کہیں آپ بھی نناوے کے چکر میں تو نہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک بادشاہ کے ہزاروں غلام، مشیر اور وزیر تھے لیکن ان میں سے ایک غلام ایسا تھا جو ہمیشہ خوش رہتا تھا چاہے حالات جیسے بھی ہوں قحط سالی ہوجائے خوش، اناج بڑھ جائے خوش، تنخواہ بڑھ جائے خوش، اور اگر کم بھی ہوجائے تو پھر بھی وہ غلام خوش۔ سردی ہو، گرمی ہو، طوفان ہو بارش ہو یا پھر تیز آندھی وہ ہر صورت میں ہمیشہ وقت پر دربار پہنچتا۔ لیکن بادشاہ کو اس کی ہر وقت کی خوشی سے جیلسی ہوتی تھی۔ وہ سوچتا کہ بادشاہ میں ہوں، سب کچھ میرے پاس ہے لیکن ہروقت خوش یہ رہتا ہے۔

بادشاہ کی اس کیفیت کو ایک وزیر نے بھانپ لیا حاضر ہوا اور فرمانے لگا حضور کئی روز سے دیکھ رہا ہوں عالی شان پریشانی کے عالم میں ہیں، بتائے کیا بات ہے؟ بادشاہ نے اپنے اس وزیر کو سارا قصہ سنایا تو وزیر نے پوچھا جناب والا اب یہ بتائے کہ کرنا کیا ہے؟ بادشاہ نے وزیر سے کہا میں اس شخص کو پریشان دیکھنا چاہتا ہوں۔ وزیر بولے قبلہ آپ بے فکر ہو جاؤ یہ تو معمولی سی بات ہے بس آپ بہت جلد دیکھ لیں گے کے یہ کیسے پریشان ہوتا ہے، بادشاہ نے کہا جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں اگر نہ کرپائے تو پھر میں آپ کی گردن کٹوا دوں گا۔

وزیر بولا بادشاہ سلامت صرف میری نہیں بلکہ میرے پورے خاندان کی گردنیں اڑا دینا!

شام ہوتے ہی وزیر نے ایک تھیلی لی اس پر ہندسوں میں ایک سو ( 100 ) لکھ دیا اور پھر اس میں ننانے ( 99 ) سونے کے سکے ڈال دیے۔ شام ہوتے ہی بادشاہ کو ساتھ لیا، اس غلام کے دروازے کو کٹھکھٹایا اور تھیلی کی گانٹھ ڈھیلی کرکے دہلیز پر رکھ دی اور خود چھپ گئے۔

غلام باہر نکلا ادھر ادھر دیکھا کچھ نظر نہ آیا ماسوائے اس تھیلی کے اس نے تھیلی اٹھائی اور اندر چلا گیا، ادھر بادشاہ نے وزیر سے سرگوشی کی کے وہ تو تھیلی لے کر چلا گیا آپ نے جو کہا تھا ویسا تو نہیں ہوا، وزیر بولے عالی شان! آپ صبر کیجیئے! کچھ دیر گزری تو وہ غلام لالٹین لے کر باہر نکلا اور کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کررہا تھا۔ کافی دیر تک اپنے دروازے کے سامنے گلی کا سارا حصہ چھان مارا اور پھر دوبارہ واپس اندر چلا گیا۔

ادھر بادشاہ اور وزیر یہ سارا منظر دیکھ رہے ہیں کہ غلام اپنے پورے خاندان سمیت دوبارہ باہر نکلا اور سب لوگ مل کر کوئی چیز تلاش کرنے لگ گئے بہت دیر تک یہ عمل جاری رہا مکمل گلی کو چھاننے کے بعد دوبارہ اپنے گھر میں داخل ہوگئے۔ وزیر نے بادشاہ سے کہا اب چلیں باقی کا تماشا کل دیکھنا بادشاہ غصے میں وزیر سے کہنے لگا دوبارہ سن لو اگر کل یہ غلام مجھے پریشان نظر نہ آیا تو میں آپ کی گردن اڑا دوں گا۔ وزیر مسکرایا اور بادشاہ کو ساتھ لے کر محل پہنچ گیا۔

بادشاہ دوسرے روز علل صبح اپنی کچہری پہنچ گئے نظر گھمائی سارے غلاموں کو حاضر پایا ماسوائے اس غلام کے جسے وہ پریشان دیکھنا چاہتے تھے کافی دیر بعد دیکھتے ہیں کہ وہ غلام دربار میں مقررہ وقت سے کافی دیر بعد حاضر ہوتا ہے۔ بادشاہ نے کیا دیکھا کے غلام کا منہ لٹکا ہوا ہے، بال بکھرے ہوئے جبکہ آنکھیں سرخ ہیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ واقعی آج پہلی دفعہ یہ غلام بہت زیادہ پریشان ہے لیکن بادشاہ خاموش رہا اور معمول کے مطابق سب غلاموں کے ذمے کام کاج لگا دیے جبکہ اس غلام کو اپنے ساتھ رکھ لیا۔

بادشاہ اسے چائے لانے کو کہتا تو وہ پانی لے آتا، کھانے کا کہتا تو کچھ اور لے آتا۔ لانے کچھ اور جاتا مگر لے کچھ اور آتا آخرکار بادشاہ نے غلام کو بلایا اور کہا کہ آج پہلی بار آپ بہت زیادہ پریشانی کے عالم میں نظر آرہے ہیں۔ بتائے کیا وجہ ہے؟ غلام نے جھجکتے ہوئے بتایا حضور! پچھلی شام کسی نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا باہر نکلا تو ایک تھیلی ملی اسے کھولا تو اس میں نناوے سونے کے سکے تھے جبکہ اس کے اوپر ایک سو لکھا ہوا تھا۔

میرا خیال ہے کہ جب یہ تھیلی میری دہلیز پر رکھی جارہی تھی تو اس کی گانٹھ ڈھیلی ہونے کی وجہ سے اس میں سے ایک سکہ گرگیا ہوگا؟ یہی وجہ تھی کہ رات بھر ہم اس سکے کو دروازے کے آس پاس گلی میں ڈھونڈتے رہے اور پوری رات مجھے نیند تک نہیں آئی۔ لہذا اب میں شدید کوفت میں ہوں کہ وہ سکہ آخر کہاں ہوگا؟ بادشاہ نے زوردار قہقہہ لگایا اور کہا وہ تھیلی میں نے رکھوائی تھی اور یہ سارا کھیل ساتھ کھڑے وزیر کا کمال تھا۔

قارئین! کہیں آپ بھی نناوے کے چکر میں تو نہیں؟ کیونکہ ہمارا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے بس صرف کسی ایک چیز کی تلاش میں ہم اللہ تعالی کی باقی لاتعداد نعمتوں کو بھول جاتے ہیں اور جس چیز کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا ہم اس کے حصول کے لئے اپنا سارا سکون برباد کردیتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہمارے پاس موٹر سائکل آگیا ہے تو ہم چاہتے ہیں کے اب گاڑی آجائے ناکہ اس پر شکر ادا کرتے ہیں جو مل گیا۔ اور ہم یہ نہیں سوچتے کہ معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس موٹر سائکل تو کیا سائکل بھی نہیں۔ لہذا یہ کہانی بتانے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم نناوے کے چکر سے بچیں تاکہ رب کی باقی عطاء کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک رمضان اسراء

ملک رمضان اسراء مصنف معروف صحافی و قلم کار ہیں۔ انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز سے وابسطہ ہیں جبکہ دنیا نیوز، ایکسپریس، ہم سب سمیت مخلتف قومی اخبارات کےلیے کالم/بلاگ لکھتے ہیں اور ہمہ وقت جمہوریت کی بقاء اور آزادئ صحافت کےلیے سرگرم رہتے ہیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی اے ماس کیمونی کیشن کررہے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر اور فیس بُک آئی ڈی اور ای میل ایڈریس پر رابطہ کیا جاسکتاہے۔ [email protected]

malik-ramzan-isra has 12 posts and counting.See all posts by malik-ramzan-isra