وہ ”تبدیلی سرکار“ کے سر پھرے خدائی محافظ، کیا ہوئے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیاسی کرتا دھرتاؤں کی بے بسی و مصلحت پسندی سے اداروں کو من مانی کا جو چسکا لگ چکا۔ اب اس کا خمیازہ بہر طور عوام کو ہی بھگتنا ہے۔ وگرنہ جس کا سینگ جدھر سمائے وہاں جا بسے۔ مملکت خداداد میں زندگی جینے کا ہنر اب عام عوام کے بس کا نہیں۔ جس ریاست کے ادارے حاکم کے تابع نہ ہوں۔ وہاں انصاف، قانون، اخلاق، عوامی حقوق، ناپید ہو جاتے ہیں۔ وہاں پھر دہشت راج کرتی ہے۔ اداروں میں رائج نا انصافی، ہٹ دھرمی، رشوت خوری، ظلم و جبر، اقربا پروری اور طاقت کا راج ہے۔

آج بدقسمتی سے ملک میں کوئی ایک ادارہ بھی ایسا نہیں بچا کہ جس ادارے پر ریاست کے عوام کا اعتبار باقی رہ گیا ہو۔ ملکی ادارے حقوق کی فراہمی میں مکمل ناکام ہو چکے۔ بلکہ ”پٹھ بہہ گیا“ مطلب بیڑہ غرق ہوچکا ہے۔ وفاقی، صوبائی اور مقامی ادارے نا اہلی میں اپنا ہاتھ بٹا رہے ہیں اور یقیناً اس کا معاوضہ سمیٹنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہی چھوڑتے ہوں گے۔

تحریک انصاف کے بطن سے اٹھا ”تبدیلی“ کا نعرہ دیوانے کا خواب ثابت ہوا۔ کچھ ذی فہم دوست جو خان کے خیالات سے ریت کا گھروندہ اپنے من میں بنا چکے تھے اور فرماتے تھے کہ تیز ہوا کے تھپیڑے ضرور جھیل لے گا۔ لبوں پر مہر ثبت کر چکے۔ کہیں جو چنگاری اگر باقی ہے۔ تو دیکھئے کیا شعلہ بپا کرتی ہے؟ یا خدا جانے آشیاں کے در پہ ہے۔

خان کا حمایتی ذی شعور طبقہ تو تحریک انصاف کے سیاسی چلن کے باعث قبل از الیکشن تائب ہوچکا تھا۔ سیاسی معرکے میں تحریک انصاف کے چنیدہ معرکہ آراؤں سے امید کی کرن باندھنا سیاسی بصیرت کا قتل ہوتا۔ وہ تو حکومتی اقدامات سے بد سے بدتر حالات کے لئے تیار ہیں۔

خوابوں کے آشیاں بنتا نوجوان طبقہ جو سیاست میں پیش پیش رہا۔ اب موجودہ حالات سے نالاں دکھائی دیتا ہے۔ مہنگائی، نا انصافی، بے روز گاری اور امن و عامہ سے تنگ باآواز بلند حکومت پر تنقید کرتا نظر آتا ہے۔

حکومتی کارکنان کا ایک طبقہ خاموشی اختیار کیے حکومت کی جانب سے کسی مثبت پیش رفت کا منتظر ہے۔ حکومت سے کب کوئی اچھا کام سرزد ہو تو حکومت کی اچھائی کا ڈھول پیٹے۔ فی الحال اس طبقے کے پاس احتساب کے نام پر گرفتار افراد کا واویلا مچانے کے اور کہنے کو کچھ نہیں بچا۔

باقی وہ کارکن جس نے بطور عقیدت خود کو تحریک انصاف کے لئے وقف کررکھا ہے۔ اور وہ جن کا مفاد وابستہ ہے۔ عقیدت میں اندھے کارکنان کا حال بے چارے ساون کے اندھے جیسا ہے جسے ہر سو سبزہ ہی سبزہ دکھائی دیتا ہے۔ مفاد پرست ٹولے کی سیاست اپنے مفاد تک محدود رہتی ہے۔ ناصر کاظمی کے چند اشعار تحریک سے محبت رکھنے والوں کی نذر۔

وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں

جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے

میں اُن کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر

وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے

یہ کون لوگ ہیں مرے ادھر اُدھر

وہ دوستی نبھانے والے کیاہوئے

گزشتہ مضمون پورٹل پر درج شکایات سے متعلقہ لکھا جس میں شکایات کا طویل دورانیے تک حل نہ ہونے پر حرف شکائیت بلند کیا تھا۔ ارباب اختیار کی طرف سے فوری پیش رفت دیکھنے میں آئی اور بہت سی شکایات بیک جنبش قلم حل ہوچکیں کے القاب سے نواز دی گئیں۔ ان میں سے ایک کا حال بیاں کچھ یوں ہے

ایک درخواست جو عوامی گزر گاہوں ( دو گلیوں ) پر قبضہ کرکے کئی منزلہ پختہ عمارت تعمیر کی گئی تھی۔ اس پر محکمہ کا جواب موصول ہوچکا جس کا لب لباب کچھ یوں ہے۔ کہ ”مذکورہ جگہ فیکٹری ایریا ہے رہائشی نہ ہے۔ اور آویزاں گیٹ صبح پانچ بجے سے رات گیارہ بجے تک کھلے رہتے ہیں۔ “ رپورٹ لف ہے۔

ہم معاملہ حل ہونے پر مارے خوشی کے متعلقہ جگہ گئے۔ تو لمحہ بھر کو لگا۔ کہ راستہ بھول چکے۔ تو دوبارہ دوسرے راستے سے مذکورہ جگہ پہنچے۔ ہمیں پھر بھی وہاں لگے گیٹ دکھائی نہ دیے۔ تو اپنی بینائی بارے شبہ ہوا۔ تو قریب جاکر ٹٹولنے کا ارادہ کیا مگر سوائے ناکامی کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ آخر اپنے حواس خمسہ بارے شبہ پیدا ہوا سوچا کسی سے اس بارے پوچھ کر اپنی جگ ہنسائی نہ کروانے کا فیصلہ کیا کہ ہوسکتا ہے کہ ہمیں بادشاہ کا لباس دکھائی نہ دینے پر احمق نہ گردانا جائے۔ تو چار و ناچار موبائل سے مذکورہ جگہ کی تصاویر بنائیں۔ اب ان تصاویر میں جس صاحب کو کھلے ہوِے گیٹ دکھائی نہ دیں تو وہ خود کو احمق جان لے۔ تصاویر ملاحظہ کرلیں۔ انتظامیہ تو مسئلہ حل کر چکی ہم ہی دیدہ ور نہ تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •