سرکاری جامعات اور ہسپتال بھی نمل یونیورسٹی اور شوکت خانم جیسی توجہ کے منتظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سرکاری جامعات اور ہسپتال بھی نمل یونیورسٹی اور شوکت خانم جیسی خصوصی توجہ کے منتظر ہیں۔ عمران خان کی سیاست اور طرز حکمرانی سے اختلاف رکھنے والے بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ شوکت خانم کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کا قیام ان کے اہم کارنامے ہیں۔ عمران خان کی تقاریر ا ٹھا کر دیکھ لیں۔ کم و بیش ہر تقریر میں کرکٹ ورلڈ کپ، شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کا ذکر ملے گا۔ بر سر اقتدار آنے سے قبل وہ شعبہ صحت اور شعبہ تعلیم کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا کرتے تھے۔

تحریک انصاف کے انتخابی اور جماعتی منشور میں بھی یہ نکات شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان وزیر اعظم بنے تو امید بندھی تھی کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔ لیکن عملی صورتحال ان امیدوں اور اندازوں کے قطعی برعکس ہے۔ موجودہ دور حکومت میں یہ دونوں شعبے ( صحت اور تعلیم) شدید مسائل اور مصائب میں گھرے ہوئے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت یہ ہے کہ کینسر جیسی موذی بیماری میں مبتلا مریضوں کو ادویات کی بندش کا سامنا ہے۔

آج کل یہ مریض سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ کتوں کے کاٹنے پر شہری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن وہاں جا کر انہیں معلوم ہوتا ہے کہ مطلوبہ ویکسین دستیاب نہیں۔ لہذا وہ علاج سے محروم رہنے پر مجبور ہیں۔ بروقت احتیاطی اقدمات نہ ہونے کے باعث ڈینگی نے سر اٹھا لیا ہے۔ شہری دھڑا دھڑ اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ برسوں کی محنت کے بعد پولیو کی سرکوبی ممکن ہوئی تھی۔ اب ایک بار پھر پولیو کے کیسز سامنے آنے لگے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں مفت ٹیسٹوں کی سہولت ختم کر دی گئی ہے۔ ایمبولینسوں کی کمی کے باعث آئے روز کوئی نہ کوئی افسوسناک واقعہ میڈیا کی زینت بنتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

دوسری طرف شعبہ تعلیم کے حالات بھی انتہائی مخدوش ہیں۔ تعلیمی بجٹ میں ہونے والی کٹوتی اپنا اثر دکھانے لگی ہے۔ ملک بھر میں بیشتر سرکاری جامعات شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ اگرچہ شعبہ تعلیم کے لئے کسی بھی دور حکومت میں مثالی بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔ تاہم صورتحال کبھی ایسی نہیں رہی کہ جامعات کو اپنی بقا کے لالے پڑ جائیں۔ دنیا بھر میں بجا طور پر اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو قوم کی فکری اور ذہنی تربیت کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔

مگر جب یہ ادارے اپنی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہو جائیں توان سے قوم کی تربیت کی امید رکھنا خام خیالی ہے۔ آج کل ہماری سرکاری جامعات کی یہی کیفیت ہے۔ یکساں نصاب تعلیم، معیار تعلیم، شرح خواندگی، علمی اور سائنسی تحقیق اور عالمی درجہ بندی جیسے معاملات کہیں پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ فی الحال یونیورسٹیوں کی صرف ایک ترجیح ہے۔ وہ یہ کہ کسی نہ کسی طرح اپنے وجود کو قائم رکھا جائے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ اور صوبہ سندھ میں سرکاری جامعات کی مالی مشکلات اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ تنخواہوں کی ادائیگی تقریبا نا ممکن ہو چلی ہے۔ یہ خبر سن کر انتہائی دکھ ہوا کہ اپنے صوبے بلکہ ملک بھر کی نمایاں جامعات میں شمار ہونے والی پشاور یونیورسٹی بھی انتہائی ابتر حالات سے دوچار ہے۔ یہ وہ تاریخی ادارہ ہے (تب اسلامیہ کالج پشاور) جس میں قائد اعظم محمد علی جناح دو بار تشریف لائے تھے اور اپنی جائیداد کا ایک حصہ اس ادارے کے لئے وقف کیا تھا۔

صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی طرف سے مالی امداد سے انکار پر پشاور یونیورسٹی سمیت کچھ دیگر جامعات بنکوں سے قرض لینے پر مجبور ہیں۔ سندھ اور خیبر پختونخواہ میں یونیورسٹی اساتذہ اور ملازمین وقتا فوقتا ہڑتال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بلوچستان کی یونیورسٹیوں کو بھی انہی مسائل کا سامنا ہے۔ تاثر میرا یہ تھا کہ پنجا ب کی جامعات کو اس قدر مالی بحران درپیش نہیں، جو دیگر صوبوں کی یونیورسٹیوں کو ہے۔ فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن (FAPUASA)، پنجاب کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ممتاز انور سے بات ہوئی تو یہ تاثر زائل ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ صوبہ پنجاب میں بھی کم و بیش یہی حالات ہیں۔ خاص طو ر پر ساہیوال یونیورسٹی، اوکاڑہ یونیورسٹی، جھنگ یونیورسٹی اور ڈیرہ غازی خان یونیورسٹی کے حالات انتہائی مخدوش ہیں۔ یہاں تک کہ اساتذہ اور دیگر ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ کہنا ان کا یہ تھا کہ ایسوسی ایشن کی جانب سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو بارہا درخواست کرنے کے باوجود معاملات جوں کے توں ہیں۔ ڈاکٹر ممتاز نے بتایا کہ صوبائی سطح پر احتجاج اور ہڑتالیں ہو رہی ہیں۔

مگر اب ایسوسی ایشن(FAPUASA) میں یہ تجویز سنجیدگی سے زیر غور ہے کہ ملکی سطح پر بھرپور احتجاج کیا جائے۔ امریکہ، برطانیہ اور جرمنی کی نامور جامعات سے تعلیم یافتہ آدمی کے منہ سے دھرنے اور جامعات کی تالہ بندی (lock down) کی بات سن کر مجھے حیرت ہوئی۔ دلیل ان کی مگر یہ ہے کہ شعبہ تعلیم کو مزید زبوں حالی سے بچانے اور حکومت سے اپنی بات منوانے کے لئے یہ اقدام نا گزیر ہیں۔

اللہ کرئے کہ یہ نوبت نہ آئے۔ لازم ہے کہ ارباب اختیار فوری طور پر اکیڈیمک اسٹاف ایسوسی ایشن کی تجاویز پر کان دھریں۔ ایک طرف مولانا فضل الرحمن دھرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف ملک بھر کی جامعات کے اساتذہ بھی دھرنے اور جامعات کی تالہ بندی کے لئے پر تول رہے ہیں۔ پہلے ہی ملکی معیشت انتہائی نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ اگر دھرنے شروع ہوتے ہیں تو معیشت کی کمزور صحت مزید متاثر ہو گی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ 2014 میں اسلام آباد کی سڑکوں پر 126 دن کے لئے جو سرکس لگا تھا، اس نے ملکی معیشت کو بلا مبالغہ اربوں کھربوں روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔ کیا ایک بار پھر ہم انہی راستوں پر چلنے کی تیاری کیے بیٹھے ہیں؟

جامعات کو درپیش اس مالی بحران کی کہانی بے حد مختصر ہے۔ موجودہ مالی سال کے لئے ہائیر ایجوکیشن کمشن آف پاکستان نے وفاقی حکومت سے 113 ارب روپے طلب کیے تھے۔ جبکہ حکومت نے محض 43 ارب روپے کی منظوری دی۔ برق رفتاری سے بڑھتی مہنگائی اور تعلیمی بجٹ کی کمی نے یونیورسٹیوں کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ موجودہ حکومت نے آئی۔ ایم۔ ایف اور دوست ممالک سے اربوں ڈالر کا قرض لیا ہے۔ فی الحال ملک میں کسی بڑے ترقیاتی منصوبے کا اعلان اور آغازنہیں ہوا۔

نجانے قرض کی یہ رقم کن کاموں پر خرچ ہو رہی ہے۔ بہت اچھا ہو اگر وفاقی حکومت قرض کی رقم کا کچھ حصہ ہائیر ایجوکیشن کے لئے مختص کردے۔ حکومتوں کے لئے سو ارب روپے مونگ پھلی کے دانوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ ملک و قوم کا مستقبل داؤ پر لگ جائے، تو سو پچاس ارب روپے خرچ کر دینا گھاٹے کا سودا ہرگز نہیں۔ یوں بھی تعلیم پر خرچ کی گئی رقم محفوظ سرمایہ کاری کے مترادف ہوتی ہے۔ جو منافع سمیت واپس ملتی ہے۔ برسوں سے ہم ملکی دفاع کے لئے اس اصول پر سختی کاربند ہیں کہ دفاعی بجٹ پرکسی قسم کا سمجھو تہ نہیں کیا جائے گا۔

ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ ہونا بھی نہیں چاہیے۔ سمجھنے کی بات مگر یہ ہے کہ تعلیم بھی ہمارے ملک اور قوم کے دفاع اور بقا کا معاملہ ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے بغیر کوئی ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ا صولی طور پر شعبہ تعلیم کو بھی دفاع جتنی اہمیت ملنی چاہے ے۔ افواج پاکستان کا کام ملک کی سرحدوں کی حفاظت ہے۔ تاہم ملک کی فکری اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ پڑھے لکھے شہری ادا کیا کرتے ہیں۔ نا صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی۔

حکومت کا یہ طرز عمل سمجھ سے بالا ہے کہ ایک طرف تو تعلیم اور تحقیق سے اسقدر عقیدت کہ وزیر اعظم ہاوس (رہائشی حصے ) کو ریسرچ یونیورسٹی بنانے کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ تعلیم سے اس قدر والہانہ محبت کہ نمل کالج میانوالی کے سالانہ کانووکیشن میں وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ، گورنر، وفاقی اور صوبائی وزراءکی فوج کے ہمراہ شرکت کرتے ہیں۔ تعلیم سے ایسا لگاؤ کہ بیٹھے بٹھائے القادر یونیورسٹی کا منصوبہ بنتا ہے اور وزیر اعظم لاؤ لشکر سمیت اس کا سنگ بنیاد رکھتے ہیں۔

دوسری طرف اس قدر بے نیازی کہ ملک بھر کی سرکاری جامعات کو درپیش مالی بحران کی خبر ان تک نہیں پہنچ پاتی۔ کاش وزیر اعظم عمران خان تعلیم کی اس زبوں حالی کا فوری نوٹس لیں۔ کاش وہ ملک کی سرکاری جامعات اور سرکاری ہسپتالوں کے لئے بھی اس دردمندی، حساسیت اور تحرک کا مظاہرہ کریں، جوو ہ ہمیشہ نمل یونیورسٹی اور شوکت خانم ہسپتال کے معاملے پر دکھاتے ہیں۔ اعلیٰ ترین سطح سے نوٹس لیا جائے گا تب بھی تعلیم اور صحت کی بگڑتی صورتحال بہتر ہو سکے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •