نعیم احمد ناز کو اب کوئی خط نہیں لکھتا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ڈاک“، ”ڈاکیا“، ”ڈاک خانہ“ اور ”خط“ کے ساتھ سرود رفتہ کی کتنی ہی خوش رنگ یادیں وابستہ ہیں۔ جن کے بارے میں سوچتے ہوئے نوسٹیلجیا دل و دماغ میں ہمکنے لگتا ہے۔ خط کی لذت وہی جان سکتے ہیں جنہوں نے خطوط لکھے اور وصول کیے ہوں۔ یہ ان روشن زمانوں کا ذکر ہے جب ابا جان اوچ شریف سے باقاعدگی کے ساتھ گاؤں میں امی اور ہم بہن بھائیوں کو خطوط لکھتے، عید کارڈ اور اخبارات و رسائل بھیجتے۔ ان کے خطوط کے انتظار میں ہم ہرروز گاؤں کے داخلی راستے پر کھڑے ہو کر اس بوڑھے ڈاکیے کا انتظار کرتے جو پچیس کلو میٹر دور سیت پور کے ڈاک خانہ سے ہماری ڈاک لے کر سرکی آتا۔

رسول بخش پوسٹ مین ہمارے خوبصورت گاؤں کا ایک بیبا کردار تھا۔ جس کی مرنجان مرنج شخصیت کو ہمارے گاؤں میں افسانوی اہمیت حاصل تھی۔ جب وہ خطوط سے بھرا اپنا تھیلا سنبھالے، بوسیدہ سائیکل پر سوار گاؤں کی کچی سڑکوں اور پگڈنڈیوں سے گزرتا تو ہر کسی کی نظروں کا مرکز ہوتا۔ گویا کہ لوگ اس کے منتظر ہوں۔ بلکہ ہم جیسے بہت سے تو چچا ڈاکیا کی آواز دے کر متوجہ کرتے تا کہ اگر ان کا کوئی خط یا منی آرڈر وغیرہ اس کے پاس ہے تو وہ انہیں دے جائے۔ ایسے میں وہ بوڑھا ڈاکیا مسکرا کر اور اشارے سے خط نہ ہونے کے بارے میں بتاتا ہوا گزر جاتا تھا اور اگر خط یا منی آرڈر موجود ہوتا تو فوراً رک کر ان کے حوالے کرتا تھا۔

پوسٹ مین رسول بخش کی شکل میں عہد گم گشتہ کا یہ اساطیری کردار خطوط، منی آرڈرز، امتحانی نتائج، عید کارڈز، شادی کارڈز، محبت نامے اور قیامت نامے تقسیم کرتا اور سات سمندر پار احباب کے حالات سے آگاہی کا سبب بنتا۔ اس کی طلسمی زنبیل میں چٹھیوں کی شکل میں گاؤں والوں کے لئے مسکراہٹیں اور آہ و زاریاں ہوا کرتی تھیں۔ گزرتا وقت بہت سی چیزوں کو بدل دیتا ہے۔ کئی چیزوں کی اہمیت کم ہو جاتی ہے یا ان کی جگہ نئی چیزیں لے لیتی ہیں اور ان سے منسلک افسانوی پہلو وقت کی دھول میں کھو جاتا ہے۔ سو ہمارے گاؤں کا یہ پوسٹ مین بھی سمے کی دھول میں گم ہو گیا۔

ماضی میں ڈاکیا ہمارے معاشرے میں کتنا اہم اور پسند کیا جانے والا کردار تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1990 ء کی دہائی کے آخری چند برسوں میں ہماری تیسری جماعت کی اردو کی نصابی کتاب میں ”دیکھو ڈاکیا آیا ہے“ ایک نظم ہوتی تھی، جسے ہم بچے بالے سکول میں لہک لہک کر پڑھتے۔

دیکھو ڈاکیا آیا ہے
ساتھ اپنے خط لایا ہے

گرمی ہے یا سردی ہے
اس کی ایک ہی وردی ہے

سر پر خاکی پگڑی ہے
ناک پہ عینک رکھی ہے

کندھے پر اک تھیلا ہے
اس میں وہ خط رکھتا ہے

دھوپ میں چل کے آیا ہے
گرمی سے گھبرایا ہے

پھر بھی گھر گھر جاتا ہے
سب کے خط پہنچاتا ہے

آؤ بھائی خوب آئے
لاؤ ہمیں دو کیا لائے

آہا ابا کی چٹھی آئی
آہا ابا کی چٹھی آئی

یہ تلخ حقیقت لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ موجودہ بے چہرہ و بے ہنگم ترقی کی تیز رفتاری کے باعث اب خط کی تہذیبی و ثقافتی روایت تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہو کر رہ گئی ہے۔ جبکہ لیٹر بکس عہد رفتہ کی بھول بھلیوں میں گم، ڈاکخانے ویران، جدیدیت کی ”ماری“ اور سوشل میڈیا کو ”پیاری“ نئی نسل خطوط نویسی سے وابستہ سرشاریوں، بے قراریوں اور وارفتگیوں سے ناآشنا اور 150 سالہ ”بوڑھے“ محکمہ ڈاک نے ”نومولود“ انٹرنیٹ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔

سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ ہماری ”ہردلعزیز“ تبدیلی سرکار نے ڈاک کی قیمتوں میں ہوش ربا ”تبدیلی“ کرتے ہوئے مکتوب نگاری کے بچے کھچے رومان میں بھی کھنڈت ڈال دی۔ سواب مضمون نگار نعیم احمد ناز کو کوئی خط نہیں لکھتا۔ ہمارے گاؤں کے ڈاکیے چچا رسول بخش کو کہولت نے آلیا مگر پوسٹ مین کا کردار اب بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہے اور نامساعد حالات اور بے شناس زمانے کی بے قدری کے باوجود اپنا کردار بخوبی سرانجام دے رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •