جنسی گھٹن اور ہماری نوجوان نسل کا المیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں لڑکوں کا سِنِ بلوغت میں قدم رکھنے سے لے کر ازدواجی بندھن میں بندھ جانے تک کا دورانیہ جذباتی طور پر نہایت اتھل پتھل کا شکار ہوا کرتا ہے۔ عقل و شعور کی ترقی سے ساتھ ساتھ عمر کا یہ دور جنسی جذبے کی بیداری کا دور ہوتا ہے۔ بارہ تیرہ برس کی عمر سے لے کر اٹھائیس تیس سال کی عمر کا یہ دورانیہ تقریناً سولہ سترہ برس پر محیط ہوتا ہے۔ شادی کی عمر کا تعیّن معاشی حالات کیا کرتے ہیں۔ عموماً ایک نوجوان کے تعلیم مکمل کر کے نوکری کے حصول اور پھر معاشی آسودہ جالی تک اس کی عمر اٹھائیس سے تیس کے پیٹے میں جا پہنچتی ہے۔

اب اس سولہ سترہ برس کے دوران ہر نوجوان اپنی جنسی مہم جوئی کے کس کس مرحلے سے نہیں گزرتا۔ ہم اگر ایک عمومی شریف النفس قسم کے نوجوان کی مثال بھی لیں تو اس کی اس مہم جوئی میں نسوانی لمس کی لذّت (جس کے دائرہء کار میں محرّمات کا لمس بھی شامل ہے ) ، فحش مواد کا دیکھنا، تصوّر میں اس جنسی عمل کو دہرانا، کہیں کہیں اپنے ہم جنسوں سے لذّت کشید کرنا اور بالآخرخود لذّتی میں پناہ حاصل کرنا شامل ہیں۔ اس دوران ایک نوجوان کس طرح کے ذہنی دباؤ، ضمیر کے بوجھ اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار رہتا ہے، ہم نے اس سے مکمل طور پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

بحیثیتِ معاشرہ ہم اس اہم معاملے میں ایسی منافقانہ روش پر گامزن ہیں کہ جس کی داد تو بہرحال دینا بنتی ہے۔ ہم سب اپنی نوجوانی میں ان مراحل سے گزرے ہوتے ہیں، اور یہ سب مسائل ہم بعینہ اسی طرح اپنی اولاد کو سونپ کر اپنی ذمہ داری سے فارغ ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب بیٹیوں کے معاملے میں تو ہمیں یقینِ کامل ہوتا ہے کہ ان کا تو ایسے جذبات سے لینا دینا ہے ہی نہیں۔ ان کا کام تو فقط باپ کی عزّت کی حفاظت ہے۔ جنسی تقاضے اور بیٹیاں، توبہ توبہ!

جس جنسی گھٹن کا شکار ہم خود رہ چکے ہیں، کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمیں کچھ ایسے اقدام کرنے کے متعلق سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ ہماری آئندہ نسلیں ان مسائل کا شکار نہ ہوں؟ یقیناً یہ سب اس قدر آسان نہیں۔ یہ ایک ایسا الجھا ہوا معاملہ ہے کہ جس کا سلجھنا ہمارے معاشرتی رویّوں اور مجموعی سوچ میں یکسر تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس اہم معاملے پر ایک سنجیدہ مکالمہ ضروری ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ ضروری اپنے بچوں کو ان کے ہر طرح کے مسائل والدین سے شیئر کرنے کا حوصلہ دینا ہے۔ تاکہ وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کی بجائے اپنی زندگی کے ایک لازمی پہلو کے متعلق کھل کر سوال کرنے اور اس معاملے میں ضروری آگہی کے حصول کے قابل ہو پائیں۔

اس کے علاوہ اس چیز پر غور بھی نہایت اہم ہے کہ سولہ سترہ برس کے اس طویل دورانیے کے دوران ہمارے بچے جنسی کجروی میں ملوث رہنے کے باوجود ایک نارمل جنسی تعلق کو ترستے کیوں رہیں؟ ان سب مسائل کے باعث ہمارے بچّے اپنی تعلیم پر بھی اپنی قابلیت کے مطابق توّجہ نہیں دے پاتے، اور اس دوران عوماً سیکس ہی ان کے خیالات کا محور بنا رہتا ہے۔ اس عمر میں پیدا ہونے والی جنسی کجروی کو وقتی طور پر دبا تو لیا جاتا ہے مگر عمر کے بقیہ حصّے میں یہ کسی نہ کسی صورت ابھر کر سامنے آتی رہتی ہے۔ پورن دیکھ کر جنسی عمل سیکھنے والا لڑکا یا لڑکی، ان ویڈیو کے مصنوعی پن سے آگاہ نہ ہو پاتے ہوئے، ایسے ہی جنسی عمل کا خواہاں ہوتا ہے اور اپنے شریکِ حیات سے اسی سب کی توقع کرتا ہے اور ان توقعات کے پورا ہو پانے میں ناکامی ازدواجی زندگی میں مسائل کا سبب بنتی ہے۔

جنسی کارکردگی کا براہِ راست تعلق ذہن سے ہے۔ ہمارے نوجوان کی جنسی صحت کے متعلق معلومات عموماً حکیموں کے اشتہارات اور سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والے توّہمات تک محدود ہوتی ہے۔ نتیجتاً وہ خود لذّتی کو ایک مکروہ چیز مانتے ہوئے خود اعتمادی کی کمی کا شکار ہو کر خود کو جنسی کمزوری اور مسائل کا شکار تصوّر کرنے لگتا ہے اور ازدواجی زندگی کے آغاز ہی میں دوستوں اور نیم حکیموں کے مشوروں پر جنسی طاقت بڑھانے کی دعوے دار الٹی سیدھی دواؤں کا استعمال کرنے لگتا ہے اور نتیجتاً ان کا محتاج ہوتا چلا جاتا ہے۔ عوماً یہ دوائیں گھٹیا کوالٹی کی ہوتی ہیں اوران کا مستقل استعمال اپنے ساتھ کئی مضر اثرات لیے ہوتا ہے، جس کا نتیجہ صحت کی تباہی کی شکل میں سامنے آتا ہے۔

ضرورت نوجوانوں کو اوائلِ شباب ہی سے مناسب جنسی تعلیم اور خود اعتمادی فراہم کرنے کی ہے تاکہ وہ جنسی گھٹن کا شکار نہ ہونے پائیں۔ ساتھ ہی ساتھ ہمیں بطورِ معاشرہ یہ حقیقت تسلیم کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ ہماری نجّی زندگی اور خاندانی نظام ہمارے معاشی حالات کے زیر اثر ہے۔ اب وہ زمانے گزر گئے جب تیرہ چودہ برس کی عمر میں بچوں کی شادی کر دی جاتی تھی۔ اب شادی معاشی استحکام سے مشروط ہے جس کے حصول میں خصوصاً ہماری شہری مڈل کلاس کا نوجوان تیس برس کی عمر تک جا پہنچتا ہے۔ سولہ سترہ برس کے اس دورانیے میں اپنے بچوں سے جنسی تعلق کے معاملے میں صبر کی امید لگائے رکھنا، کبوتر کی مانند آنکھیں بند کر لینے کے مترادف ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •