شمائلہ عثمان کیسے مری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چوبیس ستمبر دو ہزار انیس شام سات بج کر پینتالیس منٹ پہ سوشل میڈیا گروپ جس کا نام میں نے ”شہزادیاں“ رکھا تھا کیونکہ اس میں میری کالج کی کلاس فیلوز ہیں۔ اس گروپ میں نویدہ اکرم کا یک سطری پیغام آ تا ہے۔

” شمائلہ کی ڈیٹھ ہوگئی“
اوہ میرے خدا۔
اناللہ وانا الیہ راجعون۔
کیا ہوا اسے؟

میں ایک دم یہ سارے سوال کرتی ہوں۔ ایک ایک کرکے باقی شہزادیاں بھی بیدار ہوتی ہیں۔
حادثہ ہوا ہے۔ نویدہ اکرم کا ایک بار پھر میسج آ تا ہے۔

میری آ نکھوں کے سامنے وہالی زیر، چوآ سیدن شاہ (چکوال) کی ساکن، سانولی رنگت کی ہر وقت ہنستی شمائلہ گھوم جاتی ہے۔ ستمبر دو ہزار میں ہم ساری سال اول کی طالبات تھیں۔ غوثیہ گرلز کالج بھیرہ ہمارے مذہبی ذہن رکھنے والے اور بیٹیوں کی اخلاقی تربیت اور کردار کے حوالے سے بہت سے خدشات رکھنے والے ماں باپ کے لیے ایک آئیڈیل جگہ تھی۔ جہاں لڑکیاں نہ صرف رسمی دنیاوی تعلیم حاصل کرتی ہیں بلکہ مذہب کا بھی فہم و ادراک حاصل کرتی ہیں۔ دو ہزار چار میں بھیرہ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد نویدہ اکرم ( گجرات) شمائلہ عثمان ( چکوال) ، طیبہ ریاض (گجر خان) اور ثمینہ اختر ( منڈی بہا الدین) ان چار لڑکیوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں ایل ایل بی شریعہ میں داخلہ لے لیا اور میں سرگودھا یونیورسٹی کے حصے میں آئی۔

دو ہزار چودہ میں نویدہ اکرم کے چھوٹے بھائی رضوان اکرم کی حادثاتی وفات کی خبر ملی تو میں تعزیت کے لیے گجرات گئی اور ایک لمبے وقفے کے بعد وہاں شمائلہ کو دیکھا۔ اس کی شادی ہوچکی تھی اور وہ چکوال میں کوئی پرائیویٹ سکول چلا رہی تھی۔ وہی شرمیلی مسکراہٹ اور اداس آ نکھیں۔

چوبیس ستمبر دوہزار انیس کو شمائلہ بچوں کی ویگن کھائی میں گرنے سے فوت ہوگئی۔
یک سطری خبر اور بس۔
آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل۔

نہیں لیکن رکیے۔ ستائیس ستمبر کو ایک بار پھر نویدہ کا پیغام آ تا ہے کہ شمائلہ کا قتل ہوا ہے۔
وہ کیسے نویدہ؟
نویدہ شمائلہ کے بھائی کا میسج فارورڈ کرتی ہے۔

میری بہن کی ساری ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں۔ وہ درد سے چیختی رہی، دہائیاں دیتی رہی۔ ڈاکٹروں کو کہتی رہی مجھے بے ہوش کردو۔ لیکن کوئی ابن مریم نہیں تھا کہ درد کی دوا کرتا۔ شمائلہ بے یارو مددگار بغیر کسی ٹرائنکولائزر کیسی درد کش دوا کے ریڑھ کی ٹوٹی ہوئی ہڈی کا درد چار گھنٹے سہہ سہہ کے اس دنیا کے منہ پہ جوتا مار گئی۔

بھائی کو کیسے صبر آئے؟
جس کی آ نکھوں میں بہن کی آ نکھیں رک گئی ہیں۔

جس کی سماعت میں اس کی چار گھنٹے کی دہائیاں ہیں۔
وہ اپنی بصارت اور اپنی سماعت کے اندر سے ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کے دردسے چیختی بہن کا درد کیسے نکالے؟

کوئی مسیحا ہے جو اس کا علاج بتادے؟
شمائلہ تو نجات پا گئی۔ اب اس کے بھائی کی نجات کیسے ہو؟
کہاں ہیں ہمارے مسیحا۔ اپنی تنخواہوں کے لیے سالوں تک ہڑتالیں کرتے ڈاکٹر آ خر کیوں ایسے ہیں؟

میں نیچے شمائلہ کے بھائی کا میسج من و عن چسپاں کررہی ہوں۔

سانحہ وہالی زیر اور استانی کا قتل عام

چار دن پہلے سکول وین حادثہ ہوا سب نے سنا دیکھا۔
لیکن اس دوران اس گاڑی کے اندر جو ٹیچر تھیں ان کے قتل کو بھی اسی حادثہ سے جوڑ دیا گیا۔
آپ سب نے سنا کہ وین میں ٹیچر کی موت ہوئی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ حادثہ 2 بجے دن کو ہوا لیکن ڈیتھ شام 6 بجے ہوئی۔

حقیقت کچھ ایسے ہے کے میں اپنے گھر پہ تھا جب پتا چلا کے آپ کی بہن کا ایکسیڈنٹ ہوا۔ ہم اپنی بہن کو لے کے کٹاس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچے۔ بہن سب کی سانجھی ہوتی ہے میری بہن ڈی اے کیو ایم سکول چوآ سیدن شاہ میں پرنسپل رہیں۔ بھیرا شریف پیر کرم شاہ مرحوم مدرسہ سے فاضل عربی اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے ایل ایل بی شریعہ لا اور ایم فل اور پریسنٹ راک ہل اکیڈمی چوآسیدن شاہ میں پڑھا رہی تھی۔

اتنی محنت کے بعد ان کے قتل نے سب خواب چکنا چور کر دیے۔

قتل ایسے ہوا کے جب
DHQ hospital choa katas

پہنچے تو جسم کی ہڈیوں کے ٹوٹنے کی وجہ سے وہ چیختی رہیں کہ مجھے بیہوشی والا انجکشن دے دیں ہم روتے رہے مگر ہسپتال کے عملے کو علاج سے زیادہ ریکارڈ کی پریشانی تھی اور وہ مسلسل ڈیٹا کولیکشن میں لگے رہے۔ ایکس رے والا نہ ہسپتال میں موجود نہیں تھا نہ اسے بلانے کی زحمت کی گئی۔

اسسٹنٹ کمشنر صاحب تشریف لائے مریضوں کے علاج کی بجا ئے انہیں ہر بیڈ پر لے جا کر مریضوں کا تعارف کرایا ان کے درد کا مزید مذاق اڑایا گیا اور تصویریں کھنچوا کے چلے گئے۔ اتنا ٹائم ضائع کرنے کے بعد اس شدید درد اور تکلیف میں روتی بہن کو ایک کینولا لگا کر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال ریفر کردیا گیا۔ جہاں ریسکیو 1122 کو 15 منٹ سے زیادہ اسی تکلیف میں انتظار کروایا گیا۔ پورے راستے تکلیف اور درد کی شدت سے دوچار میری بہن چیختی رہی۔ جب ہم چکوال پہنچے تو پتہ چلا کہ کٹاس ہسپتال میں شمائلہ کو جو کینولا لگایا گیا تھا وہ کام نہیں کررہا۔

میں اپنی بہن کی درد اور تکلیف کی وہ حالت کبھی بیان ہی نہیں کرسکتا نہ آپ سن سکتے ہیں۔ ڈی ایچ کیو چکوال نے میری بہن کی موت میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر الف ڈپٹی میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ہیں۔ جب ہم پہنچے تو دور مریض کو شفٹ کرنے اور فرسٹ ایڈ دینے میں ٹائم لگا کیوں کہ اسپتال کے سٹریچر کام نہیں کر رہے تھے۔

بہن جو مسلسل درد سے کہ رہی تھیں کہ میری کمر کی سب ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں مجھے بیہوش کر دیں ابو مجھے کہیں لے جائیں میں درد سے مر جاؤں گی مگر غیر سنجیدہ رویہ رکھا گیا جو میں ابھی بیان نہیں کر سکتا۔ ایکسرے ہوا۔ لیڈی ڈاکٹر نے ٹانگ پہ ٹانگ رکھے ڈاکٹر الف سے کہا کہ پسلیاں ٹوٹی ہیں۔ جب لیڈی ڈاکٹر نے ایک اور ڈاکٹر کو دکھایا وہ کہنے لگا کے پہلے سے چلنے میں مسئلہ۔ حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا کیوں کہ ریڑھ کی ہڈی میں ایکسرے میں ایک موڑ ہمیں بھی نظر آ رہا تھا۔

ہم روئے کہ بہن بہت تکلیف میں ہے آپ کو سمجھ نہیں آ رہا ہمیں کہیں اور جانے دو ان ظالموں نے اس کی بجا ئے کآفی دیر ضائع کرنے کے بعد سی ٹی سکین کا پروگرام بنایا۔
اس دوران شام کے 6 بج گئے تھے۔

اور تکلیف اور درد سے میری بہن نے میرے ہاتھوں میں جان دے دی تب ان قصائیوں نے فوری اس وارڈ کو ایمرجنسی وارڈ میں تبدیل کیا اور آ کسیجن ماسک لگانے کا ڈرامہ کرتے رہے۔ اور دس منٹ بعد میری بہن کی میت میرے حوالے کرکے کہنے لگے اس کو لے جائیں۔ یہ مر گئی ہے۔

چار دن گزر گئے ہیں میری بہن کی تکلیف سے بھری آنکھیں میرے سامنے سے نہیں ہٹ رہی وہ مجھے کہ رہی ہے کہ 4 گھنٹے میں کہتی رہی کہ مجھے لے جاؤ کہیں ان قصائیوں سے دور اتنی بیدردی سے مجھے قتل کر دیا میرے بھائی میری حفاظت کیوں نہیں کی۔

آج میرا دل کر رہا ہے کہ اس ہسپتال کو آگ لگا دوں۔ مر جاؤں کیا کروں؟ بہت بڑا ظلم اور قتل ہوا ہے جس میں یہ سب شامل ہیں لیکن میں نہ کسی سیاستدان کا بیٹا ہوں نہ جرنل کا ہمارے جیسے عام لوگ آزاد ملک میں روز قتل ہوتے ہیں۔

جس پہ گزرتی ہے بس وہ جانتا ہے۔ آپ سب کو بتایا کیوں کے اخبار میں یہ خبر آئی کے ٹیچر اسپتال سے پہلے فوت ہو گئیں۔ لعنت ایسی صحافت پہ کہ پتہ بھی نہیں 4 گھنٹے میں قتل ہوا۔ ہسپتال کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے کہ شاید کسی کا پیارا اس ظلم سے بچ جا ئے معلوم ہے کچھ فرق۔ نہِیں پڑے گا لیکن ایک امید ہے کے کوئی صاحب درد یہ دیکھ لے اور کچھ ہو جائے۔

بس اس کو آگے پہنچائیں اور اس کام میں مدد کریں تاکہ ہم ان قصائیوں کے خلاف کیس کر سکیں۔ تآ کہ کسی کی ماں بہن بھائی باپ یوں نہ تڑپیں جیسے۔ ۔ ہم تڑپ رہے ہیں۔

نعمان خالد مرزا
وہالی زیر تحصیل، چوآ سیدن شاہ، ضلع چکوال

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •