ڈیل یا ڈھیل کا الاپ اور ڈوبتی معیشت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے ہم عمروں نے ہوش سنبھالی تو آمر پرویز مشرف برسر اقتتدار تھے۔ اس زمانے میں پی ٹی وی ہر گھر میں مقبول تھا جبکہ کیبل کا نیا نیا دور شروع ہوا تھا اور ہمیں یہ بتایا گیا کہ کیبل دیکھنا بری بات ہے کیونکہ کیبل پر ”غلط اسٹیشن“ آتے ہیں جن کو دیکھنے سے بچے خراب ہو جاتے ہیں۔ ہم نے اس بات کو مان تو لیا لیکن تسلیم نہیں کیا۔ لہٰذا اپنے یار دوستوں کے ساتھ سنوکر کلب جانا شروع کردیا اور بھارتی و ولایتی فلموں سے لطف اندوز ہونا شروع کردیا۔

لیکن سنوکر کلب کا مالک فضول بیٹھنے نہیں دیتا تھا تو پھر اس کا یہ حل نکالا گیا کہ سب دو دو روپے ملائیں گے اور سنوکر کھیلا کریں گے۔ بعض اوقات سنوکر کلب میں خبریں بھی سنی جاتیں تھیں اور اس وقت مقبول ہوتے نجی نیوز چینلز پر ایک جملہ اکثر سننے کو ملتا کے ”ریاست“ کے خلاف کوئی کام برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہمارے ننھے اذہان میں سوال آیا کہ یہ ریاست کیا ہوتی ہے؟ اس کا جواب میرے کند ذہن نے یہ دیا کہ ریاست نام ہوتا ہے ایسے ہی جیسا اپنے سکول کے باہر نان ٹکی بیچنے والا ”چاچا ریاست“ ہے۔

میڑک میں پہنچے تو مطالعہ پاکستان والے استاد نے بتایا کہ ریاست ملک کو کہتے ہیں۔ ہم نے اس پہ آمین تو کہا لیکن دل مطمئن نہیں ہوا۔ یہ سوال برسوں ذہن میں رہا اور اب بھی کسی کونے میں موجود ہے کہ ریاست کیا ہوتی ہے؟ مجھے افلاطون، ارسطو، میکاولی، گارنر، تھامس ہابز، جان لاک، روسو اور لاسکی سمیت بڑے مفکرین بھی اس پر مطمئن نہیں کر سکے کہ ریاست کیا ہوتی ہے۔ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے یہ وہ جملہ ہے جو ہمارے اساتذہ نے ہمیں سکھایا اور ہم اگلی نسل کو سیاسیات پڑھاتے ہوئے بتا رہے ہیں۔

جب ہم نے پہلی دفعہ سنا کہ ریاست ماں جیسی ہوگی تو ہمیں عجیب سی خوشی بلکہ ”شوق“ ہوا۔ جب تھوڑا بڑے ہوئے تو پھر بھی شاک ہوا جو ابھی تک برقرار ہے۔ ریاست پاکستان مختلف ”بدعنوان“ اور ”خاندانی جمہوری بادشاہت“ (بقول عمران خان) ادوار کا سامنا کرتے ہوئے ہم خان اعظم، مفکر اعظم، عقل کل، آب زم زم سے غسل فرمائے ہوئے، عمران خان کے نیک دور میں پہنچی۔ اس حکومت نے ہمیں سابقہ حکومتوں کی طرح یہ تو بتایا کہ پچھلی حکومتیں سارا کچھ لوٹ کہ کھا گی ہیں اور خزانہ خالی ہے لیکن اس حکومت نے یہ فقرے دہرانے کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ ”کسی کو این آر او نہیں ملے گا“ اور ”میرے پاکستانیوں آپ نے گبھرانا نہیں“ کے ورد سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔

تحریک انصاف کی انقلابی حکومت کے معاشی دماغ اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے بڑھتے ہوے ڈالر کے ریٹ اور دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی پر عوام کو بتایا کے ہم ایک سال میں معیشت ٹھیک نہیں تو تبدیل ضرور کردیں گے۔ معیشت خاک تبدیل ہونی تھی وزیر خزانہ ہی ریٹائرڈہرٹ ہو گیا اور ”امپورٹڈ“ وزیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بنک وکٹ پر پہنچا دہیے گے۔ ایک بار پھر امید باندھی گی کہ یہ آتے ہی ”بڑے شارٹس“ کھیلیں گے اور تیزی سے معاشی رنز سکور کریں گے لیکن لائے گئے دونوں کھلاڑیوں نے تیز کھیلنے کی کوشش تو کی لیکن گیند دائرہ بھی نہ پار کر سکی۔

ڈالر کا ریٹ مسلسل تیز گیندیں پھینک رہا ہے مہنگائی گگلی پہ گگلی کر رہی ہے اور بے روزگاری باؤنسرز مار رہی ہے۔ دوسری طرف بیڈ گورنس چھکے چوکے مار رہی ہے اور معاشی رن ریٹ منفی سے بھی نیچے جا چکا ہے۔ جبکہ خارجہ پالیسی اس کھلاڑی کی طرح کھیل رہی ہے جس کو سارے ٹورنامنٹ میں صرف اس امید پر کھلایا جارہا ہوتا ہے کہ کسی میچ میں بھی چل پڑا تو پیسے پورے کر جائے گا لیکن وہ بھی مسئلہ کشمیر ہو یا FATF کے معاملات کہیں بھی نظر نہیں آرہی۔

رہی سہی کسر سیاسی گرفتاریاں پوری کر رہی ہیں۔ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے قائدین بالترتیب سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر مملکت آصف زرداری اپنی بیٹی اور بہن کے ساتھ پابند سلاسل ہیں۔ اس کے علاوہ نیب چیرمین کی تعیناتی کرنے والے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق قائد حزب اختلاف خورشید شاہ بھی نیب کی حراست میں ہیں۔ جبکہ مولانا فضل الرحمن اکتوبر میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور دھرنا دینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ نواز نے مولانا کا ساتھ دینے اور پیپلز پارٹی نے دھرنے میں شمولیت سے انکار تو کردیا ہے لیکن مولانا کی ”اخلاقی سیاسی حمایت“ کا اعلان بھی کیا ہے۔ سیاسی و صحافتی پنڈت کہہ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کوئی ریلیف یعنی کہ ”ڈیل“ چاہتی ہے جبکہ خان صاحب کہتے ہیں کہ میں این آر او نہیں دوں گا۔ ڈیل جیسی خبروں کی تصدیق شیخ رشید بقراط راولپنڈی (استاد محترم نصرت جاوید صاحب کا دیا گیا لقب) اور وہ نام نہاد صحافی کر رہے ہیں جن کی بتائی گی 99.99 فیصد خبریں غلط ثابت ہوئی ہیں۔

لہذا ڈیل کے امکانات انتہائی کم نظر آرہے ہیں لیکن پاکستان کی سیاست میں ”سب کچھ“ ممکن ہے صرف صاحب بہادر کی منظوری چاہیے۔ تحریک انصاف کے انقلابی کارکنان جن کی کل پہچان بغیر رنگ نسل اور جنس ہر سیاسی ناقد کو گالی دینا اور الزام لگانا ہے وہ کہتے ہیں نواز اور زرداری پیسے دیں گے تو ملکی معیشت ٹھیک ہو جائے گی۔ جان کی امان پا کر یہ پوچھنے کی جسارت کرلیں کہ خان صاحب پھر کیوں کہتے ہیں کہ این آراو نہیں دوں گا۔ تو وہ اپنا ٹائیگر پن دکھانا شروع کر دیتے ہیں۔

دوسری طرف لیگی متوالے ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف ڈیل نہیں کرے گا۔ اگر ان سے پوچھ لیا جاے کہ اگر ڈیل کر لی گئی؟تو وہ بھی پوچھنے والوں کو کم القابات سے نہیں نوازتے ہیں۔ اصل پریشانی ڈیل یا ڈھیل نہیں ہے بلکہ آئی ایم ایف سے کیا گیا وہ معاشی معاہدہ ہے جس کی شرائط انتہائی سخت ہیں اور وہ معاہدہ حکومت نہیں ”ماں جیسی ریاست“ نے کیا ہے۔ جس سے نکلنے کا کوئی چارہ نہیں ہے لیکن اس کو مکمل کرنے کے امکانات بھی دن بدن محدود ہوتے جارہے ہیں اور معاشی و سیاسی ابتری ایسے ہی رہے تو امکانات محدود ہوتے ہوتے معدوم ہو جاہیں گے ( میرے منہ میں خاک) اور پھر نواز لیگ آ جائے یا پی پی یا کوئی سیاسی فرشتہ کچھ نہیں کر پائے گا۔

معیشت کی تباہ حالی اندرون و بیرون ملک پریشانیاں پیدا کر رہی ہے۔ جیسا کہ بے روزگاری اور مہنگائی میں ہوشربا اضافہ، نادار مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی بند کرنا، تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی اور شرح سود میں ریکارڈ اضافہ چیخ چیخ کے کہہ رہا ہے کہ ”کجھ کر لو یار! کجھ تے کر لو۔“ بیڈ گورنس سر چڑھ کہ بول رہی ہے۔ نمرتا کی لاش، قصور کے معصوم بچوں کی بے حرمتی، ویکسین نہ ملنے سے ماں کی گود میں اٹکتی سانسوں سے دم توڑنے والے بچے کی موت، ایمبولینس کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ایک کی جگہ تین لاشوں کے گھر پہنچنے اور آمنہ عتیق کی خودکشی ملکر ”ماں جیسی ریاست“ کا ضمیر جنجھوڑ رہے ہیں لیکن ریاست کہہ رہی ہے کہ ڈیل نہیں ہو گی اور این آر او نہیں ملے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •