وزیر اعظم کا بیان، ملت اسلامیہ کا سیاپا، ڈان لیکس اور دفاعی بجٹ وغیرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم پاکستان نے سعودی عرب اور امریکہ کے اہم دوروں سے قبل کہا ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر سے جو لوگ جہاد کے نام پر لڑنے کے لیے مقبوضہ کشمیر جائیں گے وہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم کریں گے اور پاکستان کے بھی دشمن ہوں گے۔ امریکی صدر نے وزیر اعظم پاکستان کے اس بیان کو بہت سراہا ہے تاہم پاکستان کے جہادی عناصر نے ان کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر نے تو اس بیان کو امریکی خوشنودی حاصل کرنے کا سستا ترین حربہ قرار دیا ہے اور موجودہ راجہ داہر نریندر مودی کی کشمیر میں کھلی بربریت اور سفاکیت کی حمایت سے تعبیر کیا ہے۔

ہم جناب وزیر اعظم، ان کی حکومت اور سرپرستوں کے سخت ناقد رہے ہیں اور ہر موقعے پر ان کی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ہیں مگر موجودہ عالمی سیاسی حالات کے تناظر میں ان کے اس بیان کی مکمل حمایت کرتے ہیں تاہم انہیں یہ وضاحت بھی کرنا چاہیے کہ ان کے مجاہدانہ اور فدایانہ افکار نے حسب معمول حکومت میں آنے کے بعد یو ٹرن لیا ہے یا یہ کایا کلپ ان کے مطالعے، مشاہدے اور گہرے غور و خوص کا منطقی نتیجہ ہے۔ کیونکہ ابھی کل کی بات ہے کہ وہ نہ صرف کشمیری حریت پسندوں کی کارروائیوں کو درست سمجھتے تھے بلکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کیے جانے والے ڈرون حملوں کے نتیجے میں ردعمل کے طور پر پیدا ہونے والے خودکش حملہ آوروں کے طرز عمل کو فطری اور جائز قرار دے رہے تھے۔ دنیا بھر میں ان کی شناخت طالبان خان کے حوالے سے ہوتی تھی اور جنرل مشرف نے انہیں ان کے اسی طرح کے نقطہٕ نظر کی وجہ سے بغیر داڑھی کے طالبان قرار دیا تھا۔

وزیر اعظم پاکستان بارہا دنیا کو یہ بھی باور کرا چکے ہیں کہ ملت اسلامیہ کے اتحاد کے سرگرم داعی اور نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر مسلمانوں کو اکٹھا کرنے کی جستجو کرنے والے شاعر مشرق علامہ اقبال ان کے پسندیدہ شاعر، مفکر اور دانشور ہیں جنہوں نے ان کی فکری اور نظریاتی منزلیں طے کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اقبال مسلم نوجوانوں کو یہ کہہ کر عالمی دہشت گردی کی ترغیب دیتے ہیں کہ

چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

بہت سے مسلم علما و واعظین اور مفتیان کرام نے بھی یہ فتوے دے رکھے ہیں کہ مسلمان مجاہدین شمشیر بکف دنیا کے کسی بھی گوشے میں کفار کو للکارتا ہوا پہنچ کر کشتوں کے پشتے لگانے میں نہ صرف حق بجانب ہے بلکہ جہاد کا فریضہ انجام دے کر اللہ و رسول صلعم کے احکامات کی پیروی کرتا ہے۔ یہ مجاہدین سرحدی لکیروں کو ذرہ برابر بھی اہمیت نہیں دیتے۔ چار عشرے قبل امریکہ اور اس کے ہمنواٶں نے پاکستانی آرمی اور دنیا بھر سے جمع کیے گئے مجاہدین کے ذریعے اسی تصور جہاد کے تحت روس کی وسیع و عریض سلطنت کے غرور کو خاک میں ملایا تھا۔

اس وقت مرد مومن مرد حق جنرل ضیاءالحق اور ان کے شاہین صفت مجاہدین نے جہاد افغانستان سے فارغ ہو کر نہ صرف فلسطین، چیچنیا، بوسنیا، کشمیر، سنکیانگ اور دوسرے علاقوں کے مسلمانوں کو شمشیر و سناں کے زور پر آزادی دلوانا تھی بلکہ دہلی کے لال قلعے پر بھی اسلامی پرچم لہرانا تھا۔ مگر افسوس کہ امریکی جہاد اور جنرل ضیا و ان کے رفقا کی زندگیوں کا خاتمہ ایک ساتھ ہوا اور تمام خواب چکنا چور ہو گئے۔

علامہ اقبال کی ولولہ انگیز اور معجز نما شاعری کے ذریعے ملت اسلامیہ کا تصور ہمارے نصاب کے علاوہ قومی و ملی رگ و پے میں خون کی طرح سرائیت کردیا گیا تھا۔ اس حوالے سے ہم بھی اس وقت سٹپٹا کر رہ جاتے تھے جب اقبال کی شامل نصاب معرکے کی نظم ”پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ“ کی تدریس کرواتے تھے۔ ہماری نصابی اور کتابی تربیت یہ تھی کہ ملت اسلامیہ رنگ، نسل، جغرافیے، خطے اور خون وغیرہ جیسے ہر مخمصے سے بالا ہے۔ جب وطن عزیز پاکستان اور ملت اسلامیہ کا مفاد باہم متصادم ہو تو ہمیں بجا طور پر اس ملت اسلامیہ کے مفاد کو مقدم رکھنا ہے جس کا وجود کبھی ہر چند کہیں ہے، نہیں ہے کے مصداق تھا ہی نہیں۔

ہم تو جلد ہی نصابی تقاضوں سے نجات پاکر محب وطنوں کے نزدیک غدار اور ملک دشمن قرار دے دیے گئے تھے تاہم ملک عزیز میں بڑے پیمانے پر یہ ملت اسلامیہ کے تحفظ کا تصور اب بھی زندہ ہے جس کے عملی مظاہرے ہم آئے دن پوری دنیا میں دیکھتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ بھی ہمیں یاد آرہا ہے۔ لبرل اور سب سے پہلے پاکستان نظریے کے علمبردار جنرل پرویز مشرف نے عالمی منظر نامے کے مطابق حب الوطنی اور جہاد و قتال کے بیانیے کی تشکیل نو کرتے وقت بہت سی جذباتی تقاریر بھی فرمائی تھیں۔ ایسی ہی کسی تقریر دلپذیر میں سب سے پہلے پاکستان کا بھرپور راگ الاپنے کے بعد تان علامہ اقبال کے ایک مشہور شعر پر توڑی تھی جس میں ملک کا نہیں بلکہ ملت اسلامیہ کے تحفظ کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ وہ شعر یہ ہے

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

سو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے نو خیز ذہنوں کی آبیاری کچھ اس انداز سے کی گئی ہے کہ ہم ساری دنیا کے مسلمانوں کے ٹھیکیدار بن کر آنکھوں میں خونیں چراغ جلا کر، ہاتھوں میں شمشیر برہنہ لے کر پوری دنیا میں دندناتے پھرنے کو جہاد و قتال کی معراج سمجھتے ہیں۔ رہی سہی کسر علامہ اقبال پوری کردیتے ہیں۔ بظاہر تو لگتا ہے کہ جناب وزیراعظم کا موجودہ ہمارے مقتدر حلقوں کی سوچ کا بھی آئینہ دار ہے کیونکہ کچھ عرصہ قبل ہمارے سپہ سالار نے بھی یہ دبنگ اعلان کیا تھا کہ جہاد و قتال کی مکمل ذمہ داری ریاست اور اس کے دفاعی و پیشہ ور اداروں کی ہے نہ کہ پرائیویٹ لشکروں، جیشوں اور گروہوں کی، تاہم اس حوالے سے ہم جیسے قومی مفاد اور ملکی وقار کے تصور سے عاری و عامی شدید فکری مغالطے میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

وہ یوں کہ مقتدر اداروں نے آپریشن جبرالٹراور پراکسی تنظیموں جیسی پالیسی سے بھی رجوع کر لیا ہے یا یہ حکم صرف عام لوگوں کے لیے ہے؟ دوسرا مخمصہ یہ ہے کہ اسی سے ملتی جلتی بات جب تین سال قبل سابق وزیر اعظم جناب نواز شریف نے کہی تھی تو ان کے خلاف ڈان لیکس کا ہوّا کھڑا کر کے قیامت کیوں برپا کردی گئی تھی جو آخر کار بے شمار قربانیوں کے بعد ان کی حکومت کے خاتمے پر منتج ہوئی تھی؟

تیسرا مخمصہ یہ ہے کہ وزیر اعظم کا بیان اس بات کا بھی غماز ہے کہ ریاستی سطح پر ہم کشمیر کے لیے ہزار سال تک جنگ لڑنے کے دعوے اور وعدے سے بھی دستبردار ہو گئے ہیں؟ اگر واقعی ایسا ہی تو کیا یہ خاکسار بصد احترام معاشی طور پر دیوالیے کے پاتال میں اترتے ملک کے دفاعی بجٹ میں خاطر خواہ کمی کی درخواست کر سکتا ہے؟

ان چھوٹے موٹے سوالات، سیاپوں، مغالطوں اور مخمصوں کے باوجود ہم وزیر اعظم پاکستان کے مذکورہ بیان کی ان پر عالمی دباٶ کے زیراثر ہونے کے باوجود ستائش کریں گے۔ ہم پھر اس بات پر زور دیں گے کہ کشمیر کی آزادی کو عالم اسلام کا نہیں عالم انسانیت کا مسئلہ بنا کر اجاگر کیجیے۔ جس قدر تحریک آزادی میں تشدد اور عسکریت کا عفریت زیادہ ہو گا اسی قدر کشمیری آزادی کی منزل سے دور ہوتے جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •