شیخ عبداللہ کی نواسی ڈاکٹر نائلہ کا کشمیر کی صورتحال پر مضمون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام کیے بغیر کشمیر کی بھارت کے ساتھ جذباتی وابستگی یا انضمام ممکن نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار شیخ عبداللہ کی نواسی ڈاکٹر نائلہ علی خان نے کیا ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے عمل نے کشمیر کے سب ہی سیاست دانوں کوپس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ آرٹیکل تین سو ستر کی منسوخی، ریاست کی تقسیم اور اس کو یونین ٹیری ٹوری بنانا ایک طرفہ فیصلہ ہے، جس کا مطلب طاقت کا مرکز میں ارتکاز ہے، جو فیڈرل نظام کو نقصان پہنچائے گا۔

ڈاکٹر نائلہ علی خان نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ عبداللہ کی چھوٹی بیٹی ثریا عبداللہ کی بیٹی ہیں اور آج کل امریکہ میں پڑھاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے کشمیریوں کی طرح وادی کشمیر میں ابلاغ پر پابندی سے وہ بھی متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنا بڑا فیصلہ بغیر کسی اجماع اور رائے عامہ کو اعتماد میں لیے بغیر کیسے کیے سے کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر خان نے کہا کہ ان کو یقین ہے کہ ایک وفاقی نظام میں جذباتی یکجہتی یا انضمام اختیارات یا طاقت کے مرکز میں ارتکاز سے نہیں، بلکہ طاقت کو مختلف اکائیوں کو منتقل کرنے سے ہی ہو سکتا ہے۔

جمہوریت صرف ہر پانچ سال بعد انتخابات کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک طرز زندگی ہے، اور طرز فکر کا نام ہے۔ ایک جمہوریت میں اکثریت کی حکمرانی ہوتی ہے، مگر اس اکثریت کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اقلیتوں کے جذبات اور احساسات کا احترام کرے۔ ہندوستانی جمہوریت کے لیے یہ ایک لٹمس ٹیسٹ ہے کہ اس کے اندر اقلیتیں محفوظ اور مطمئن محسوس کریں۔ ڈاکٹر خان کے والدین سری نگر میں رہتے ہیں، ان کی والدہ جو سابق پروفیسر ہیں، اب ایک سماجی کارکن ہیں، اور ان کے والد ریٹائرڈ ڈاکٹر ہیں۔

انہوں نے جولائی میں بھارت کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے آخری بار چار اگست کو اپنے والدین سے بات کی تھی، اور وادی میں کمیونیکیشن پر پابندی کی وجہ سے وہ ان سے پھر بات نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں سیاسی پارٹیاں تو کشمیری عوام کے مستقبل کے بارے میں غور کرنا چاہتی تھیں تاکہ ہم لوگوں کو اس بھنور سے نکالا جائے جس میں ہم لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم بھارت اور پاکستان کے تعاون کے خوستگار ہیں، اور دونوں مین سے کسی ایک کو بھی اپنا دشمن نہیں سمجھتے۔

لیکن ہم لوگوں کو ہمارے اس بنیادی حق سے محروم کر دیا گیا۔ ڈاکٹر خان اس وقت اوکلاہوما یونیورسٹی اور روز سٹیٹ کالج میں ویزیٹنگ پروفیسر ہیں، اور مسئلہ کشمیر پر کئی کتابیں اور مضامین لکھ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ مئسلہ کشمیر کو کمیونل سوال نہیں بنایا جا نا چاہیے۔ ہمارے ابا واجداد نے سیکولر بنیادوں پر کشمیر کی تحریک شروع کی تھی، اور مذہب سے سیاست کو الگ رکھا تھا۔ ہمیں کشمیر کو سیکولر اور انسانی ہمدردی کی عینک سے دیکھنا چاہیے۔
بشکریہ دی ہندو، انڈیا۔ ترجمہ بیرسٹر حمید بھاشانی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر نائلہ علی خان

ڈاکٹر نائلہ خان کشمیر کے پہلے مسلمان وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کی نواسی ہیں۔ ڈاکٹر نائلہ اوکلاہوما یونیورسٹی میں‌ انگلش لٹریچر کی پروفیسر ہیں۔

dr-nyla-khan has 37 posts and counting.See all posts by dr-nyla-khan