نوازشریف اور آصف زرداری کے نیب کے ساتھ معاملات طے پا گئے: شوکت بسرا کا دعویٰ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا نے کہا ہے کہ نوازشریف اور آصف زرداری کے نیب کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں۔ بات پیسوں کے لین دین پر رکی ہوئی ہے۔ یہ رسید پر پیسے نہیں دینا چاہتے۔ دو ماہ بعد آصف زرداری، فریال بی بی، میاں نوازشریف اور مریم بی بی یہ چاروں پاکستان میں نظر نہیں آئیں گے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کا یہ اپنا موقف ہے کہ ان سے لوگ رابطے میں ہیں۔

سینیٹ میں تو ان کے پاس اکثریت تھی پھر وہاں کیا ہوا؟ وہاں کیوں ان کے اپنے سینیٹرز چھوڑ گئے؟ یہ کہتے تھے پہلے ہم اپنا چیئرمین سینٹ لے کر آئیں گے پھرقومی اسمبلی میں تبدیلی لائیں گے اور پھر پنجاب میں بھی اپنی حکومت بنائیں گے۔

شوکت بسرا نے کہا کہ اس وقت ن لیگ میں بھی میرے دوست ہیں۔ پیپلزپارٹی میری جماعت رہ چکی ہے، وہاں بھی میرے جاننے والے ہیں۔ میں ذرائع سے کہتا ہوں کہ دونوں جماعتوں میں دھڑے بندی موجود ہے، جو سینیٹ، قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں بھی موجود ہیں۔

میری یہ خبر ہے کہ دونوں جماعتوں کے سربراہان کے نیب کے ساتھ معاملات طے پا چکے ہیں۔ صرف پیسوں کے لین دین کا ایشو آ رہا ہے۔ نیب والے کہتے رسید دیں گے۔ یہ کہتے رسید نہیں لیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹیبل کے اوپر اور یہ کہتے پیسے ٹیبل کے نیچے لیں۔ آئندہ دو مہینوں میں معاملات طے پا جائیں گے۔ دو ماہ بعد آصف زرداری، اور فریال بی بی ، میاں نوازشریف اور مریم بی بی یہ چاروں پاکستان میں نظر نہیں آئیں گے۔

نیب کو پیسے دے کر یہ دونوں جماعتوں کے سربراہاں بیرون ملک چلے جائیں گے۔ واضح رہے شوکت بسرا پیپلزپارٹی کے سابق رہنما ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت میں انہیں تاحال کوئی عہدہ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے اپلائی کیا ہوا ہے۔ وہ پارٹی قیادت کو ہر لحاظ سے مطمئن کرنا چاہتے ہیں کہ ان جیسا ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے کوئی دوسرا امیدوار نہیں ہے۔

اسی طرح ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے تحریک انصاف کے نظریاتی کارکن اور سیکرٹری اطلاعات عثمان سعید بسرا کوفیورٹ امیدوار کہا جا رہا ہے۔ کیونکہ عثمان سعید بسرا کی پارٹی کارکنان میں کافی مقبولیت ہے۔ عثمان سعید بسرا کا امیدوار بطور ترجمان وزیراعلیٰ کا سن کر پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان بھی مسرت کا اظہار کررہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •