ریٹائرڈ حضرات، لفافہ صحافی اور غیر سیاسی دل لگی

شرارت تو سر جی کی گھٹی میں پڑی ہے۔ اور مسکراہٹ سے صاف چھلکتی ہے۔ چوری چھپے نوے دن میں الیکشن کروانے کا وعدہ کر لیا۔ کسی کو بھنک تک نہ پڑنے دی۔ اور پھر اچانک غیر سیاسی ہو گئے۔ سر جی کی تو دل لگی ٹھہری۔ اور اب ”پھرتے ہیں میر خوار، کوئی پوچھتا نہیں“ والا معاملہ ہے۔ سر جی بھی نا! کم از کم یہ گنجائش تو رکھتے کہ فریق ثانی اپنی سادگی میں مذاق میں کہی بات

Read more

کیا بیوی دوست بھی ہو سکتی ہے؟

یقین مانیے، نئی سوچ کے تو ہم شروع ہی سے مخالف ہیں۔ کوئی بھی تبدیلی ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ سیاسی منظر نامے پر لائی گئی ”تبدیلی“ کے ثمرات تو سب کے سامنے آ ہی چکے ہیں۔ اسی سے اندازہ لگا لیں کہ خاندانی ڈھانچے یا سماجی اقدار میں تبدیلی کی کوشش کس قدر تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے عافیت تو اسی میں ہے کہ مزید تبدیلی کا تجربہ کرنے کی بجائے، جو کچھ جیسا بھی چل

Read more

لڑکیو! جلدی سے شادیاں کر لو

کیسا کل یگ ہے کہ ہماری لڑکیاں شادی سے بھاگنے لگی ہیں۔ بے چارے والدین۔ ادھر بیٹی نے ذرا قد کاٹھ نکالا نہیں اور ادھر ان کی راتوں کی نیندیں اڑی نہیں۔ مگر آج کل کی لڑکیوں کو اس بات کا کیا احساس۔ ان کے تو مزاج ہی نہیں ملتے۔ والدین کی نیندیں حرام کیے رکھتی ہیں۔ کسی کے سر پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا بھوت سوار ہے تو کوئی اپنا کیرئیر بنانے کے خبط میں مبتلا ہے۔ کوئی

Read more

سیکس۔ آج کل

ہمارے لڑکوں کو ڈھیر سارا سیکس چاہیے، اور اس کے بائی پروڈکٹ کے طور پر اولاد بھی تا کہ ان کی نسل چل سکے۔ لڑکیوں کو سیکس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ صرف ایک مثالی بیوی اور اچھی ماں بننے کے لیے شادی کرتی ہیں۔ مگر ان دونوں مقاصد کے حصول میں عمر عزیز کی اڑھائی تین دہائیاں صرف ہو جاتی ہیں۔ لڑکوں کو ڈھیر سارے سیکس کی با ضابطہ اجازت حاصل کرنے کے لیے ڈھیر سارا پڑھنا اور کیرئیر

Read more

وکلاء گردی اور بے فیض نعرے

وکلاء گردی کی اصطلاح یونہی زبان زد عام نہیں ہوئی۔ ججوں کی مار پیٹ سے لے کر ہسپتالوں میں توڑ پھوڑ تک کے واقعات تو آپ تک میڈیا کے ذریعے پہنچتے ہی رہتے ہیں۔ معاملہ اگر یہیں تک محدود رہتا تو غنیمت تھا۔ مگر اب تو حد ہی ہو گئی۔ سب حدود پار کرتے ہوئے نوجوان وکلاء نے مرحومہ عاصمہ جہانگیر کی یاد میں منعقدہ تقریب کے دوران معزز چیف جسٹس و دیگر جج صاحبان کی موجودگی میں ببانگ دہل

Read more

آئے نہیں ہیں، لائے گئے ہیں

لانے والے بڑے اہتمام سے لاتے ہیں اور آنے والے خراماں خراماں چلے آتے ہیں۔ حکومت نے عددی اکثریت کے بل پر سب بل منظور کروا لیے۔ عددی اکثریت کو یقینی بنانے کے لیے کیا ”بندوبست“ کیا گیا؟ یہ معاملات عموماً مؤرخ کا قلم آنے والی دہائیوں میں رقم کیا کرتا ہے۔ یا پھر کسی آشنائے راز کا ضمیر، کار دنیا سے فراغت کے برسوں میں اچانک جھرجھری لیتا ہے اور نئی پود ماضی کے ارباب بست و کشاد کے

Read more

اٹھا لیے جانے والے” سوالات“

ایک تو اس ملک میں سوال اٹھانے کے شوقین بہت ہیں۔ خود اٹھا لیے جاتے ہیں، مگر سوال اٹھانے سے باز نہیں آتے۔ اور جب ان میں سے کوئی ”اٹھا لیا“ جائے، تو بھی پوچھیں گے کہ کس نے اٹھایا؟ یعنی ناشکری کا یہ عالم ہے کہ اس پر بھی خوش نہیں کہ چلو اٹھایا گیا تھا تو ”ہلکی پھلکی سرزنش“ کر کے چھوڑ تو دیا گیا۔ اب یا تو سب کو ایک ایک مرتبہ اٹھایا جائے کہ انہیں خود

Read more

لبرل مافیا، خونی لبرل اور موم بتی والی آنٹیاں

پہلے پہل جب ”لبرل مافیا“ کی اصطلاح سننے کو ملی تو ہم ایک عرصہ تک اسے ”سیسیلین مافیا“ طرز کی کوئی تنظیم سمجھتے رہے۔ لڑکپن میں ماریو پزو کا ناول گاڈ فادر پڑھنے کا موقع ملا تھا اور اس ناول پر بنائی گئی فلم بھی دیکھ چکے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ رشوت مافیا، ملاوٹ مافیا، کلرک مافیا، پٹواری مافیا، نقل مافیا اور اس طرح کے بھانت بھانت کے مافیاؤں کے متعلق پڑھنے اور سننے کو ملتا تھا۔ اور شوگر مافیا

Read more

کرنیل نی، جرنیل نی

آج کل سوشل میڈیا پر جنرل رانی کا چرچا ہے۔ نوجوان نسل کی اکثریت کے لیے یہ نام نیا ہے۔ وہ اسے جنرل حمید گل ٹائپ ہی کی کوئی شخصیت سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب نام کے ساتھ جنرل کا سابقہ ہو تو کچھ چوں چراں کی گنجائش موجود نہیں رہتی۔ حامد میر کے خلاف ”برپا“ کیے گئے مظاہروں کے شرکاء بھی جنرل رانی کی توہین پر چراغ پا نظر آئے۔ ایک صاحب سے جب استفسار کیا گیا کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ جنرل رانی کون ہیں تو انہوں نے برجستہ جواب دیا کہ جو بھی ہو، ہے تو کوئی جنرل ہی نا۔ جیسے ڈگری ڈگری ہی ہوتی ہے، چاہے اصلی ہو یا جعلی۔ بعینہ ایسے ہی جنرل جنرل ہی ہوتا ہے، چاہے رانی ہو یا رانا۔ جنرل رانی تو پھر بھی جرنیلی کے منصب اعلیٰ پر متمکن تھیں، یہاں تو ایک کرنل ہی ”مان“ نہیں۔

Read more

کیا ہمارے مسائل کا حل نظام کی تبدیلی میں ہے؟

اب نواز شریف کے صاف بچ نکلنے کے بعد احتساب کے عمل سے مایوس قوم کو یقین دلایا جائے گا کہ سیاسی نظام کی تبدیلی اشد ضروری ہے۔ اس کے لیے کام شروع ہو چکا ہے اور اس وقت #باغی ہوں ایسے نظام کا۔ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ چل رہا ہے۔ یقین مانیے جب تک قوم کا اجتماعی شعور اپنے لیے غلط اور صحیح کا فیصلہ کر کے تبدیلی لانے کا اہل نہیں ہوتا، اوپر سے تھوپا گیا کوئی نظام

Read more

باقی رہے نام اللہ کا!

اعلیٰ حضرت جناب جسٹس (ر) ثاقب نثار صاحب کہ (جن کے نام سے قبل ریٹائرڈ لکھتے ہوئے اب بھی انگلیاں کپکپا اٹھتی ہیں ) ، جنت مکانی، خلد آشیانی نے اپنے دورِعدل میں ہم عوام کو عدل و انصاف کے نئے مفہوم سے روشناس کرایا تھا۔ ہم کم فہم کہ عدل و انصاف کو ایوانِ عدل کی چاردیواری کی حد تک محدود خیال کرتے تھے۔ خدا کا کرم ہوا کہ اس نے ایک ایسی شخصیت کو مسندِ عدل پر متمکن

Read more

جب آئے گا کپتان۔۔۔

حیرت ہے تحریکِ انصاف کے ان نمائندوں پر جو کہ کپتان کے القاعدہ کی ٹریننگ بارے بیان کو ”سلِپ آف ٹنگ“ کہہ کر ہمارے وزیرِ اعظم کی جراءت، بے باکی اور حق گوئی کو تسلیم کرنے سے پہلوتہی کرتے نظر آتے ہیں۔ اسی راست گوئی اور حق شناسی سے متاثر ہو کر تو خان صاحب کو اس منصبِ جلیلہ کے لیے چنا گیا تھا۔ آج سے قبل ہمارے کس سیاسی لیڈر میں یہ ہمت و حوصلہ تھا کہ امریکہ بہادر

Read more

جنسی گھٹن اور ہماری نوجوان نسل کا المیہ

ہمارے ہاں لڑکوں کا سِنِ بلوغت میں قدم رکھنے سے لے کر ازدواجی بندھن میں بندھ جانے تک کا دورانیہ جذباتی طور پر نہایت اتھل پتھل کا شکار ہوا کرتا ہے۔ عقل و شعور کی ترقی سے ساتھ ساتھ عمر کا یہ دور جنسی جذبے کی بیداری کا دور ہوتا ہے۔ بارہ تیرہ برس کی عمر سے لے کر اٹھائیس تیس سال کی عمر کا یہ دورانیہ تقریناً سولہ سترہ برس پر محیط ہوتا ہے۔ شادی کی عمر کا تعیّن

Read more

اٹھتے ہیں ”حجاب“ آخر

کارخانہء قدرت میں ہرحادثے اور ہر سانحے میں دیدہء بینا رکھنے والوں کے لیے ایک سبق پوشیدہ ہوا کرتا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ بچپن میں جب سکول کے نصاب میں کہانیاں شامل کی جاتی تھیں تو ہر کہانی کے اختتام پر ”مورال آف دی سٹوری“ دیا جاتا تھا۔ ہمارے معاشرے میں ہر سُو ایسی کہانیاں بکھری پڑی ہیں جن سے ہم سبق حاصل کرنے لگیں تو ہمارے اکثر مسائل حل ہو جائیں۔ جیسے کہ آج کل میڈیا پر ہر جانب ریپ اور قتل کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔

Read more

واٹس ایپ: آپ کا عدالتی شریکِ کار

مملکتِ خداداد یعنی کہ ارضِ پاکستان روزِ اوّل ہی سے بدخواہوں کی نظر میں کانٹے کی مانند کھٹکتی چلی آئی ہے۔ دشمنانِ پاکستان کی بھرپور مخالفت کے باوجود قیامِ پاکستان کا خواب اپنی تعبیر سے ہمکنار ہوا۔ مخالفین کا بس یہاں تو نہ چل پایا، مگر مخاصمت دل سے دور نہ ہوئی۔ مملکتِ پاکستان کی روز افزوں ترقی دیکھ کراب بھی ان کے سینے پر سانپ لوٹتے ہیں۔ اپنا بغض و کینہ دل میں دبائے رہتے ہیں۔ مگر جیسے ہی پاکستان ترقی کی راہ پر ایک قدم بھی آگے بڑھاتا نظر آتا ہے، ان بدباطنوں سے یہ کامیابی ہضم نہیں ہو پاتی اور ان کا خبثِ باطن بے جا تنقید کی صورت میں ہویدا ہونے لگتا ہے۔

Read more

مملکتِ پاکستان قدیم و جدید: ایک تقابلی جائزہ

مؤرخ لکھتا ہے کہ ریاستِ پاکستان کا جو ناک نقشہ ہم لوگ آج دیکھ رہے ہیں، اگلے زمانے میں یہ اس سے یکسر مختلف تھا۔ وہ زمانہ کہ گویا ایک گلجگ تھا۔ چوروں اور لٹیروں نے خزانے کی پہرے داری سنبھال رکھی تھی۔ انصاف کا منہ کالا تھا اور جھوٹ کا بول بالا تھا۔ صحافی ”لفافی“ تھے اور سر پر قرضوں کے بوجھ اضافی تھے۔ میڈیا شترِبے مہار تھا اورسلطانیء جمہور کے نام پر سجا لوٹ کا بازار تھا۔ بہت سے شوریدہ سر، سر اٹھائے پھرتے تھے۔

Read more

نیوزی لینڈ میں دہشتگردی اور ہماری جانب کا سچ

دہشتگردی کی جڑیں انتہا پسندی سے پھوٹتی ہیں۔ اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انتہا پسندی کی بنیاد راسخ العقیدگی پر استوار ہوا کرتی ہے۔ مذہبی عقائد کے علاوہ ہمارے نظریات بھی کبھی کبھار اپنی شدّت کے باعث عقیدے کا روپ دھار لیتے ہیں۔ اپنے عقائد پر مضبوطی سے جمے رہنا جہاں ایک جانب باعثِ توصیف سمجھا جاتا ہے، تو دوسری جانب اپنی سوچ، عقائد اور نظریات کے متعلق لچک نہ رکھنا انتہا پسندانہ رویّوں کو جنم دیتا ہے۔ یہ انتہا پسندانہ رویّہ تعصب کو ابھارتا ہے۔ اور اسی تعصب کے باعث ہمارا مخالفین کے معاملے میں ردِّ عمل اس قدر شدید ہوتا ہے کہ ہم اپنے سچ کی فتح کی خاطر انسانی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

Read more

چند جہنمی عورتیں اور جنتی مرد

چند احمق عورتیں۔ بلکہ جہنمی عورتیں۔ اپنے حقوق کا تعیّن خود کرنے چلی تھیں۔ اس صنف کے ناقص العقل ہونے پر دو رائے تو کبھی بھی نہ تھیں، تو کیا ضروری ہے ہر مرتبہ اپنی کم عقلی کا ثبوت دینا۔ آپ کو کیا معلوم آپ کن مسائل سے دوچار ہیں؟ آپ کے مسائل کو ہم مردوں سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔ سو ہم آپ کو بتائیں گے کہ آپ کے مسائل کیا ہیں۔ آپ کو کیا حقوق ملنے چاہییں، اس کا تعیّن بھی ہم سے بہتر کون کر سکتا ہے؟

Read more

جنگ چاہیے جناب۔ جنگ

جنگ کے اس ماحول میں امن و سلامتی کی باتیں کس قدر لایعنی معلوم ہوتی ہیں۔ مگر سرحد کے دونوں جانب ایسے احمق موجود ہیں جو یہ بے وقت کی راگنی گاتے نظر آتے ہیں۔ خدا خدا کر کے جنگ کا ماحول بنا ہے۔ کتنی تمنّا تھی جنگ کو اپنی ان آنکھوں سے دیکھنے کی۔ ہم سے پہلی نسل کس قدر خوش نصیب تھی کہ اسے دو جنگیں اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ہم نے تو جب سے ہوش سنبھالا، صرف ان جنگوں کے واقعات سن کر ہی لہو گرمایا کیے۔

کتنے رشک سے اپنے بزرگوں کو دیکھا کرتے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ جنگ دیکھنے کی حسرت دل میں لیے ہی عمر بیت جائے گی۔ بڑھاپے میں اپنے بچوں اور پوتوں پوتیوں کو کیا منہ دکھائیں گے۔ لے دے کر ایک کارگل کی جنگ ہی ہمارے حصے میں آئی تھی۔ یہ بھی بھلا کیا خاک جنگ ہوئی کہ نہ تو شہری آبادی پر گولہ باری ہوئی، نہ بلیک آؤٹ کے سائرن بجے، نہ طیاروں کی زناٹے دار آوازیں فضا میں گونجیں اور نہ بھاگ کر خندقوں میں چھپنے کی نوبت آئی۔ اتنی ہومیو پیتھک قسم کی جنگ بھی کوئی جنگ ہوئی بھلا۔ ایسے میں اگر امید کی ایک کرن پھوٹی بھی تو لگے ان مردودوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے۔

Read more

سوشل میڈیا: کریک ڈاؤن کیوں ضروری ہے؟

ستم ظریفی یہ ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت سوشل میڈیا سے خوف زدہ ہے۔ تحریکِ انصاف جس نے کہ سوشل میڈیا کو اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، اور مخلف سیاسی جماعتوں کو اس قدر زک پہنچائی کہ یہ جماعتیں اپنے اپنے سوشل میڈیا سیل قائم کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ آج اسی تحریکِ انصاف کی حکومت کے وزیرِ اطلاعات سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے اور اس پر کریک ڈاؤن کی نوید

Read more

اچھائی اور برائی کی پہچان: خالص پاکستانی، سادہ اور آزمودہ طریقے

خدا کا کرم ہے کہ ہمارے معاشرے میں حق و باطل کی پہچان آسان سے آسان تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ مومن اور منافق کے مابین فرق واضح تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ حب الوطنی اور غدّاری کے پیمانے متعیّن کر لیے گئے ہیں۔ دوست اور دشمن کی شناخت کرنا مشکل نہیں رہا۔ ایک سچا مسلمان اور محبِّ وطن پاکستانی بننے کی راہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ حق و باطل کی اس کسوٹی پر کھرے اور کھوٹے کی

Read more

نیا وزیرِ اعظم اور اپوزیشن کی شر انگیزی

وزیرِاعظم کے انتخاب کا مرحلہ پایہء تکمیل کو پہنچا۔ حسبِ توقع عمران خان صاحب وزیرِاعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کی یہ کامیابی اپوزیشن جماعتوں سے اب تک ہضم نہیں ہو پارہی۔ نتیجتاً ان کی تقریر سے دوران ایسا ہنگامہ برپا کیا کہ خان صاحب کو صبروتحمّل کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے ہی بنی۔ یہ یقیناً ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ ایک زمانے کو علم ہے کہ نومنتخب وزیرِاعظم ایک سادہ طبیعت انسان ہیں۔ مکر و فریب

Read more

تبدیلی بھی کنٹرول میں ہے

یقین مانیے تبدیلی بہت ضروری ہے۔ ایک طویل عرصے کا جمود عوام میں بے چینی پیدا کرتا ہے۔ عوام کو مطمئن رکھنے کے لیے تبدیلی آتی رہنی چاہیے۔ تبدیلی سے پیدا ہونے والی ہلچل نئی امیدوں کو جنم دیتی ہے۔ پرانے خوابوں کی تعبیر سے مایوس ہو جانے والی آنکھیں نئے سپنے سجانے لگتی ہیں۔ اور اسی طرح سسٹم چلتا رہتا ہے۔ تبدیلی ناگزیر ہو چکی تھی۔ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی عوام کی امنگوں کا یہ بوجھ انہی

Read more

نیا پاکستان، پرانے کاریگر اور روحانی خاتونِ اوّل

شہباز شریف کی مصلحت کوشی کسی کام نہ آئی۔ الیکشن میں عددی برتری حاصل کرنے کا خواب دیکھنے کی بجائے اگر وہ نوازشریف کے مزاحمتی بیانیے کا ساتھ دیتے تو شاید اپنی پارٹی کی عزّت کسی حد تک بچا پاتے۔ مرکز میں حکومت بنانا تو دور کی بات ہے، اب تو پنجاب کی صوبائی حکومت بھی ہاتھ سے جاتی نظر آتی ہے۔ نواز شریف اب بادشاہ گروں کے کسی کام کے نہیں رہے۔ ان کا پاکستان آ کر گرفتاری پیش

Read more

سر جی! حالات کنٹرول میں ہیں

سیاسیت کی گرم بازاری، الیکش کی گہما گہمی، بد امنی کے اندیشوں اور غیر تسّلی بخش معاشی صوتحال کے باوجود محبِّ وطن حلقوں کے لیے مژدہ ہے کہ اس وقت حالات مکمّل کنٹرول میں ہیں۔ عوام النّاس کے سیاسی شعور کی ناپختگی کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اس بات کا قوی امکان موجود تھا کہ وہ اس مرتبہ بھی اپنے حقِ انتخاب کا استعمال کرتے وقت ملک کے وسیع تر قومی مفاد کے ادراک میں ناکام رہیں گے۔ سسٹم کی

Read more

بارے گدھے کا کچھ بیان ہو جائے

مبارک ہو کہ ہماری ملکی سیاست شیروں اور ٹائیگرز سے ہوتی گدھوں تک آن پہنچی۔ اس سے قبل کہ گدھوں کے میدانِ سیاست میں قدم رکھنے کو خوش آئند قرار دیا جاتا، کراچی میں ہونے والے واقعے نے گدھا برادری میں سراسیمگی کی لہر دوڑا دی ہے۔ گدھے اب تک حیران ہیں کہ یہ کون گدھے تھے جنہوں نے اپنا غصّہ اپنے ہم جنس پر نکالا۔ تب سے یہ صورتحال ہے کہ جس شہر میں بھی تحریکِ انصاف کی ریلی

Read more

عسکری حکومت کی بدحواسی اور بلاک بسٹر شو

نگران ”عسکری“ حکومت کے بد حواسی میں کیے گئے اقدامات نے ایک عام سے شو کو بلاک بسٹر بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ امید کے برعکس اس مرتبہ نوازشریف نے فرار کی بجائے مقابلہ کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ یہ فیصلہ انتخابی نتائج پر اثرات مرتّب کر سکتا تھا مگر المیہ یہ ہے کے انتخابی سرگرمیوں کے دوران پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات ایک مرتبہ پھر انتخابات کے بروقت انعقاد کے متعلق شکوک و

Read more

آ گئے لبیک والے، چھا گئے لبیک والے

مملکتِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کہ قیام جس کا دینِ اسلام کی سربلندی، دشمنانِ اسلام کی سرکوبی اور کفّار کے سینے پر مونگ دلنےکے لیے عمل میں آیا تھا، بفضلِ خدا اور بزرگانِ دین کی نظرِ کرم کے طفیل آج تک اسلام کا گڑھ ثابت ہوتی چلی آئی ہے۔ طاغوتی قوّتوں اور ان کے مددگاروں نے پاکستان کو اپنے قیام کے حقیقی مقصد سے دور کرنے اور راہِ راست سے بھٹکانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، مگر ان کی ہر

Read more

فیصلے کے بعد نواز شریف کے لئے کرنے والے فیصلے

میاں محمد نوازشریف نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز آمریت کے سائے میں کیا۔ ان کے متعلق ایک عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ وہ نازونعم میں پلے پنجاب کے لاڈلے بچے ہیں جو قید و بند کی صعوبتیں برداشت نہیں کرسکتا اوراسی لیے وہ مشرف کے ٹیک اوور کے بعد ایک ڈیل کے تحت ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ مزاحمت کی سیاست کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ یوں بھی ان کا خاندانی پسِ منظر کاروباری

Read more

جیپ کا نشان: ”سمجھدار“ لوگوں کی پہچان

نوّے کی دہائی میں پنجابی فلموں کے معروف ہیرو سلطان راہی مرحوم کی ایک فلم “پجارو گروپ” بہت معروف ہوئی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پجارو کو دولت، طاقت اور اثرو رسوخ کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ پجارو سے بھی زیادہ پرتعیش اور مہنگی گاڑیاں مارکیٹ میں آنے لگیں اور پجارو کا “ٹہکا” پہلے جیسا نہ رہا۔ مگر اب بھی ہمارے معاشرے میں جیپ کو دولت اور طاقت کی نشانی سمجھا جاتا ہے اور بااثر طبقے

Read more

سیاست دانوں نے ہمیں تباہ کر ڈالا

گزشتہ چند ماہ سے کسی مغربی مفکّر کا ایک قول سوشل میڈیا پر گردش میں ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ اگر تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ حققیقتاً تم پر کون حکمران ہے تو یہ دیکھو کہ ایسا کون سا طبقہ ہے جس پر تنقید کرنے کی آزادی تمہیں میسّر نہیں۔ مغرب کے اخلاقی زوال کا باعث ایسی ہی بے سروپا سوچ کی بہتات ہے۔ ویسے بھی ہم آ ج تک مغرب سے مستعار نظامِ سیاست کے

Read more