کیا ہمارے مسائل کا حل نظام کی تبدیلی میں ہے؟

اب نواز شریف کے صاف بچ نکلنے کے بعد احتساب کے عمل سے مایوس قوم کو یقین دلایا جائے گا کہ سیاسی نظام کی تبدیلی اشد ضروری ہے۔ اس کے لیے کام شروع ہو چکا ہے اور اس وقت #باغی ہوں ایسے نظام کا۔ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ چل رہا ہے۔ یقین مانیے جب تک…

Read more

باقی رہے نام اللہ کا!

اعلیٰ حضرت جناب جسٹس (ر) ثاقب نثار صاحب کہ (جن کے نام سے قبل ریٹائرڈ لکھتے ہوئے اب بھی انگلیاں کپکپا اٹھتی ہیں ) ، جنت مکانی، خلد آشیانی نے اپنے دورِعدل میں ہم عوام کو عدل و انصاف کے نئے مفہوم سے روشناس کرایا تھا۔ ہم کم فہم کہ عدل و انصاف کو ایوانِ…

Read more

جب آئے گا کپتان۔۔۔

حیرت ہے تحریکِ انصاف کے ان نمائندوں پر جو کہ کپتان کے القاعدہ کی ٹریننگ بارے بیان کو ”سلِپ آف ٹنگ“ کہہ کر ہمارے وزیرِ اعظم کی جراءت، بے باکی اور حق گوئی کو تسلیم کرنے سے پہلوتہی کرتے نظر آتے ہیں۔ اسی راست گوئی اور حق شناسی سے متاثر ہو کر تو خان صاحب…

Read more

جنسی گھٹن اور ہماری نوجوان نسل کا المیہ

ہمارے ہاں لڑکوں کا سِنِ بلوغت میں قدم رکھنے سے لے کر ازدواجی بندھن میں بندھ جانے تک کا دورانیہ جذباتی طور پر نہایت اتھل پتھل کا شکار ہوا کرتا ہے۔ عقل و شعور کی ترقی سے ساتھ ساتھ عمر کا یہ دور جنسی جذبے کی بیداری کا دور ہوتا ہے۔ بارہ تیرہ برس کی…

Read more

اٹھتے ہیں ”حجاب“ آخر

کارخانہء قدرت میں ہرحادثے اور ہر سانحے میں دیدہء بینا رکھنے والوں کے لیے ایک سبق پوشیدہ ہوا کرتا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ بچپن میں جب سکول کے نصاب میں کہانیاں شامل کی جاتی تھیں تو ہر کہانی کے اختتام پر ”مورال آف دی سٹوری“ دیا جاتا تھا۔ ہمارے معاشرے میں ہر سُو ایسی کہانیاں بکھری پڑی ہیں جن سے ہم سبق حاصل کرنے لگیں تو ہمارے اکثر مسائل حل ہو جائیں۔ جیسے کہ آج کل میڈیا پر ہر جانب ریپ اور قتل کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔

Read more

واٹس ایپ: آپ کا عدالتی شریکِ کار

مملکتِ خداداد یعنی کہ ارضِ پاکستان روزِ اوّل ہی سے بدخواہوں کی نظر میں کانٹے کی مانند کھٹکتی چلی آئی ہے۔ دشمنانِ پاکستان کی بھرپور مخالفت کے باوجود قیامِ پاکستان کا خواب اپنی تعبیر سے ہمکنار ہوا۔ مخالفین کا بس یہاں تو نہ چل پایا، مگر مخاصمت دل سے دور نہ ہوئی۔ مملکتِ پاکستان کی روز افزوں ترقی دیکھ کراب بھی ان کے سینے پر سانپ لوٹتے ہیں۔ اپنا بغض و کینہ دل میں دبائے رہتے ہیں۔ مگر جیسے ہی پاکستان ترقی کی راہ پر ایک قدم بھی آگے بڑھاتا نظر آتا ہے، ان بدباطنوں سے یہ کامیابی ہضم نہیں ہو پاتی اور ان کا خبثِ باطن بے جا تنقید کی صورت میں ہویدا ہونے لگتا ہے۔

Read more

مملکتِ پاکستان قدیم و جدید: ایک تقابلی جائزہ

مؤرخ لکھتا ہے کہ ریاستِ پاکستان کا جو ناک نقشہ ہم لوگ آج دیکھ رہے ہیں، اگلے زمانے میں یہ اس سے یکسر مختلف تھا۔ وہ زمانہ کہ گویا ایک گلجگ تھا۔ چوروں اور لٹیروں نے خزانے کی پہرے داری سنبھال رکھی تھی۔ انصاف کا منہ کالا تھا اور جھوٹ کا بول بالا تھا۔ صحافی ”لفافی“ تھے اور سر پر قرضوں کے بوجھ اضافی تھے۔ میڈیا شترِبے مہار تھا اورسلطانیء جمہور کے نام پر سجا لوٹ کا بازار تھا۔ بہت سے شوریدہ سر، سر اٹھائے پھرتے تھے۔

Read more

نیوزی لینڈ میں دہشتگردی اور ہماری جانب کا سچ

دہشتگردی کی جڑیں انتہا پسندی سے پھوٹتی ہیں۔ اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انتہا پسندی کی بنیاد راسخ العقیدگی پر استوار ہوا کرتی ہے۔ مذہبی عقائد کے علاوہ ہمارے نظریات بھی کبھی کبھار اپنی شدّت کے باعث عقیدے کا روپ دھار لیتے ہیں۔ اپنے عقائد پر مضبوطی سے جمے رہنا جہاں ایک جانب باعثِ توصیف سمجھا جاتا ہے، تو دوسری جانب اپنی سوچ، عقائد اور نظریات کے متعلق لچک نہ رکھنا انتہا پسندانہ رویّوں کو جنم دیتا ہے۔ یہ انتہا پسندانہ رویّہ تعصب کو ابھارتا ہے۔ اور اسی تعصب کے باعث ہمارا مخالفین کے معاملے میں ردِّ عمل اس قدر شدید ہوتا ہے کہ ہم اپنے سچ کی فتح کی خاطر انسانی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

Read more

چند جہنمی عورتیں اور جنتی مرد

چند احمق عورتیں۔ بلکہ جہنمی عورتیں۔ اپنے حقوق کا تعیّن خود کرنے چلی تھیں۔ اس صنف کے ناقص العقل ہونے پر دو رائے تو کبھی بھی نہ تھیں، تو کیا ضروری ہے ہر مرتبہ اپنی کم عقلی کا ثبوت دینا۔ آپ کو کیا معلوم آپ کن مسائل سے دوچار ہیں؟ آپ کے مسائل کو ہم مردوں سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔ سو ہم آپ کو بتائیں گے کہ آپ کے مسائل کیا ہیں۔ آپ کو کیا حقوق ملنے چاہییں، اس کا تعیّن بھی ہم سے بہتر کون کر سکتا ہے؟

Read more

جنگ چاہیے جناب۔ جنگ

جنگ کے اس ماحول میں امن و سلامتی کی باتیں کس قدر لایعنی معلوم ہوتی ہیں۔ مگر سرحد کے دونوں جانب ایسے احمق موجود ہیں جو یہ بے وقت کی راگنی گاتے نظر آتے ہیں۔ خدا خدا کر کے جنگ کا ماحول بنا ہے۔ کتنی تمنّا تھی جنگ کو اپنی ان آنکھوں سے دیکھنے کی۔ ہم سے پہلی نسل کس قدر خوش نصیب تھی کہ اسے دو جنگیں اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ہم نے تو جب سے ہوش سنبھالا، صرف ان جنگوں کے واقعات سن کر ہی لہو گرمایا کیے۔

کتنے رشک سے اپنے بزرگوں کو دیکھا کرتے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ جنگ دیکھنے کی حسرت دل میں لیے ہی عمر بیت جائے گی۔ بڑھاپے میں اپنے بچوں اور پوتوں پوتیوں کو کیا منہ دکھائیں گے۔ لے دے کر ایک کارگل کی جنگ ہی ہمارے حصے میں آئی تھی۔ یہ بھی بھلا کیا خاک جنگ ہوئی کہ نہ تو شہری آبادی پر گولہ باری ہوئی، نہ بلیک آؤٹ کے سائرن بجے، نہ طیاروں کی زناٹے دار آوازیں فضا میں گونجیں اور نہ بھاگ کر خندقوں میں چھپنے کی نوبت آئی۔ اتنی ہومیو پیتھک قسم کی جنگ بھی کوئی جنگ ہوئی بھلا۔ ایسے میں اگر امید کی ایک کرن پھوٹی بھی تو لگے ان مردودوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے۔

Read more