جسٹس فائز عیسیٰ کے دل جلانے والے اثاثے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جسٹس فائز عیسیٰ پر بیرون ملک اثاثے رکھنے کے الزام میں جو کیس بنایا گیا ہے، اس کیس کا دفاع کرتے ہوئے جناب جسٹس صاحب نے جو ”اثاثے“ قوم کو بتائے ہیں وہ ”اثاثے“ اس ملک کی ”مقتدرہ“ کے لئے ہمیشہ درد سر رہے ہیں۔ پہلا اثاثہ ظاہر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ”ملک کے آئین میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت کو قائم رکھنا ایک فریضہ ہے۔ “ اس حیرتوں کے جذیرے میں یہ آئینی فرائض ادا کرنے مین کس سے کوتاہی سرزد ہوتی رہی؟ آئین اور پارلیمان کے نام سے کون چڑ جاتے ہیں؟

اپنا کام چھوڑ کر، اپنے حلف نامے کو بھلا کر سیاسی، سفارتی، معاشی اور فنون لطیفہ کے معاملات میں ملک کے کس ادارے کو زیادہ دلچسپی رہتی ہے؟ اپنے فرائض ادا کیے بغیر فلاحی اور سیاسی کاموں میں ہمارے ”سجیلے جوان“ اپنی توانائیاں کیوں خرچ کرنا پسند کرتے ہیں؟ جسٹس فائز عیسیٰ اپنی زندگی کے اصولوں کے اثاثوں کی تجوری کھولتے ہوئے بھول پن کی بیماری میں مبتلا قوم کو یاد دلاتے ہیں ”جب ادارے اختیار سے تجاوز کرتے ہیں تو ملک نا صرف کمزور ہوتا ہے بلکہ ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ “ یہ ایسا کیس ہے، جس میں ملزم اپنا دفاع کم اپنے اداروں، ریاست اور وطن کا دفاع زیادہ کر رہا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ پر بنایا گیا صدارتی ریفرنس ایک فرد کا معاملہ نہیں بلکہ اب اس ملک کی تاریخ اور تقدیر ہے۔

ایک معزز اور باوقار منصف کا کیس منگل 24 ستمبر سے سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں قائم دس رکنی فل کورٹ سنے گا۔ کیس کے دفاع میں جسٹس فائز عیسیٰ نے اب تک جو بھی کہا اور لکھا ہے وہ اس ملک میں جمہوریت کے لئے مشعل راہ بن سکتا ہے۔ آئین، جمہوریت اور پارلیمان کو اس ملک میں کتنی جگہ نصیب ہے اس کا اندازہ شاہراہ جمہوریت، شاہراہ دستور اور ایوان بالا میں بنی دستور گلی کو دیکھ کر کیا جا سکتا ہے۔

”جرنیلی سڑک“ کا تعمیراتی کام دن رات جاری ہے، وہ بڑھتی جا رہی ہے۔ اور شاہراہ جمہوریت اور شاہراہ دستور سکڑتی جا رہی ہے۔ جمہوریت اور آئین کی شاہراہ پر کام کرتے بھٹو سے لے کر بینظیر تک وطن عزیز میں جو خون بہا ہے، اس خون سے جو گلاب اگنے تھے وہ سیاسی بہار کے ہوتے بھی جل گئے۔ ان بدنصیب آنکھوں نے بہاروں میں وہ گلاب جلتے دیکھے ہیں۔

الیکشن چرانے والے بریگیڈئر (ر) اعجاز جیسے جمہوریت دشمن بابے دیکھو اپنی جیت کی پیاری سی کہانیاں ہم بچوں کو کیسے بتا رہے ہیں۔ اس سے پہلے اس طرح کی کہانیاں ہمیں مجاہد جنرل حمید گل اور اسلم بیگ صاحب بتایا کرتے تھے۔ جو نسل ان الیکشن چرانے کے ارادے رکھنے اور اس نیک کام کے لئے حکمت عملیاں بنانے والے بابوں سے کہانیاں سن کر جوان ہو رہی ہے، اس کو جمہوریت، آئین اور پارلیمان سے پیار کے سبق کون پڑھائے گا؟

عام الیکشن تو کیا سینیٹر حاصل بزنجو کو شکایت ہے کہ یہاں ایوان بالا کے چیئرمین کے لئے جو اب الیکشن ہوا تھا وہ بھی چرانے والوں نے کامیابی سے چرا لیا۔ بینظیر بھٹو نے 2007 ع میں اپنی وطن واپسی پر جن خدشات کا اظھار کیا تھا۔ ان خدشات کو برگیڈیئر (ر) کی باتوں نے سچ ثابت کر دیا ہے۔ سلیم صافی کے ساتھ بیٹھ کر برگیڈیئر (ر) صاحب نے جو کہانی بیان کی تھی وہ نا صرف یاد رکھنے جیسی ہے بلکہ وطن عزیز کی جمھور دشمنی کا ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔

ریکارڈ کی تصیح کے لئے جسٹس فائز عیسیٰ جو کچھ بول رہے ہیں اس قوم کے لئے وہ راہ نجات ثابت ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اشفاق لغاری کی دیگر تحریریں
اشفاق لغاری کی دیگر تحریریں

اشفاق لغاری

لکھاری، میڈیا سائنسز کا طالب علم ہے۔ پڑھنا، لکھنا، گھومنا اور سیاحت کرنا اس کے محبوب کاموں میں شامل ہیں۔

ashfaq-laghari has 2 posts and counting.See all posts by ashfaq-laghari