متنوع رنگوں کا سیلانی۔ باونی کا بانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

باونی تاریخ، روایت، لوک کہانیوں، ذاتی کیفیات و واردات، بیابانوں، ساحلوں، جنگلوں، باغوں، دشت وصحراؤں کے احوال اور سفر کی روئیداد کا خوبصورت مرقع ہے جسے سفر سے والہانہ عشق کرنے والے ہر مسافر کے پاس ہر حال میں ہونا چاہیے۔ عرفان شہود مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے سفرانچہ جیسی ایک نئی اور اچھوتی اصطلاح متعارف کروا کر سفرناموں کی روداد کو مختصر ترین صورت میں بیان کرنے کی رِیت ڈالی۔

باونی میں انہوں نے کل باون سفرانچے اور پانچ منظوم سفرانچے چھاپے۔ ہر سفرانچہ اپنے موضوع اور اس کے محل وقوع کے اعتبار سے لامحدود وسعت کا حامل ہے۔ اس میں نہ صرف سفر کی روئیداد ہے بلکہ اس مقام یا جگہ کے حوالے سے بیش بہا معلومات، تاریخ و واقعات، ذاتی کارگزاری اور پھر خاص کر مصنف کا شاعرانہ عکس خوبصورت منظر نگاری کی صورت میں نظر آتا ہے۔

مختلف سفرانچوں کا مطالعہ کرنے سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ عرفان شہود ایک ایسا سیلانی ہے جسے فطرت کے ہر روپ سے والہانہ پیار ہے، اسے خدا سے بھی پیار ہے، اسے بھگوان سے بھی پیار ہے، اسے رب سے بھی پیار ہے، اسے اللہ سے بھی پیار ہے، الغرض اسے ہر مذہب کے ہر فرد اور ہر رنگ سے پیار ہے۔ کبھی یہ مندروں کی خاک چھانتے ہے تو کبھی خانقاہوں کی، کبھی گرجاگھروں میں جاتا ہے تو کبھی گرودواروں میں۔ اس کی یہی عادت اس کی تحریروں کو لازوال اور دل پسند بنا دیتی ہے کہ جہاں جاتا ہے اس کے رنگ میں رنگا جاتا ہے اور وہاں کی یادیں اس کی ذات پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔ وہاں محبتیں بانٹتا ہے اور وصول کرتا ہے۔

جب دشت، بیابانوں، صحراؤں اور ساحلوں کی منظر نگاری پڑھی تو جَھلا کر رہ گیا۔ میں نے دورانِ مطالعہ ہی کال ملائی، فون اٹھاتے ہی سوال داغا کہ میاں ایسی منظر نگاری کہ جس میں لازوال اور بے مثال استعاروں کے موتی جڑے ہیں، کہاں سے سیکھی؟ جواب ملا کہ میاں! میں شاعر بھی تو ہوں، جس علاقے کی سیر کی وہاں کی لوک کہانیاں اور مقامی ادب بھی پڑھا جس سے مزید تاثیر بڑھی۔ بلوچستان کے ساحلوں پر ایسے دلنشیں سفرانچے لکھے کہ بندہ اسی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے۔

کوسٹل ہائی وے، پسنی اور مبارک ویلج کے حالات و واقعات، منظرنامے، لوگوں کے رویے، بودوباش اور ساتھ ساتھ تاریخ کا تڑکہ قاری کو مسحور کر دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے گویا کوہِ قاف کے قصے ہوں یا ہزاروں سال پہلے کی داستانیں۔ صحراؤں کی اجڑن پہ لکھا تو سارے سارے سفرانچے میں خوار کر کے مارا۔ یہاں تک کہ بیٹھے بیٹھے گرمی کی حدت اور پیاس محسوس ہونے لگی۔ روہی کے افسانے اور وہاں کال کوٹھڑی میں قید بامشقت کے ساتھ گزرنے والی زندگی کے غمزے اور ٹسوے روح کو چھلنی کر دیتے ہیں۔

کہیں اس نے تاریخ کے دھندلکوں سے وہ سنہری باب نکالے ہیں کہ جاتے وقتوں میں وہ رشکِ شاہانِ زماں ہوتے تھے۔ کہیں ان قلعوں اور حویلیوں کے تذکرے ہیں جو تاریخ کے رُخ موڑ فیصلوں کی آماجگاہ ہوا کرتی تھیں۔ کہیں ان قدرتی ٹیلوں اور ٹبوں کا ذکر ہے جہاں سے فطرت بالمشافہ ہمکلام ہوتی ہے۔ فسوں نگر کے باب میں شمالی علاقہ جات کی وادیوں، پہاڑیوں، جھیلوں اور آبشاروں سے وہ پریاں اتاری ہیں کہ ایک لمحے کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عرفان شہود سیلانی نہیں جادوگر ہے جو اپنے لفظوں پہ طلسم پھونک کے انہیں امر کر دینے کا ہنر جانتا ہے۔

مطالعے کی اتنی وسعت، تاریخ پہ اتنی گرفت، مشاہدے میں اتنی پختگی اس سے پہلے کسی سفرنامہ نگار میں شاد شاد ہی نظر آتی ہے۔ ہاں البتہ شدید مشکل الفاظ و اصطلاحات کے زیادہ استعمال پر بعض دفعہ سیخ پا بھی ہوا کہ ربط ٹوٹتا ہے، مصنف کو چاہیے کہ آئندہ یا تو ساتھ لغت کا استعمال کرے یا پھر قدرے سہل پسندی سے کام لے تا کہ ہرکس و ناکس کی فہم میں آ سکے۔

جا بجا بھکشوؤں، سادھوؤں، مندروں، گرودواروں، گرجا گھروں، ساحلوں، صحراؤں، پانیوں، جنگلوں، باغوں، دریاؤں، وادیوں، پھلوں، لوگوں، قلعوں، حویلیوں، رویوں، دوستوں، قدیم گزرگاہوں، درسگاہوں کے تذکرے ہیں۔ ایک ہی کتاب میں پورے پاکستان کے منظر کو سمو کے رکھ دیا ہے۔ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ خود بھی جب کبھی کسی سفر پہ نکلوں گا تو ”باونی“ اپنے ساتھ رکھوں گا۔ یوں مجھے کسی بھی علاقے کی بابت مختصر تاریخ اور حالات و واقعات کا بخوبی اندازہ ہو جایا کرے گا۔ عرفان شہود نے جس قدر خوبصورتی اور آسانی کے ساتھ پاکستان کے تمام رنگ ایک کتاب کی صورت میں سمونے کی کوشش کی ہے اور پھر سفرانچے جیسی جدید اصطلاح کو کامیابی سے متعارف کروا لیا ہے، یقیناً ان کی بہت بڑی کامیابی ہے اور میں انہیں اس کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

منظوم سفرانچے کی صورت میں انہوں نے بہت کامیاب تجربے کیے ہیں۔ منتشر مضافات کے رنگ اور شاہراہِ ہمالیہ میں پائے جانے والے ترنم، منظر کشی اور حقیقت نگاری کا جواب نہیں۔ دعا گو ہوں کہ اسی طرح مزید شاہکار منظوم سفرانچے بھی بہت جلد پڑھنے کو ملیں۔ دیکھیے اس منظوم سفرانچے کو اور خوب سر دُھنیے، یہ ہے شاہراہِ ہمالیہ:

مانگ بھری ہے کالے ریشم کی اس کوہ نے ماتھے پر

بے فکری سے بڑھتے جائیں روشن آنکھوں والے لوگ

قوس کھینچی ہے منظر کی اور گھائل ہو کر گرتے ہیں

من دوزخ کی آگ بجھانے آئے ہیں اس پار سے لوگ

پنکھڑیوں کی نیلی چادر

ٹہنی کا رس بھرتا پھول

ماکھی ان پھولوں کی جڑ سے شہد چرائے

ادھڑی گھاس پہ ننگے پاوں شبنم کی سوغات ملے تو

پربت کے دامن سے بہتے جھرنوں کی پائیلیا بولے

شیشم کے کاکل لہرائیں

ایک گلہری پنجوں کے بل چلتی جائے

پیڑوں پہ طوطی کا نغمہ کھلتا جائے

سندھو ماہی جھومے گائے

جنگل کے پیڑوں کی شاخیں راگ الاپیں

سازندوں کا روپ جو دھاریں زنگہ باجے

ہر سو یہ پر جوش ہوائیں نغمے گائیں

سورج چٹے بام سے اترے

وادی میں بے کیف اداسی ڈل ڈل جائے

شام کے پھیکے ہونٹ پہ سرنا بجتا جائے

بلتت کے دالان میں پیتے ہیں ہم چائے

پربت کی نوکیلی ٹکڑی سونا کھائے

برفانی صبحوں میں گیت سنہری گائے

پریوں کے جھولوں کی رسی بادل خود ہی بنتا جائے

پھولوں کی رنگین مسہری گلگت کا میدان سجائے

دامن ہم مہمان دلوں کا سبزے سے وہ بھرتا جائے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •