احساسات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ خوشی، غمی، بہادری اور بزدلی ہمارے احساسات ہیں اور یہ موسموں کی طرح ہوتے ہیں ’آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ لیکن ان موسموں کے اس چکر میں مسلئہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم ان کے اظہار کو روک دیتے ہیں۔

آپ گرمی میں بارش کو روکیں گے تو ہر طرف حبس ہو جائے گا، سردی میں برف اور دھند کو روکیں گے تو خنکی کی وجہ سے سب کا وجود ہل جائے گا۔ خزاں میں پتوں کو جھڑنے سے روکیں گے تو بہار آنا بند ہو جائے گی۔

یہ کام ہم اپنے احساسات کے ساتھ کرتے ہیں۔ مرد روتا نہیں، مرد کو درد نہیں ہوتا، عورت بہادر نہیں ہوتی وغیرہ وغیرہ۔ جب ہمیں خوشی ملتی ہے تو ہم اس کے اظہار کو روک دیتے ہیں کجا کہ کسی کی نظر نا لگ جائے۔ جب غم آتا ہے تو اُس میں ڈوب جاتے ہیں کہ یہ غم ہماری زندگی کا آخری غم ہے۔ لیکن اصل فلسفہ یہی ہے کہ ہم ان کا اظہار کریں۔ خوشی ہے تو ناچیں، قہقہے لگائیں۔ غم ہے تو روئیں اور روئیں لیکن خُدارا اس غم کو اپنا وجود نا کھانے دیں۔

جب آپ کسی جگہ لکڑی کو یونہی پڑا رہنے دیتے ہیں تو اُسے دیمک لگ جاتی ہے۔ لیکن وہیں اس لکڑی کو تراشتے ہیں تو اس سے اپنی راحت اور عیاشی کا سامان بنا لیتے ہیں وہ لکڑی جس کو دیمک نے کھانا تھا اُس کو تراش کر آپ صوفہ بنا لیتے ہیں پلنگ بنا کر اُس پر آرام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی طرح آپ کے احساسات ہیں۔ ان کو ایک جگہ پڑا رہنے دیں گے تو آپ کے وجود کو دیمک لگ جائے گی، وہیں اس کو تراشیں گے تو کبھی خوشی کے لڈو پھوٹیں گے تو کبھی آنسوؤں کے فوارے پھوٹیں گے ’لیکن آپ کے وجود کو دیمک نہیں لگے گی۔

ہمیں جہاں نرم ہونا پڑتا ہے بُزدلی دکھانی ہوتی ہے ہم وہاں اَکڑ جاتے ہیں اور جہاں اَکڑنا ہوتا ہے وہاں سے بھاگ نِکلتے ہیں۔ یہ دراصل احساسات کے موسموں کے روکنے کا ہی نتیجہ ہے۔ یہ زبان ایک چھری کی مانند ہے اور یہ وجود ایک کلہاڑا ہے۔ اب آپ اس چھری کی مدد سے قتل بھی کر سکتے ہیں اور کھانا بھی کاٹ سکتے ہیں۔ کلہاڑے سے کندھا کاٹ سکتے ہیں یا لکڑی کاٹ کر کندھے کا سہارا بنا سکتے ہیں۔

بس احساسات کے موسم کو یونہی چلتے رہنے دینا چاہیے۔ کبھی بھی کسی موسم میں ڈوبنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اگر ڈوب گئے تو ہمارے وجود کی کائنات کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ اگر خزاں میں درخت پتے نہیں جھاڑے گا تو بہار میں پھول نہیں کھلیں گے۔

یہی فلسفہء حیات ہے۔ یہ نا کسی سکول سے ملتا ہے نا کسی یونیورسٹی سے، یہ راہ میں بکھرے موتی ہیں جن کو جس نے چُن لیا اُسکے گلے کا ہار بن گیا باقی یونہی سُونا سُونا سا گلہ لئے پھرتے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •