سے نواز تے رہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی پگڑی اچھالتے رہیں۔ اسفندیار ولی خان سے محمود خان اچکزئی کے خاندانوں تک زیر بحث لاتے رہیں۔ مریم نواز اور بلاول کے حوالے سے اخلاق باختہ گفتگو کرتے رہیں اور سراج الحق کو منافق بھی بولتے رہیں۔ لیکن جب سیاست پر ان” دانشورانہ” تبصروں سے فرصت ملے تو سپریم کورٹ سے سینیٹیشن کے محکمے تک ھر ادارے اور محکمے کی ایسی کی تیسی کر لیں۔ میڈیا کی طرف پلٹیں تو جو کوئی بھی اختلاف کرے، اسے خائن سے خوشامدی تک جو بھی خطاب دینا چاہیں، خوف خدا سے بے پرواہ اور قانون سے مبرا ہو کر دے دیں۔ ڈاکٹر کو کام چور، وکیل کو ٹاوٹ، استاد کو نا لائق، مولوی کو جاہل، کسان کو ان پڑھ اور کلرک کو رشوت خور بھی جب چاہیں بول سکتے ہیں۔ فنکار کی توہین کرتے اور قلم کار کو بھی بوقت ضرورت گھسیٹ سکتے ہیں۔ اقدار کو ہوا برد کر سکتے ہیں اور قانون کو بھی پاوں تلے روند سکتے ہیں۔

یہ تمام “سہولتیں ” اس مملکت خداداد کی عجیب و غریب جمہوریت میں آپ کو بلا روک ٹوک حاصل ہیں لیکن اس تمام تر آزادی کے باوجود بھی ایک طبقے نے خود ساختہ بیانیے کی مدد سے خود کو تنقید اور مخالفت سے ماورا قرار دیا ھے گویا ایک نیا اور جابرانہ اشرافیہ سروں پر سوار ھونے کو ھے۔

اس طبقے کا طریقہ واردات ملاحظہ ہو کہ تاریخ کے اوراق سے ایک محترم اور قابل فخر ماضی کے حامل صیغے لبرل کو لے اڑے۔ بدلے ھوئے زمانے اور تقاضوں کے مطابق لبرل ازم کے خد و خال جدوجہد اور نظریاتی وابستگی سے نہیں تراشے جاتے سو اب ضروری نہیں کہ ماضی کی مانند لبرل بننے کے لئے آپ نظریاتی تقدس کے حامل اور علم و فضل سے معمور ھوں یا آپ زندانوں میں بھی رہیں اور زنداں نامہ بھی تخلیق کرتے رہیں اور فیض بن جائیں۔ صبح بے نور کو سر عام ماننے سے انکار کی جرآت کریں اور جالب بنیں۔ آزادی اظہار کا علم ناسازگار موسموں میں اٹھاتے اور ضمیر نیازی بنتے رہیں۔ کسی تاریک کوٹھری میں اپنی آسائشیں اور چڑھتی جوانی اپنے نظریے کی خاطر ہارتے اور حسن ناصر بنتے سندھ کے ریگستانوں میں ہاریوں کے ساتھ رہتے اور طویل جدوجہد کرتے پروفیسر اعجاز سپرین بنیں، قید و بند سے جام ساقی بنتے یا خوفناک آمریتوں سے بھاگے بغیر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اکیلی مزاحمت کرتی عاصمہ جہانگیر بن جائیں۔

بلکہ اب تو اس جدید اشرافیہ کا حصہ بننے کے لئے آسان نسخے اور ٹوٹکے موجود ہیں یعنی کسی پوش علاقے میں موم بتی جلانے کا اھتمام کریں۔ کسی پراسرار فنڈنگ پر ہاتھ صاف کریں، مذہب بیزاری سے کام چلائیں یا اپنے ملک کو گالیاں دینے کا ہنر سیکھ لیں۔ بس پھر کیا ھے سوشل میڈیا پر اکاونٹ بنا لیں اور شکار کی تلاش میں نکل پڑیں اور جہاں اختلاف نظر آئے تو گالیوں کی بوچھاڑ کر دیں جس کے لئے کسی علم، دلیل اور منطق کی ضرورت بھی نہیں۔ اس معرکے میں آپ کے ہمنوا بھی اپنی گالیوں سمیت آپ کو کمک فراہم کر دیں گے ۔

یہاں یہ بات بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ جینوئن لبرلز اپنے نظریاتی اعتبار علم و فضل سے معمور تشخص، فکری رہنمائی اور مکالمے کے ھنر سمیت اپنا اپنا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں جسے تمام طبقے مع فکری مخالفین بھی تحسین اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

تاہم ایک پر اسرار طبقہ لبرل ازم کی آڑ میں فاشزم کا داعی بن کر ھر مخالف کو کچلنے پر آمادہ ھے جن کا تازہ شکار یہ خاکسار ھے۔ جو گالیوں کی بوچھاڑ میں میری جواب طلبی کر رھے ہیں کہ اس “شجر ممنوعہ” یعنی اس جدید اشرافیہ کے در و بام پر نگاہ کیوں ڈالی یعنی جدید اشرافیہ کی نمائندہ گلالئی اسماعیل کے حوالے سے سوالات کیوں اٹھائے۔ اس طبقے کا ایک بھگو ڑا نمائندہ جس کی جدوجہد کا کل میزانیہ سوشل میڈیا پر اوٹ پٹانگ باتوں اور گالیوں تک ھی محدود ھےتو باقاعدہ آستینیں چڑھا نے لگا وہ بھی ھزاروں میل دور کسی یورپی ملک میں بیٹھ کر اور سوشل میڈیا کے “میدان کارزار” میں۔

اگر چہ گلالئی اسماعیل کے فرار پر مختلف نقطہ نظر سے لکھے میرے کالم کو سوشل میڈیا پر مبالغہ آمیز حد تک پسندیدگی ملی لیکن ذہنی اور عملی طور پر فاشسٹ اور ظاھری طور پر لبرل چند حضرات جن کی قیادت ایک بظاہر ذہنی مریض کر رھا تھا (جو شاید ہالینڈ میں مقیم ہے) دھمکی آمیز لہجے میں بین السطور یہ حکم بھی صادر کر رہے تھے کہ وہ لکھو جو ھم چاہیں لیکن یورپ کے کسی پر سکون اور یخ بستہ شہر کے بے خبر باسیوں یا ننھے منے نازیوں کو کیا معلوم کہ ناسازگار موسموں سے ٹھکرانا اور بھاو کی مخالف سمت میں تیرنا کیا ھوتا ہے اور یہ کام کس طرح کے لوگوں کے کرنے کے ہیں۔ میرے قلم کو تو سچ اور حقائق کی مخلاف سمت میں وہ خون آشام جنونی بھی نہیں موڑ سکے تھے جن کی دہشت سے ایک زمانہ کانپا تھا۔ میں اپنے بارے عموماً بات کرنے سے گریز کرتا ھوں لیکن اتنا بتانا ضروری ھے کہ ماضی قریب میں لکھی گئی ان تحریروں کا حوالہ دوں جو شدید خطرات اور دھمکیوں کے باوجود بھی دھشت گردی کی لپیٹ میں آئے پشاور جیسے شہر میں بیٹھ کر مسلسل اور ڈٹ کر لکھے (یہاں تک کہ ایک انگریزی کالم (who are Taliban?) کو اخبارات نے بھی چھاپنے سے انکار کیا جو بعد میں ایک بیرونی اخبار اور سوشل میڈیا پر شائع ھوا)

سو یہ جدید ننھے منے نازی کیا اور ان کی دھمکیاں کیا۔ پڑھنے کو تو ہمیشہ وھی ملے گا جو سچ اور حقائق کی کسوٹی پر پورا اترے۔ خواہ اس سے میرے کسی شدید مخالف کو ہی فائدہ کیوں نہ پہنچے۔

جاتے جاتے برادرم عدنان کاکڑ کے اختلافی کالم کا ذکر بھی ھو جائے جسے پڑھ کر بے انتہا خوشی ھوئی کہ مکالمہ ابھی زندہ ھے میرے نقطہ نظر سے اختلاف ھی سہی لیکن راستہ تو دلیل کا چنا۔ اور کیوں نہ چنتے، ان کا تعلق قابل احترام لبرل طبقے سے ھے، کسی طبقہ جہالت سے تو نہیں۔

اور ہاں مشکوک اور پراسرار کمیں گاھوں میں تراشے گئے جعلی اور جھوٹے بتوں پر سوالات اٹھانے کا سلسلہ بدستور جاری رھے گا۔ تاہم جدوجہد کرنے والے جینوئن لوگوں کی حمایت سے پیچھے ہٹنے کا سوال ھی پیدا نہیں ہوتا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •