جنگ کے اس ماحول میں امن و سلامتی کی باتیں کس قدر لایعنی معلوم ہوتی ہیں۔ مگر سرحد کے دونوں جانب ایسے احمق موجود ہیں جو یہ بے وقت کی راگنی گاتے نظر آتے ہیں۔ خدا خدا کر کے جنگ کا ماحول بنا ہے۔ کتنی تمنّا تھی جنگ کو اپنی ان آنکھوں سے دیکھنے کی۔ ہم سے پہلی نسل کس قدر خوش نصیب تھی کہ اسے دو جنگیں اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ہم نے تو جب سے ہوش سنبھالا، صرف ان جنگوں کے واقعات سن کر ہی لہو گرمایا کیے۔
کتنے رشک سے اپنے بزرگوں کو دیکھا کرتے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ جنگ دیکھنے کی حسرت دل میں لیے ہی عمر بیت جائے گی۔ بڑھاپے میں اپنے بچوں اور پوتوں پوتیوں کو کیا منہ دکھائیں گے۔ لے دے کر ایک کارگل کی جنگ ہی ہمارے حصے میں آئی تھی۔ یہ بھی بھلا کیا خاک جنگ ہوئی کہ نہ تو شہری آبادی پر گولہ باری ہوئی، نہ بلیک آؤٹ کے سائرن بجے، نہ طیاروں کی زناٹے دار آوازیں فضا میں گونجیں اور نہ بھاگ کر خندقوں میں چھپنے کی نوبت آئی۔ اتنی ہومیو پیتھک قسم کی جنگ بھی کوئی جنگ ہوئی بھلا۔ ایسے میں اگر امید کی ایک کرن پھوٹی بھی تو لگے ان مردودوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے۔
Read more