نہ ہی باٹا نہ اسکول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” پہلے باٹا پھر اسکول“ کمرشل سروس ریڈیو پاکستان پر چند خوش باش بچے یہ فقرہ یا مصرع پڑھ کر خاموش ہو گئے اور مجھے رنج و غم کے اتھاہ سمندر میں ڈبکیاں کھاتے ہوئے چھوڑ گئے۔ آپ بھی کہیں گے بھلا اس ایڈورٹائزمنٹ کو سن کر کے غمگین ہونے کی کیا تک ہے؟ اگر یاسیت سے لطف اندوز ہونا مقصد ہو تو کوئی حزنیہ گیت یہ کام بخوبی سرانجام دے سکتا ہے یا پھر ”آداب عرض“ کی کوئی سچی آپ بیتی پڑھ کر، سگریٹ کے دھوئیں کے مرغولے اپنے ارد گرد پھیلا کر معاشرے کی خامیوں پر نہ بہنے والے آنسو پلکوں تک لائے جا سکتے ہیں۔

لیکن میں آپ کو اس سوچ سے بھی بچا لوں گا۔ آئیے سڑک کنارے اس چھوٹے سے قصباتی ہوٹل پر آئیے، میں خندہ پیشانی سے بنچ کے آگے بچھی میز آپ کے لیے صاف کروں گا اور آپ کا آڈر لے کے بڑی خوش الحانی سے ”ایک چائے سپیشل لاوؑ یا ایک پلیٹ سادہ پلیٹ سنگل جی“ کی صدا لگاوؑں گا۔ میں بھی کتنا سادہ ہوں، آپ بھلا یہاں کیسے آ سکتے ہیں۔

خیر، وہ سامنے 1967 ماڈل کی ایک ٹویوٹا آ کے رکی ہے، ویسے مجھے کاروں کا کوئی شوق نہیں، ایسا شوق تو صاحب استطاعت لوگوں کو ہی ہوا کرتا ہے۔ میں ٹھہرا دیہاتی ہوٹل کا ایک ادنٰی سا ٹیبل مین۔ دراصل یہاں بہت سی بسیں، کاریں اور ٹرک وغیرہ آ کر رکتے ہیں اور استاد لوگوں میں بیٹھ کے مجھے مشینری پہچاننے کا کچھ تجربہ ہو چکا ہے۔ 67 ماڈل کی کار سے، ایک صاحب پینٹ بوشرٹ پہنے، شاید گولڈ لیف کی ڈبی لینے کو اترے ہیں جو یہاں انہیں یقیناً نہیں ملے گی۔

ایک نو دس سال کا بچہ بھی ان کے ساتھ اترا ہے جس نے چم چم کرتے باٹا کے جوتے پہن رکھے ہیں۔ گول مٹول سا بچہ، صاف ستھرے کپڑے، یہ بھی یقیناً پہلے باٹا کے جوتے پہنتا ہوگا اور پھر ”پہلے باٹا پھر اسکول“ گاتا ہوا سکول چلا جاتا ہوگا۔ وہاں گیٹ پر اسے ماسٹر جی، نہیں مس مل جاتی ہوں گی۔ وہ پہلے اسے اپنے خوبصورت سے سٹاف روم میں لے جا کر، چائے پیسٹری بھی ضرور کھلاتی ہوں گی۔ میں یہی سوچ رہا تھا کہ ہوٹل کے مالک کی جھڑکی سنائی دی:

” اوئے ریاضے! بٹ بٹ کیا دیکھ رہا ہے۔ ذرا ادھر سے آڈر لے۔“

” صاحب جی پھل فروٹ، چائے، کھانا، مٹھائی۔ کیا لاوؑں جی۔“

میری بات سن کر آپ اکثر قارئین کی طرح، افسانے کے کردار کو اپنے ذہن میں مجسم کر چکے ہوں گے کہ میں اکہرے بدن کا کالا سا ٹیبل مین ہوں گا جو دن بھر میلی دھوتی پر ایک کالا ہوتا بنیان پہنے، اپنے سر کے گھنے سیاہ بالوں میں پاوؑ بھر تیل چپڑے اور کان کے اوپر، بھرے ہوئے سگریٹ اڑسے، چائے لگاوؑ جی، سادہ سنگل لگاوؑ جی، کی آوازیں لگاتا رہتا ہے اور رات کو ”ٹورنگ ٹاکیز“ میں جا کر، سکرین پر پھڑکتی ہوئی رانی یا فردوس کے ہوائی بوسے لیتا ہے، بڑھکیں مارتا ہے اور سکرین کے قریب جا کر جوش جنوں میں اپنا بوسیدہ بنیان پھاڑ کر، ہیروئینوں کے صادق ترین عاشق ہونے کا ثبوت پیش کرتا ہے۔

اور ساتھ ساتھ آپ نے یہ بھی ضرور سوچا ہوگا کہ میرا اور باٹا کا کوئی نفسیاتی تعلق ہونا بھی لازمی ہے۔ ہو سکتا ہے اس نے کبھی باٹا کا جوتا چرا کر جیل کی ہوا کھائی ہو یا بچپن میں اس نے اپنے والد سے چم چم کرتے جوتوں کا مطالبہ کیا ہوگا جو پورا نہ ہونے پر مایوس ہو کر گھر سے بھاگ نکلا ہو اور پھر دھکے کھا کھا کر ”ٹیبل مینی“ تک پہنچ گیا ہے۔ اب جب بھی نئے جوتے دیکھتا ہے تو اسے اپنا گھر پیارا گھر یاد آ جاتا ہے۔

آپ کا بھی کوئی قصور نہیں، آپ اپنے کرب کو سب کا کرب سمجھ کر اور اپنے مسئلے کو سب کا مسئلہ سمجھ کر خاموش ہو جاتے ہوں گے۔ اگر آپ نے وسیع تر پیمانے پر سوچا ہوتا یا صرف اپنے مسئلے کو سلجھانے کی بجائے، گلیوں کوچوں میں جا کر لوگوں کے مسائل سمجھے ہوتے اور انہیں سلجھانے کی کوشش کی ہوتی تو کوئی ریاض حسین ”ریاضا“ نہ بنتا۔ کوئی ننگ پیرا جوتا چرا کر جیل نہ جاتا اور کوئی والد اپنے بچے کی طلب کی تکمیل نہ کرکے، اسے گھر چھوڑ دینے پر مجبور نہ کر سکتا۔ اچھا رہنے دیجیے، آپ خوبصورت لان میں، سرخ پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھ کر، چین سے درآمد شدہ نئے کافی سیٹ کی پیالی میں Nescafe کی کافی پیجیے اور میرا افسانہ پڑھیے۔ واقعی اس حقیقت کو آپ افسانہ ہی سمجھ ر ہے ہوں گے۔

ابھی میرے ذہن میں ایک اور خیال کوندا ہے کہ شاید آخری فقرہ پڑھ کر آپ مجھے ”ان پڑھ نابغہ“ یا ”Layman Genius“ سمجھ بیٹھے ہوں جو ”قارئین“ کا پیشگی تجزیہ کر ڈالتا ہے لیکن حضرات میں نہ میں آپ کا پہلا تخیل ہوں اور نہ دوسرا خیال بلکہ میں بارہ سال کا انتہائی ذہین اور گورا چٹا بچہ ہوں جسے ماسٹر نے ساتویں جماعت سے محض چم چم جوتے نہ پہننے کی وجہ سے نہیں نکالا بلکہ اس لیے کہ میں بیس تاریخ کو جو فیس ادا کرنے کی آخری تاریخ ہوتی ہے، صرف دس روپے فیس ادا نہیں کر سکا تھا اور جب میں کہیں سے کر کرا کے اکیس تاریخ کو دس روپے کی خطیر رقم لیے خوش خوش سکول کی عمارت میں داخل ہوا تو میرا دل نہ جانے ایک انجانے خدشے سے کیوں دھڑک رہا تھا۔

وہی ہوا، ماسٹر صاحب نے نہ صرف میرا نام رجسٹر سے خارج کر دیا تھا بلکہ انتہائی درشتی سے ڈانٹ کر مجھے سکول سے نکل جانے کا حکم بھی دیا تھا۔ یقین کریں اگر میں عین اس وقت آپ کا پہلا تخیل ہوتا تو اس کا سر ضرور پھاڑ ڈالتا لیکن میں نے ایک روز پہلے ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک قول پڑھا تھا کہ جس نے مجھے صرف الف پڑھایا وہ میرا استاد ہے اور استاد کی تعظیم مجھ پر فرض ہے۔ میرا خیال ہے کہ عرب میں مڈل سکول نہیں ہوا کرتے ہوں گے، اسی لیے وہاں دو سال تک انتہائی شفقت سے پڑھانے والا استاد، صرف ایک دن کی تاخیر سے فیس دینے کے سبب کسی کو سکول سے نہ نکالتا ہوگا۔

مگر فی الحال تو میرے سامنے اپنا مسئلہ تھا۔ میری مرحومہ ماں کو مجھے پڑھانے کا کتنا شوق ہوا کرتا تھا۔ کاش وہ آج زندہ ہوتی تو شاید مجھے اٹھارہ تاریخ کو ہی کہیں سے رقم فراہم کر دیتی۔ مگر خدا کو اس کے شوق سے کیا؟ اس کا اپنا شوق انسانوں کو پیدا کرنا اور ان کے شوق کی تکمیل سے پہلے، ان کی روحیں قبض کر لینا ہے۔ بھلا اپنے شوق پر دوسروں کے شوق کو کون ترجیح دیتا ہے اور اللہ ٹھہرا حاکم الحاکمین۔ میں بسورتا ہوا ہیڈ ماسٹر کے پاس پہنچا، منتیں سماجتیں کیں لیکن وہ ”اصول ہے“ کہ رٹ لگائے رہے۔

اگر مجھے کچے جھونپڑے میں خون تھوکتے باپ کا خیال نہ ہوتا تو میں یقیناً اپنے وجود سے اس با اصول جہاں کو پاک کر دیتا لیکن پھر موت سے قریب تر ہوتے ہوئے میرے باپ کو، کائی لگے گھڑے سے کانسی کے گندے کٹورے میں پانی انڈیل کر کون دیتا؟ اس کا سر کون دباتا؟

میرا باپ میری ماں کی زندگی میں ہی کسی موذی مرض میں مبتلا ہو گیا تھا۔ چند کنال زمین جسے وہ اپنی ماں کہا کرتا تھا، اس نے اپنے وجود کی بقا کی خاطر بیچ ڈالی تھی۔ خیر اس نے کوئی اتنا بڑا گناہ بھی نہیں کیا تھا۔ سینما گھر کے پچھواڑے کے جھونپڑے میں جو کالی سی بھتنی رہتی ہے، جسے لوگ انوری رنڈی کہتے ہیں، اس کے جھونپڑے میں تو سینما کا آپریٹر، پھل فروش عزیز اور نہ جانے کون کون گھسے ہوتے ہیں جبکہ انوری کا بیٹا گاموں بتیسی نکالے باہر بھنگ گھوٹتا رہتا ہے۔

زمین میرے باپ کی کوئی اصلی ماں تھوڑا تھی وہ تو بس کہنے کی بات ہے۔ لیکن اس کی ماں کا خون بھی اس کے مرجھائے پنڈے کو کھلانے میں ناکام ہو گیا تھا۔ وہ ریت کی دیوار کی طرح بھرتا چلا گیا۔ اس کے گالوں کی ہڈیاں ابھرتی چلی گئیں۔ چہرے کی سرخی زردی میں تبدیل ہوتی رہی۔ آنکھوں کی چمک معدوم ہوتی چلی گئی اور اس کی آنکھیں، مجھے پیلی مٹی سے پوتے گئے چول ہے میں راکھ کی لگائی دو چھوٹی چھوٹی ڈھیریاں دکھائی دیتی تھیں۔

میری ماں کو یقین ہو چکا تھا کہ اس کے سرتاج کو موت کے منہ میں جانے سے اب کوئی نہیں بچا سکتا لیکن میری ماں شاید کچھ کم دور اندیش تھی۔ اس کے بچہ پیدا ہونا تھا۔ نہ جانے یہ غریب خود مرجھائے ہوئے ہونے کے باوجود، نئے پھول کھلانے کی خاطر اپنا زردانہ دوسرے درخت کو منتقل کیے جانے کے اپنے جوش و خروش سے باز کیوں نہیں رہتے۔ نتیجہ تو وہی ڈھاک کے تین پات والا ہونا ہوتا ہے۔ ان کے زردانے سے جو پھول زرد شاخ پر لہلہاتے ہیں وہ یا تو بن باس کے ہوتے ہیں یا پھر ان کی رنگت بے حد پھیکی ہوتی ہے اور بارہا ان پھولوں کی پتیاں، بن کھلے مرجھا کر مٹی میں جا ملتی ہیں۔

ہمارے ہاں ایک بہن پیدا ہوئی، نہیں وہ تو اس پلے کی بہن تھی جس کی پچھلی دو ٹانگیں چند ماہ پہلے ایک ٹرک کے پہیے تلے آ کے کچلی گئی تھیں اور وہ اب اپنی تنکوں ایسی پچھلی دو ٹانگوں کو گھسیٹتا، کؤں کؤں کرتا پھرتا رہتا تھا۔ تو وہ شاید میری اور گھسٹتے پلے دونوں کی ہی بہن تھی جس کی صورت تو انسانوں کی سی تھی مگر ٹانگیں بالکل مضروب پلے کی ٹانگوں ایسی تھیں۔ خود تو گھسٹ نہیں سکی مگر ساتھ میں ماں کو بہت دور گھسیٹ کر لے گئی تھی۔

سر کٹ گیا لیکن زنگ آلود تاج وہیں کا وہیں دھرا ہے جس کا مجھے بھی کوئی فائدہ نہیں۔ جب میں نے خدا کے شوق کی بات اس سے کہی تو اس کی دھنسی ہوئی راکھ کی ڈھیریوں ایسی آنکھیں کچھ اور اندرکو دھنستی گئیں اور اس کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات مکڑیوں کے جالے سے بنا گئے۔ وہ بہت برہم ہوا تھا اور مجھ پر انکشاف کیا تھا کہ میں ”کفر کے کلمات“ ادا کرنے کا مرتکب ہوا ہوں۔ میرا معصوم ذہن ایک بار پھر سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ شاید سارے کافر مجھ جیسے دکھی ہوں تبھی تو وہ کفر بکتے ہیں۔

سکول میں تعطیلات ہو گئیں اور میں یہاں تیس روپے ماہوار اور روٹی کپڑے کے عوض ملازم ہو گیا۔ ماحول بہت گندا ہے۔ میری عمر چھوٹی ہے۔ شکل و صورت بھی خاصی ہے، کپڑے بھی واجبی سے ہوتے ہیں، جن میں سے مکھن ایسا بدن جھانکتا رہتا ہے۔ جو بھی دیکھتا ہے، زور سے کھنگورا داغ دیتا ہے اور اگر میں بھولے سے اس کی جانب دیکھ لوں تو وہ نہایت مکروہ مسکراہٹ کے ساتھ مونچھوں پر ہاتھ پھیرتا ہے پھر ایسی نظروں سے دیکھتا ہے جیسے وہ مجھے اپنے اندر جذب ہی تو کر لیں گی۔

میں صرف اپنی پڑھائی کو نئے سرے سے جاری کرنے کے لیے ہوٹل کی ملازمت کر رہا ہوں لیکن استاد لوگ مجھے لڑکے کی بجائے بستر سمجھتے ہیں اور میری گرماہٹوں سے مستفید ہونے کے لیے اکثر مجھے پٹڑی سے اتارنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ بہانہ تو مجھے اپنے قریب بلا کر ٹرک ڈرائیوری کا شوق دلانا ہوتا ہے مگر درحقیقت پس پردہ مقصد ٹھرک جھاڑنا ہی ہوتا ہے۔ جب ان کے شیشم کے تنوں کے سے کھردرے ہاتھ میری چھوٹی چھوٹی رانوں پر سے ہوتے ہوئے آہستہ سے پیچھے کی جانب کھسکنے لگتے ہیں تو مجھے اپنے بدن پر خونی مکڑوں کی سرسراہٹ بے چین کر دیتی ہے۔

دل تو دھاڑیں مار مار کر رونے کو چاہتا ہے لیکن میں ”استاد جی چائے لاوؑں کہ کھانا“ کہتا ہوں اور اپنا ننھا سا دل مسوس کر رہ جاتا ہوں۔ سوچتا ہوں اگر ”استاد بادشاہوں“ کے حضور کوئی گستاخی کر دی تو مالک نوکری سے نکال دے گا۔ تنخواہ نہ ملی تو باپ الگ ناراض ہوگا اور ساتویں جماعت میں دوبارہ داخلہ لے کر اپنی ماں کے شوق کی تکمیل بھی تو نہیں کر سکوں گا۔

پرسوں کہیں جاتے ہوئے بس سے ایک بابو اترا اور ہوٹل کے نزدیک آیا تو میں نے اپنے رٹے رٹائے فقرے دہرائے۔ وہ میری چرب زبانی سے خوش ہو گیا اور میری گال پر ہلکی سی چپت مار کے بولا تھا، ”بڑے ذہین بچے ہو، پڑھتے نہیں ہو کیا؟ “ میں گھبرا سا گیا تھا کہ ڈرائیوروں کے بعد اب بابو بھی لذتیت کا شکار ہونے لگا ہے کیا؟ ہوٹل کا مالک بھی تو رات کو مجھ سے پنڈلیاں دبواتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ ”اور اوپر، اور اوپر“ کہتا ہوا میرے ننھے ننھے ہاتھوں کو اپنی ہاتھی کی رانوں ایسی رانوں کے بالکل آخری سرے تک پہنچا لیتا ہے۔

اس کے بدن میں ایک عجیب تشنج سا پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے بڑے بڑے ہاتھ میرے بدن کے نہ جانے کون کون سے حصوں کو سہلانے کے لیے متحرک رہتے ہیں۔ میں اگر پہلو بچانے کی خاطر ادھر ادھر ہوتا ہوں تو بالکل الوؤں کی سی بھاری آواز میں کہتا ہے، ”ابے نچلا کے کیوں نہیں بیٹھتا، چیونٹیاں کاٹ رہی ہیں کیا؟ “ واقعی میرے جسم میں سینکڑوں زہر بھری سوئیاں کچوکے دے رہی ہوتی ہیں اور میرا دل پھوٹ پھوٹ کے رونے کو کر رہا ہوتا ہے کہ ہوٹل کے کونے میں برتن مانجھتا ہوا رسول بخش اپنی نفیری کی سی آواز میں منمناتا ہے، ”استاد! ابھی چھوٹا ہے۔ ایک نہ ایک دن نچلا کے بیٹھ ہی جائے گا۔ ان ہوٹلوں کی تو ریت ہی یہی ہے۔“

استاد نہایت ڈھٹائی سے ہنستے ہوئے کہتا ہے، ”بھاگ جا بے، کیا یاد کرے گا۔“ میری حالت کڑکی میں پھنستے پھنستے بچے ہوئے چو ہے کی سی ہوتی ہے اور میں دم دبا کر کھانسی سے کھنکھناتے ہوئے جھونپڑے میں پہنچ جاتا ہوں۔ باپ کا سر دباتا پوں۔ ذہن کی گرمی سے آنکھوں کا پارہ چڑھتا ہے اور کونوں کے راستے بہہ نکلتا ہے۔

مگر رات تو میری حالت چو ہے دان سے نکلے ہوئے بالکل ایسے چو ہے کی سی تھی جسے کسی شریر لڑکے نے چو ہے دان سے نکلتے ہی پتھر دے مارا ہو۔ استاد کا کہا پتھر ہی تو تھا، ”ابے رسولے، لونڈا پیندے کا کچا ضرور ہے مگر ہاتھ کا تو پکا ہی ہے۔ ہاتھ تو اچھا مار لے گا۔“ بابو نے گال پر چپت مار کے کوئی اس سے بری بات تو نہیں کی تھی اور اس کا لہجہ بھی بے حد مشفقانہ تھا۔ میں نے اسے اپنی رام کہانی سناتے ہوئے کہا کہ کئی آدمیوں نے مجھے پڑھانے کا کہا لیکن درپردہ سب کے اپنے مفاد ہوتے ہیں۔

کوئی نظر بچا کر بستر گرم کرنا چاہتا ہے تو کسی کے گھر ملازم کی ضرورت ہوتی ہے۔ بابو مجھ پر مہربان ہو گیا تھا اور خوشخبری سنائی تھی کہ میں چند روز بعد آ کر تمہیں اپنے گھر لے جاوؑں گا۔ وہاں تم گھر کے فرد کی طرح رہنا۔ میری ماں بہت نیک عورت ہے، وہ تجھے اپنے بیٹوں کی طرح رکھے گی۔ لیکن اس نے نہ آنا تھا اور نہ آیا۔ ہو سکتا ہے اس کی ماں نے میرے متعلق کہا ہو کہ کیا پتا کوئی چور اچکا ہو یا نہ معلوم کیسے خاندان کا ہو؟

یہ نیک بوڑھیاں شکی مزاج بھی تو بہت ہوتی ہیں۔ لیکن تم سب کو کون بتائے کہ ہمارے خود ساختہ خاندان، کردار کے آئینہ دار نہیں ہوتے بلکہ کردار تو معاشی حالات اور سماجی ماحول کا پروردہ ہوتا ہے۔ اگر غریبوں کو بھی اسی تہذیب و تعلیم یافتہ سوسائٹی میں اٹھنے بیٹھنے کا موقع ملے تو ان میں سے بھی بہترین لوگ پیدا ہو سکتے ہیں۔

مسئلہ میرا اپنا ہے کہ کیا میں ایک نہ ایک دن نچلا ہو کے ضرور بیٹھ جاوؑں گا کہ یہاں کی ریت یہی ہے؟ کیا میں ٹرک ڈرائیور بن جاوؑں گا کہ استاد لوگ مجھ میں ڈرائیوری کے جوہر کی نشاندہی کرتے ہیں؟ کیا میں اپنی تعلیم دوبارہ جاری کرکے اپنی ماں کے شوق کی تکمیل کر سکوں گا؟ یا کیا میں حالات سے مجبور ہو کر ماں کے شوق کی بجائے حاکم الحاکمین کے شوق کی تکمیل کی خاطر خود بخود ٹوٹ جاوؑں گا؟ لیکن ان سب سوالوں کے جواب آپ کے پاس کہاں ہوں گے۔

ان سوالوں کے جواب تو آنے والا وقت، مستقبل کے معاشی حالات اور سماجی ماحول ہی دے پائیں گے۔ مگر میں آپ کے ذہن میں اٹھتے ہوئے سوال کا جواب دیتا چلوں کہ میرا نفسیاتی تعلق ”پہلے باٹا پھر اسکول“ سے آپ کی سوچ کے مطابق پہلے حصے سے نہیں بلکہ دوسرے حصے سے ہے۔ اسکول کا نام سنتے ہی مجھے اپنی مرحومہ ماں، قریب المرگ باپ، کھنکارتے ہوئے لوگ اور وعدہ کرنے والا بابو، سب یاد آ جاتے ہیں۔ مجھے تو دس روپے فیس بروقت نہیں مل سکی تھی، باٹا کے جوتے کیا خاک پہن سکوں گا اور پھر سکول جانے کے لیے ریڈیو کے اشتہار کے مطابق، باٹا اولین شرط ہے۔ واہ رے مولا ”نہ ہی باٹا نہ اسکول۔“

(زندگی میں لکھا پہلا اور غالباً آخری افسانہ جو 1972 میں بائیں بازو کے ہفت روزہ الفتح میں شائع ہوا تھا اور جسے جولائی 1975 میں رسالہ تصویر میں حسن نثار نے پھر سے چھاپا تھا۔)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •