کیا پاکستان میں بچوں کو جینے کا حق نہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے کچھ دنوں سے یہ سوال ذہن میں مسلسل گردش کررہا ہے۔ دل و دماغ ماؤف ہوگئے ہیں کہ یہاں حالات، اطفال کے لیے ہرگز ہرگز مناسب و موافق قرار نہیں دیے جاسکتے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اُن سے جینے کا حق دانستہ چھینا جارہا ہے۔ بچّوں کے معاملے میں انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی غیر ذمے داریوں کا سلسلہ بھی خاصا دراز محسوس ہوتا ہے۔ افسوس ان پھولوں کو کِھلنے اور مہکنے سے قبل ہی بُری طرح مسل دینے کی روایتِ بد مضبوطی اختیار کرتی چلی جارہی ہے۔

گزشتہ چند روز کے دوران ملک کے مختلف حصّوں میں پے درپے ایسے اندوہ ناک سانحات پیش آئے، وہ بھی اُن کے ساتھ جو اپنے ہوں یا غیروں کے، سبھی پیارے اور معصوم ہوتے ہیں، جن کے دم سے درحقیقت اس جہان کی رونق اور خوبصورتی قائم و دائم ہے۔ انتہائی درمندی سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے اطفال کچھ سفّاک عناصر کے نرغے میں ہیں، تبھی تو 3 کمسن بچوں کی لاشیں چونیاں سٹی کے نواحی علاقے انڈسٹریل اسٹیٹ کی دیوار کے نزدیک مٹی کے ٹیلوں سے برآمد ہوئیں۔

ایک بچّے کی لاش قابل شناخت جب کہ دو کی لاشیں ڈھانچوں میں تبدیل ہوچکی تھیں۔ ان کو اغوا کرکے سفّاک عناصر نے قتل کردیا۔ جس پر ہر دردمند دل میں غم و غصہ پایا جاتا ہے، لاڑکانہ میں کتے کے کاٹے کے انسداد کی ویکسین نہ ملنے سے 10 سالہ بچے کی سسک سسک کر ماں کی گود میں موت، میرپور خاص سول ہسپتال سے بچے کی لاش گھر لے جانے کے لیے سرکاری ایمبولینس نہ ملنے پر باپ چاچا کا اُسے موٹر سائیکل پر لے جانا اور راستے میں حادثے کا شکار ہوکر خود بھی داعی اجل کو لبیک کہہ دینا۔

انہیں واقعات سے بڑھ کر سانحات عظیم کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ تو محض گزشتہ چند روز میں رونما ہونے والے واقعات ہیں۔ ایسے سانحات و واقعات کی طویل فہرست پہلے سے ہی موجود اور ہمارے معاشرے پر بدنما داغ کی مانند ہے، جس میں بچوں پر ناصرف ظلم و ستم کی انتہا کردی گئی بلکہ اُن کے ساتھ وہ سلوک روا رکھا گیا جو اخلاقی گراوٹ اور انسانیت کی تذلیل کے زمرے میں آتا ہے۔

اس تحریر کے عنوان کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو بے پناہ تلخ حقائق سامنے آتے ہیں جو کسی طور جھٹلائے نہیں جاسکتے۔ سماج میں موجود چند سفّاک عناصر ان پھولوں کا اس بُری طرح استحصال کرتے ہیں کہ کسی دوسرے معاشرے میں اُس کی مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ کبھی چھوٹی چھوٹی معصوم بچیوں کو درندہ صفت لوگ اپنی ہوس کا نشانہ بناتے اور اُن کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اس معاملے میں درندے چھوٹے بچوں کو بھی نہیں بخشتے۔

اس مقصد کے لیے ان کو اغوا کیا جاتا اور پھر اکثر واقعات میں موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے کتنے ہی واقعات ہیں، کس کس کا ذکر کیا جائے۔ ان معصوموں کے اغوا کی وارداتیں ملک کے طول و عرض میں بڑے پیمانے پر رونما ہوتی رہتی ہیں، جن پر اب تک قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔ اس باعث کتنے ہی والدین اپنے بچوں کو کھوچکے اور ان کی یاد اور تلاش میں ان کے شب و روز گزرتے ہیں۔ اس ضمن میں ملک عزیز کا بدقسمت ضلع قصور ہمیشہ ہی شہ سرخیوں میں رہا ہے، لیکن اب تک حالات میں بہتری نہیں لائی جاسکی۔ کیوں، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

دُنیا کی ساتویں ایٹمی قوت پاکستان کا ایک ضلع ایسا بھی ہے جہاں ہر سال ہی سیکڑوں معصوم بچّے خشک سالی اور غذائی قلت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ اس کو دُنیا تھرپارکر کے نام سے جانتی ہے، برسہا برس سے اطفال موت کی وادیوں میں گم ہورہے ہیں، سیکڑوں گودیں ہر سال اُجڑ رہی ہیں لیکن تاحال اس حوالے سے حالات بہتر رُخ اختیار نہیں کرسکے ہیں یا اس ضمن میں سنجیدہ کوششیں ہی نہیں کی گئی ہیں۔

اگر معاشی تنگ دستی کی وجہ سے والدین اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کا بنیادی حق تعلیم غصب کرتے ہوئے اُنہیں کسی مکینک، ہوٹل وغیرہ یا اپنی بچیوں کو گھروں پر کام کاج پر لگادیتے ہیں کہ ان کی آمدن سے گھروں کا معاشی نظام چل سکے تو وہاں بھی ان معصوموں کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں ہوتا، اُن کی کم عمری اور معصومیت کو کسی خاطر میں نہیں لایا جاتا، بات بات پر جھڑکنا، زبان کے تیروں سے اُن کے جسم و روح کو چھلنی کرنا، بدترین تشدد کا نشانہ بنانا، یوں سمجھیں جیسے عام سا امر ہوکر رہ گیا ہے۔

ایسے بچوں پر ہمارے معاشرے کے ”مہذب“ اور ”اعلیٰ تعلیم یافتہ“ افراد کی جانب سے بدترین تشدد کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں۔ ان تمام عوامل کا انتہائی منفی اثر ان معصوموں کے دل و دماغ پر پڑتا ہے۔ اُن کی پوری زندگی ہی اس کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے، وہ تاعمر ان کے منفی اثرات سے اپنا پیچھا نہیں چھڑا پاتے اور مختلف ذہنی عوارض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ بچے شفقت اور پیار کے متقاضی ہوتے ہیں اور اُن سے محبت سے ہی پیش آنا اور حُسن سلوک کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ معاشرے کے ”تعلیم یافتہ“ اور ”ان پڑھ“ لوگوں کو کم از کم اس بات کا ادراک تو ضرور کرنا چاہیے۔

بلاشبہ درندگی کی آخری حدوں کو چھوتے بعض اذہان اطفالِ معاشرہ کے لیے سمِ قاتل ہیں، جو اسی سماج میں ہمارے درمیان زندہ رہتے اور اپنی درندگی اور سفّاکیت کا بچوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ ان میں سے بعض قبیح کردار دُنیا کے سامنے بے نقاب ہوجاتے ہیں جب کہ اکثر اپنے چہروں پر شرافت کے مکھوٹے لگائے رکھتے ہیں۔ افرادِ معاشرہ کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے درمیان ایسے سفّاک کرداروں کو تلاش کرنے کے ساتھ اُنہیں سماج میں بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

ان درندوں کو اس معاشرے میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ انہیں یہاں سے دیس نکالا دیا جائے۔ اس کے علاوہ حکومت کو اب اپنی ذمے داری کا ادراک کرتے ہوئے ہمارے معاشرے کو اطفال کی زندگیوں کے لیے سہل اور سازگار بنانے پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اطفال کے معاملے میں بہت کوتاہی برتی جاچکی، اب اس کی چنداں گنجائش نہیں۔ ہمارے ملک میں بچوں کو لاحق جن جن مسائل اور مشکلات کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، اُن کا موثر اور قابل عمل حل نکالا جائے۔ سب سے بڑھ کر بچوں کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ والدین بھی اپنے بچوں کی حفاظت کو لازمی فوقیت دیں۔ اُن کو ہر طرح کا تحفظ دیں۔ اُن کے حوالے سے ذرا بھی کوتاہی نہ برتیں۔ غرض ان پھولوں کو کِھلنے اور پھلنے پھولنے دیا جائے کہ یہ سماج کو پوری طرح اپنی خوشبوؤں سے مزّین کرسکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •