دھوکہ دہی بند کر دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نجانے کیوں ہم یہ سادہ سی بات سمجھنے کو تیار نہیں ہو رہے کہ ملکوں کے باہمی تعلقات کبھی لیلی مجنوں والے نہیں ہوا کرتے۔ نہ ہی ریاستوں کا دوسری ریاستوں کے ساتھ بے غرض دوستی کا بندھن ہوتا ہے۔ گیارہ ستمبر کو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں یہ دعویٰ کیا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان نے پچاس سے زیادہ ممالک کی حمایت سے ایک مشترکہ بیان پیش کر دیا ہے۔ جس میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی بند کرے۔

شاہ محمود قریشی کے اس بیان کے بعد بھارت نے فوری طور پر یہ دعوی مسترد کر دیا اور کہا کہ پچاس سے زائد ممالک کی حمایت کا دعویٰ جھوٹ ہے۔ اس کے اگلے دن یعنی 12 ستمبر کو پھر وزیراعظم عمران خان نے بھی یہی دعویٰ دہرایا کہ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے بیان کو 58 ممالک کی حمایت حاصل ہے اور اس کے ساتھ ہی عمران خان نے پاکستان کی حمایت کرنے پر ان تمام ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا۔ بھارت نے عمران خان کے اس بیان کی بھی تردید کر دی تھی۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے پچھلے پچاس روز سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مذمت کی خاطر اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کے لیے 19 ستمبر پاکستان نے بھارت کے خلاف ایک قرارداد پیش کرنا تھی۔ یہ قرارداد پیش کرنے کے لیے پاکستان کو کونسل کے 47 میں سے صرف 16 رکن ممالک کی حمایت درکار تھی۔ جبکہ ہمارے وزیراعظم اور وزیر خارجہ صاحب اس سے کہیں زیادہ حمایت ملنے کا بتکرار اعلان کر چکے تھے۔

اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کے 47 ارکان میں اس وقت ہمارے آہنی دوست چین کے علاوہ سعودی عرب، قطر، بحرین، عراق، نائیجیریا، تیونس اور صومالیہ جیسے برادر اسلامی ممالک بھی شامل ہیں۔ اس کے باوجود کہ بی بی سی اور جرمن ریڈیو جیسے ادارے بھی مقبوضہ کشمیر میں رواں انسانیت سوز سلوک کی کہانیاں رپورٹ کر چکے ہیں اور خود ہیومن رائٹس کونسل اپنی حالیہ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے یہ قرارداد پیش نہ ہو سکی۔

دنیا بہت اچھی طرح یہ جانتی ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر پر بھارت کا تسلط غیر قانونی ہے۔ اس غیر قانونی تسلط کا جو نام نہاد جواز موجود تھا بھارتی سرکار نے پچھلے ماہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر کے وہ بھی کھو دیا ہے۔ اس آرٹیکل کی موجودگی کے باوجود بھی گزشتہ ستر سالوں سے بھارت کشمیری عوام کی نسل کشی کوششوں میں مصروف تھا لیکن کم از کم بھارتی شہریوں پر وادی میں زمین جائیداد کی خریداری کی قدغن ضرور تھی۔ خود 1949 کی جنیوا سفارشات کے مطابق کوئی بھی ریاست اپنے مقبوضہ علاقوں میں نہ تو رہائشی بستیاں قائم کر سکتی ہے اور نہ ہی اپنے باشندوں کو وہاں بسا سکتی ہے۔

مذکورہ آرڈیننس کے ذریعے غیر مقامی افراد کو وادی میں جائیداد خریدنے اور ملازمت حاصل کرنے کی اجازت دینا کشمیری عوام کی نسل کشی کا کھلم کھلا اعلان ہے۔ اس مذموم عمل پر کشمیری عوام کے ممکنہ رد عمل کو دبانے کے لیے پچاس روز گزرنے کے بعد بھی کرفیو نافذ ہے۔ جس کے باعث پورا مقبوضہ کشمیر جیل بنا ہوا ہے۔ حریت لیڈر شپ کے علاوہ بھی تمام قابل ذکر لوگ گرفتار ہیں۔ عوام گھروں میں محصور ہیں انہیں نماز جمعہ کی ادائیگی تک کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

آزادی کا حق مانگنے والوں کو شیلنگ، تشدد اور پیلٹ گنوں کے ذریعے معذور کیا جا رہا ہے۔ محاصرے کے باعث وادی میں خوراک و ادویات کی شدید قلت ہے اور لوگ سنگین بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ ٹیلی فون، موبائل، انٹرنیٹ، میڈیا اور مواصلات کے دیگر تمام ذرائع بند ہونے کی وجہ سے زلزلے کے بعد لوگ اپنے پیاروں کی خیریت نہ جان سکنے کی وجہ سے ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔

اس کے باوجود دنیا بھارت کی مذمت اور ہماری حمایت نہیں کرتی تو اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہے کہ آج کے دور میں تعلقات کی بنیاد مفادات پر استوار ہے۔ بھارت سوا ارب کی آبادی رکھنے والی مارکیٹ ہے۔ اس کی تجارتی منڈیوں کو کسی دوسرے ملک کی خاطر کھونا کوئی بھی افورڈ نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ بھارت کی اپنی معیشیت بہت اچھی نہیں تو کم از کم ہم سے کہیں بہتر ہے۔ بھارتی سربراہان کہیں جاتے ہیں تو وہاں سرمایا کاری یا باہمی تجارت کی بات کرتے ہیں۔

جبکہ ہماری ترجیحات ذاتی دوستیاں گانٹھنا اور ہر جگہ بھیک مانگنا ہے۔ اسی لیے دنیا بھارت کے ریاستی مفاد کا خیال کرتی ہے اور ہمیں جہازوں کے جھولے پر ٹرخا دیا جاتا ہے۔ دنیا ہماری مدد کرنے سے پہلے یہ بھی دیکھنا چاہتی ہے کہ ہم خود کیا کرتے ہیں۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ اس بندر کی طرح جسے مختصر مدت کے لیے جنگل کی بادشاہت ملی تھی۔ خالی خولی اچھل کود کے سوا ہم نے خود کشمیر کے مسئلے پر آج تک کیا ٹھوس قدم اٹھایا۔ سمجھ نہیں آتا ہمارا کیا اسٹینڈ ہے۔ بس یہی رٹ سنتے آئے ہیں۔ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ آزاد کشمیر پر حملہ ہوا منہ توڑ جواب دیں گے۔ لیکن آزاد کشمیر پر انڈیا اگر حملہ آور نہ ہوا تو پھر؟ کیا کشمیری یونہی مرتے رہیں گے؟

آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا شکوہ بجا تھا، جو ہم سے سنا نہیں گیا کہ سرینگر کی خواتین روز صبح دروازہ کھول کر پوچھتی ہیں، کیا پاکستان کی فوج آ گئی؟ ہم طے کر چکے ہیں کہ جنگ نہیں کرنی۔ لائن آف کنٹرول کے پار کسی کو جانے نہیں دینا، یہ تک کہہ چکے ہیں کہ جو گیا وہ غدار ہو گا تو پھر یہ اچھل کود کر کے کسے دھوکہ دے رہے ہیں؟ اپنے آپ کو یا کشمیریوں کو؟ یاد رکھیں کشمیر جب بھی آزاد ہوا اپنے زور بازو سے ہو گا۔ دوستوں کی مدد، ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش، سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی کارروائیوں کا نتیجہ کتنی بار دیکھ چکے۔ اب اگر خود کچھ نہیں کر سکتے تو دھوکہ دینا ہی بند کر لیں۔

پس تحریر۔ مملکت خداداد کی جملہ خرابیوں کی وجوہات میں سے ایک یہاں بڑے عہدوں پر چھوٹے لوگ موجود ہونا بھی ہے۔ بالائی پنجاب، خیبر پختونخواہ اور آزاد کشمیر میں ایک بار پھر زلزلے سے بڑے پیمانے پر شہادتیں اور نقصانات ہوئے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ زلزلہ، طوفان اور سیلاب قدرتی آفات ہیں اور کوئی ترقی یافتہ ملک بھی ان کے نقصانات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ یہ بھی کہ جن علاقوں میں ابھی زلزلہ آیا وہاں دو ہزار پانچ میں بھی بہت بڑے پیمانے پر زلزلے سے ہی تباہی ہوئی تھی۔ اس موقع پر الٹا فردوس عاشق اعوان صاحبہ نے جو بیان دیا اسے کم از کم الفاظ میں بھی نہایت شرمناک، کٹھور اور بے حسی پر مبنی کہنا چاہیے۔ وزیراعظم کو چاہیے وہ اپنی مشیر کو معذرت پر مجبور کریں اور فی الفور انہیں اس عہدے سے فارغ کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •