جشن امروز کا غلغلہ اور فکر فردا کی تنبیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تخت ہندوستان کے آخری تاجدار ابوالمظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ غازی کی رسم تاج پوشی 1837ء میں قلعہ دہلی میں ادا کی گئی تو حسب روایت شاہ کا سایہ تا قیامت سلامت رہنے کی دعا دی گئی۔ خدام، مصاحب، امراء، خواص، عوام، شعراء، بھانڈ، میراثی، سائل، مساکین سب ہی لال قلعہ کے اندر باہر موجود تھے۔ غربا میں لنگر تقسیم ہوا اور امراء میں خلعتین اور خطابات۔ جشن امروز میں فکر فردا کس کو تھی۔

عالم پناہ اور ظل الٰہی کہلانے والے تاجدار سلطنت مغلیہ کو کچھ سالوں بعد نہ صرف اپنے نور چشم ولی عہد کی بارات کا جلوس لال قلعہ سے چاندنی چوک تک لے جانے کے لئے بلکہ اپنی شاہی پوشاک میں جڑے جواہرات کو بھی تجوری سے نکالنے کے لئے بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کی اجازت کی ضرورت تھی۔ اس کے بعد کے حالات پر تبصرہ خود بہادر شاہ ظفر سے منسوب اس مصرع سے بہتر کیا ہوسکتا ہے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں۔

صرف موروثی تاج و تخت تک ہی موقوف نہیں تونگر کی انگلی پکڑ کر عنان اقتدار سنبھالنے والے اتائی بھی ہاتھ چھوٹتے یا پکڑ ڈھیلی پڑجانے پر لڑ کھڑا کر گرجایا کرتے ہیں۔ شاہ شجاع درانی کو بھی ایسٹ اینڈیا کمپنی نے براہ قندھار کابل کے قلعہ بالا حصار میں براجمان کر دیا تھا۔ ابھی جشن امروز کے شمع کی لو بھی مدھم نہیں ہوئی تھی کہ شمال سے آنے والی ٹھنڈی ہوئیں ایسی آندھی طوفان میں بدل گئیں کہ بادشاہ گروں کی لاشیں کابل اور جلال آباد کے بیچ پہاڑوں میں بکھری چیل کوؤں کا لقمہ بن گیئں۔

تاریخ گواہ ہے کہ طفیلی کی آؤ بھگت، شاہی کروفر، فرشی سلامیاں اور غلام گردشوں میں ہلچل محض مربی کی تابعداری اور فرمانبرداری سے مشروط ہوتی ہے مگر ہمیشہ وفاداری بشرط استواری ہے۔ جو دوسروں کے کاندھوں ہر چڑھ کر بلندیوں تک پہنچ جاتے ہیں جب سہارے نہیں رہتے ہیں تو پستیوں میں گر کر بے نام و نشان ہوجاتے ہیں۔

فخر ایشیا کہلانے والے کو بھی شملہ معاہدہ پر دستخطوں کے بعد 1973ء میں ہی معلوم ہوگیا تھا کہ وہ کون ہے اور کہاں کھڑا ہے۔ پانچ نکات کے ساتھ پانچ سال حکومت کرنے آئے سندھڑی کے فرش سے اسلام آباد کے عرش پر بٹھائے ماہر زراعت شریف النفس وزیر اعظم کو بھی تمام تر وفاداری، تابعداری اور فرمانبرداری کے باوجود ایک دن اسی آئینی ترمیم کی چھری کے نیچے آنا پڑا جس کو بطور نذرانہ اس نے منظور کروایا تھا۔ مگر تب تک جینوا معاہدہ ہو چکا تھا جس پر دستخط ایک منتخب حکومت ہی کر سکتی تھی۔

افغانستان سے روسی افواج کے انخلاء اور امریکیوں کی عدم دلچسپی کے باعث یکتائے عالم تونگر سے آدائیگیوں کے باوجود ایف سولہ طیارے لینا شیر کے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف تھا۔ ایٹمی صلاحیت کا ڈنکا بجانے کی نوبت کے پہر ملک کو ایٹمی تجربات پر پابندی کے لئے سی ٹی بی ٹی کی جال سے بچ کر نکلنے کے لئے پر تاثیر انداز بیان کی حامل زبان اور پس دیوار دیکھنے والی نگاہ کی مالک دختر مشرق کی ضرورت تھی۔ مگر بہت جلد ان کو بھی معلوم ہوچکا تھا کہ ان کی حیثیت بھی اقتدار کے طلسماتی محل میں مہمان کردار کی سی ہے۔ جب وہ راستے سے کانٹے ہٹانے نکلیں تو جان سے گئیں۔

جو اب کوٹ لکھپت میں گردش ایام کی ستم ظریفی کا رونا رو رہا ہے اس کو بھی ایک نہتی لڑکی کی ملک کے کونے کونے میں پھیلی مقبولیت کا مقابلہ اور گیارہ سال بعد نصیب ہوئی جمہوریت کی کھیرمیں مینگنیاں ڈالنے کے لا کھڑا کیا گیا تھا۔ اس نے سوویت یونین کے سوشلزم کا طلسم ٹوٹنے کے بعد ملک میں نج کاری کو فروغ دیا۔ مگر جب اس کی زبان چلنے لگی تو اس کو بھی بتا دیا گیا کہ وہ کون ہے اور اس کی حیثیت کیا ہے۔

دور استعمار کی یاد گار کھیل کرکٹ کے میدان میں سرخ گیند کو اچھال اچھال کر چوکے اور چھکے لگانے والے کھلاڑی سے اس جوان ہوتی نسل نے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں جس نے کبھی اپنے کالج اور یونیورسٹی میں طلبہ یونین نہیں دیکھی اور جس نے کبھی مطالعہ پاکستان اور تاریخ اسلام کی نصاب کے علاوہ کوئی کتاب نہیں پڑھی۔ سوچا گیا تھا کہ ہردلعزیز کپتان کے حلف لیتے ہی سمندر پار سے اہل وطن ڈالر، پاؤنڈ، یورو اور ریال کی بارش کر دیں گے۔ ان کی جوانی میں یورپ اور امریکہ کی بالخصوص خواتین میں مقبولیت سے متاثر ان کے ہمعصروں کو یقین تھا کہ ان ممالک کی حکومتیں کپتان کے لئے نظریں فرش راہ کریں گی۔ مگر کرکٹ کی طرح سیاست کے کھیل میں ضروری نہیں کہ نتیجہ ہمیشہ حسب خواہش نکلے۔

بدیسی سرزمین سے عالمی کپ جیت کر لانے والے نے میدان سیاست میں وعدے ایسےکیے ہیں کہ جن کا ایفا ہونے کے لئے ایک جنم کافی نہیں۔ ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کی بات ہی نہیں جس کو سننے کے لئے بھی بہت حوصلہ چاہیے مگر تعلیم و صحت تک عام آدمی کی رسائی جیسے وعدے بھی پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ ایک طرف ہونہار طلبہ کے لئے ریاست کی طرف سے دیا جانے والا وظیفہ ختم ہوچکا ہے تو دوسری طرف ہسپتالوں میں دوائیاں مہنگی ہی نہیں نایاب بھی ہوگئی ہیں۔ اسلام آباد اور لاہور کے نا مکمل گرین لائن اور میٹرو کیا بناتے جب پشاور میں بھی ان کا اپنا بی آر ٹی کا منصوبہ ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ کراچی کو اپنی تحویل میں لینے کی شوقین وفاقی حکومت کا واحد شہر اسلام آباد کراچی بنتا جا رہا ہے۔ کشمیر کے حق میں ریلیاں نکالتی سرکار کے پچھواڑے میں قبائلی علاقے، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں مایوسی اور نا امیدی آخری درجے کو پہنچ رہی ہے۔ کیا کیا بتلائیں یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے اور یہ بگاڑ تیز رفتاری سے جاری ہے۔

آسمان سیاست پر ستاروں کی چال پر نظر رکھنے والے نجومیوں کا کہنا ہے کہ جو ستارے صبح تک جگمگانے نکلے تھے بام عروج پر پہنچنے سے پہلے ہی ان کو مہنگائی، کساد بازاری اور مندی کی گرہن لپیٹ گئی ہے۔ بساط سیاست کی چالوں پر نظر رکھنے والے شہ مات کی بدشگونی کرتے سنائی دیتے ہیں۔ اقتدار کے طلسماتی محل کے ہرکاروں کے لہجے بتارہے ہیں کہ جشن امروز کے شمعوں کی لو تھر تھرا رہی ہے۔ سرگوشیاں آتی ہیں کہ غلام گردشوں میں قدموں کی چاپ بھی مدھم ہے۔ چوبدار جو ہر وقت آستینیں چڑھائے دفاع میں لگے ہوتے تھے اونگتے نظر آتے ہیں یا کنی کتراتے ہیں۔ شہر کی گلیوں میں غنیم کے اندرون خانہ در آنے کی افواہیں تھمنے کو نہیں آتیں۔

فکر فردا کے گیانی خانقاہوں میں اپنی نظریں افق پر جمائے خبردار کرتے ہیں کہ جب تک سبب موجود ہے علت ختم نہیں ہوتی۔ گزشتہ غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا گیا تو اب کے کفارہ نسلوں پر محیط ہوسکتا ہے۔ اب کے اگر شہ نشین کی دوڑ میں بے تابی دکھائی گئی، صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹا اور بے قابو گھوڑے دوڑائے گئے تو تاریخ کا گھن چکر پھر دہرائے گا اور یہ بھی ضروری نہیں تاریخ ہر بار مہربان ہو۔ تاریخ مٹا بھی دیتی ہے لوگوں کو بھی اور قوموں کو بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 193 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan