رابعہ کے جہیز کا زیور اور تیزاب کا پیالہ
تیزاب گردی کا شکار ہونے والی رابعہ اپنا بیان ریکارڈ کروا کر اس دنیا سے جاچکی تھی اس کا کہنا تھا کہ اس کے سسرال والوں نے اس سے اس کے جہیز کا زیور مانگا تھا جب اس نے دینے سے انکار کیا تو پہلے زدوکوب کر کے اس سے زیو ر لیا اور اس کے بعد اس پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔
اس بیان کو دینے کے بعد رابعہ تو اس دنیا سے کوچ کرچکی تھی مگر اس خبر کو پڑھ کرپڑھنے والوں کا یہیں تبصرہ تھاکیا تھا جو زیور دے دیتی کم از کم آج زندہ تو ہوتی یعنی کوئی یہ نہیں کہتا زیور اس کا تھا سسرال والوں کو مانگنا ہی نہیں چاہیے تھا اور اگر مانگا تھاتو انکار پر درد ناک موت کی سزا دینے کا حق آپ کو کس نے دیا تھا؟
یہ ہمارا وہ معاشرتی رویہ ہے جس کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتا اگر کوئی لڑکی اپنے کسی سسرالی رویہ کی شکایت کرتی ہے تو اس کو کہا جاتا ہے برداشت کرلو براداشت سب لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے کوئی یہ نہیں کہتانہیں بھئی یہ رویہ تو درست نہیں اس کے خلاف تو آواز اٹھانی چاہیے بلکہ الٹا سب یہیں کہتے ہیں چند سال کی تو بات ہے پھر تم عیش کروگی عیش یہ باتیں کہنے والوں میں پڑھے لکھے، جاہل ہر قسم کے افراد شامل ہوتے ہیں۔
جب تک اس معاشرے میں سسرالی رویوں کو غلط نہیں کہا جائے گا ان کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف یکجا ہو کر تحریک نہیں چلائی جائے گی، معاشرہ میں بیداری نہیں پیدا کی جائے گی جب تک کوئی رابعہ تیزاب گردی کا شکار ہوگی، کوئی شگفتہ شدید ڈپریشن کے باعث خود کشی کرلے گی اور کوئی معصومہ اس خوف کے ذیر تلے کہ اس سے اس کے بچے چھن جائے گے اور وہ گھر چھوڑ کر نہیں جاسکتی خود کو نشہ آور ادویات کا عادی بنالے گی کیونکہ انھیں سے اس کی سوچوں کا مفقود ہونا ممکن ہوسکے گا۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں تیزاب گردی، ڈپریشن اور دل دہلادینے والے واقعات کا خاتمہ ممکن ہو تو برائے مہربانی منفی سسرالی رویوں کا ساتھ یہ کہہ کر نہ دے کہ ایسا ہوتا ہے چند سالوں کی بات ہے بلکہ یہ کہے ہاں یہ غلط ہے ہم اس کے خلاف جنگ میں تمھارے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ آج ہم تمھارا ساتھ دیں گے تو کل کو ہماری بہن، بیٹیاں بچ سکے گی اور ان کو بچانا ہی ہماری اولین ترجیح ہے۔


