سالگرہ منانے والوں کی نئی نسل کی خیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صبح خیز ہوں تو چھٹی والے دن بھی بہت جلد آنکھ کھل جاتی ہے۔ پچھلے ویک اینڈ پر آنکھ کھلی، چائے کی طلب تھی۔ معلوم تھا، نسیم آپا سو رہی ہوں گی، سوچا اپنی مدد آپ کی جائے۔ جونہی کمرے کا دروازہ کھولا، کچھ پاؤں سے ٹکرایا۔ جھک کے دیکھا تو کچھ رنگ برنگے لفافے دہلیز پہ رکھے ہمیں تکتے تھے۔ اٹھا کر دیکھا اور کھولنے سے پہلے ہی ہمارے لبوں پہ مسکراہٹ دوڑ گئی!

ہمیں اپنے بچپن میں دو باتوں کا بہت شوق تھا، کتابیں پڑھنا اور فلمیں دیکھنا۔ ہمارے ابا بہت کتاب دوست تھے سو کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ فلمی دنیا کے شوقین جن آرزوؤں کے سحر کا شکار ہوتے ہیں ان کے لئے تو ہم طفل مکتب تھے سو ہماری اڑان ٹھہری “میری سالگرہ ہے بولو ، بولو نا “

ہمارے گھر کسی کی سالگرہ باقاعدہ طور پہ نہیں منائی جاتی تھی۔ چوتھے نمبر پہ موجود ہونے کے باوجود کوئی مثال ہمارے لئے موجود نہیں تھی۔ مگر ہم دھن کے پکے اور اپنے خوابوں کا تعاقب کرنا خوب جانتے تھے۔ جونہی ستمبر کا آغاز ہوتا، ہم بہانے بہانے سے تاریخ پوچھنا شروع کر دیتے۔ شروع میں ایک دو دفعہ جواب مل جاتا اور پھر کوئی نہ کوئی چڑ کے کہہ دیتا، مسئلہ کیا ہے آخر؟

پہلی پہلی بار ہمیں ڈھیٹ بن کے بتانا پڑا کہ ہمارا جنم دن آ رہا ہے۔ قریب سے ہی کسی نے کہا تو؟ اچھا ہوا بڑی ہو رہی ہو، فکر نہ کرو تحفہ مل جائے گا۔ تحفے تو ہر سال ملتے ہی تھے، اماں ابا کی دعاؤں کے ساتھ۔ لیکن اب تو من میں کیک، موم بتیاں اور سالگرہ مبارک کا گیت گونج رہا تھا۔ پہلی دفعہ ہم کیسے کامیاب ہوئے، یہ لمبی کہانی ہے۔ لیکن ہم بند دروازہ کھول چکے تھے۔

 اب اگلے برسوں میں جب ہم تاریخ پوچھتے تو سب انجان بن جاتے اور کچھ نہ سمجھنے کی ایکٹنگ کرتے۔ ہماری اماں جن کا دل محبت کی تاروں سے بنا گیا تھا، ہماری طرف دیکھ کے مسکرا دیتیں اور آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی دیتیں۔ سالگرہ والے دن ہماری بے تابی دیکھنے سے تعلق رکھتی۔ بہانے بہانے سے کچن میں جھانکتے کہ اماں کیا بنا رہی ہیں، کیک اور موم بتیوں کا انتظام کیا گیا ہے کہ نہیں؟ اور آخر کار وہ شام آ جاتی۔ کیک میز پر سج جاتا، ہم اچھے سے کپڑے پہن لیتے اور باقی سب کو بھی تاکید ہوتی کہ تیار ہو کے ہماری پارٹی میں آئیں۔ فلم جیسا گلیمر تو ممکن نہیں تھا لیکن ہم اس انتظام پہ بھی بہت فرحاں و شاداں نظر آتے۔

حقیقی زندگی کی اس فلم کے ڈائریکٹر ہم خود تھے سو سب ہماری ہدایات کے مطابق میز کے اردگرد بیٹھ جاتے۔ ابا آخر میں آتے۔ موم بتیاں جلائی جاتیں کیک کٹتا اور اگر کوئی بہن بھائی happy birthday گاتے ہوئے آواز دھیمی رکھتا یا شکل سے بوریت ظاہر کرتا، اسے ہم بے طرح گھورتے۔ کچھ لال پیلے نیلے رنگوں کے کاغذ میں لپٹے تحفے ہمارا انتظار کر رہے ہوتے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تحفہ نہ ملنے کی صورت میں ہماری ناراضگی کا سب کو علم تھا۔ ہمارا موقف تھا کہ تحفہ ملنا چاہیے، چاہے ایک پینسل ہی کیوں نہ ہو۔ ہماری چھوٹی سی سمجھ تب بھی جانتی تھی کہ تحفہ تعلق سے جڑا ہوتا ہے یہ رشتوں کی درمیانی ڈور کو سوچ اور محبت کی گانٹھ لگا کے مضبوط کرتا ہے۔ آپا کے پیکٹ میں کتاب ہوتی، اماں نے کپڑوں کے جوڑے کا اہتمام کیا ہوتا کہ ہماری شوقین مزاجی سے واقف تھیں۔ باقی سب کے پاس بھی کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا۔ ہمارے کم گو ابا خاموشی سے دیکھتے اور مسکراتے رہتے۔ پھر اپنی جیب سے ایک لفافہ نکالتے اور ہمارے ہاتھ میں تھماتے کہ اس رقم سے اپنی مرضی سے کچھ خرید لینا۔ ابا کا دیا ہوا وہ لفافہ اور پیسے آج بھی ہفت اقلیم کی دولت سے زیادہ اہم محسوس ہوتے ہیں۔

عمر گزرتی رہی اور سالگرہ منانے کا جو شوق بچپن میں پالا تھا وہ ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ ہوسٹل میں دوستوں کے ساتھ، شادی کے بعد صاحب کے ہمراہ اور پھر بچوں کے سنگ۔

بچوں نے ہوش سنبھالا تو انھوں نے ہمارے جذبات بھانپ لئے۔ ہم نہ صرف گھر میں تمام افراد کے جنم دن مناتے بلکہ دوست احباب اور خاندان کے لوگوں کی سالگرہ بھی یاد رکھتے اور گھڑی کی بدلتی سوئیوں کے ساتھ اپنی بہترین تمناؤں کا اظہار بھی کرتے۔ بچوں کی سالگرہ تو بہت ہی دھوم دھام سے منائی جاتی، سکول کے دوستوں اور ہمارے دوستوں کے ساتھ۔

ہمارے بچوں نے محبتوں اور احساست و جذبات کا یہ کھیل دیکھا، محسوس کیا اور اسے اپنے دل پہ لکھ لیا۔ اور اب کچھ برسوں سے ایسا ہے کہ وقت کا پہیہ اپنا پھیر پورا کرتے ایک نیا ڈھنگ اپنا چکا ہے۔ اب باری بچوں کی ہے اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ ہر برس اپنی ماں کے لئے کچھ نیا کیا جائے۔ اس دھن میں ہماری بڑی بیٹی ہمیشہ نمبر لے جاتی ہے۔

کچھ برس پہلے ہماری قریبی دوستوں کے ساتھ مل کے سرپرائز پارٹی کا پروگرام بنایا گیا۔ ہمیں شام کو صاحب کافی پلانے لے گئے اور جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو کچھ غیر معمولی اندھیرا تھا۔ ہم بچوں کو پکارتے جونہی لاؤنج میں داخل ہوئے، گل ہوئی بتیاں روشن ہوئیں اور ہم نے اپنے دوست و احباب کے چاند چہرے دیکھے جو ہمیں حیران دیکھ کے خوش تھے، ہنستے تھے، اور تالیاں بجتی تھیں۔ اس خوبصورت شام کا تصور آج بھی یادوں کے البم پہ جگمگاتا ہے۔

کچھ برس پہلے بیٹی دور دیس سدھار گئی لیکن جو سالانہ معمول تھا اس پہ عمل تو ہونا تھا۔ سو پہلے سال کی جدائی میں پھول بھیجنے کا سوچا گیا۔ گوگل پہ دوکان ڈھونڈھی گئی، پھول پسند کئے۔ جب قیمت چکانے کی باری آئی تو عقدہ کھلا کہ کارڈ استعمال کرنے کی سہولت موجود نہیں۔ ہار ماننا تو اس نے سیکھا نہیں سو امریکہ سے کال کی کہ دیکھئے مجھے اپنی ماں کو سالگرہ کے روز پھول بھجوانا ہیں اور آپ کے پاس کارڈ کے ذریعے ادائیگی کی سہولت نہیں۔ اگر آپ اعتبار کریں تو پھول ڈلیور کر دیں، میں جب ماں سے ملنے آؤں گی قیمت چکا دوں گی۔ پھول بیچنے والا شاید الفاظ کی سچائی اور بیٹی کی ماں سے محبت کی خوشبو سونگھ چکا تھا۔ سو اس شام ایک بہت بڑا گلدستہ مع ایک کارڈ کے ہمارے دروازے پہ تھا اور کارڈ پہ پھول والے نے اپنے ٹوٹے پھوٹے رسم الخط میں سمندر پار سے فون پہ لکھوائے جانے والے محبت بھرے لفظ نقل کیے تھے۔

بعد کے برسوں میں چھوٹے بچوں نے یہ ذمہ داری سنبھال لی، ہر برس ایک مختلف خیال اور انداز کے ساتھ۔ ہمیں ہر دفعہ یہ قیاس تو ہوتا کہ کچھ ہو گا مگر کیا؟ ہمارے دائرہ خیال کی اڑان وہاں تک نہیں پہنچ پاتی۔

 اس برس زندگی گرداب کا شکار ٹھہری۔ اماں عدم کو سدھاریں اور دوسری بیٹی پردیس۔ جدائیوں کے موسم بام پہ آن ٹھہرے ہوں تو دل کی کلی کہاں چٹکتی ہے لیکن محبت کرنے والے یہ سب کہاں سمجھا کرتے ہیں۔

لفافے ہمیں تک رہے تھے کہ کب ہم یادوں کا سفر تمام کریں اور ان کے اندر جھانکیں۔ ان میں لپٹے کاغذ اور گتے کے کارڈ نہیں تھے، یہ تو زندگی نامے تھے جو ہمیں بتا رہے تھے کہ محبت میں فاصلے اور وقت کچھ اہمیت نہیں رکھتے۔ یہ سمندر تو فاصلے پاٹتا ہوا دونوں کناروں پہ کھڑے ہوؤں کی پیاس بجھاتا ہے۔

تینوں بچوں نے کارڈز میں محبت احساس اور تعلق کی روشنائی سے اپنی ماں کو یقین کی ڈور تھمائی تھی۔ یہ وہی ڈور تھی جو ہم نے اپنے بچپن میں اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے باندھی تھی۔ اور احساس کا کچا دھاگہ آہستہ آہستہ ایک مضبوط پل بن گیا تھا۔ وہ سفر جو ہم نے فلمی دنیا کے سحر میں گرفتار ہو کے تنہا شروع کیا تھا، اب کچھ اور زندگی سے محبت کرنے والے ہمارے ہمقدم و ہم رکاب تھے۔ کیا ہوا جو اظہار اور طلب کی یہ شمع ہم نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے خود روشن کی۔

ہمارا خیال تب بھی یہی تھا اور آج بھی اس پہ قائم ہیں کہ گو ہر رشتہ محبت سے بندھا ہوتا ہے لیکن اظہار پہ قدرت ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوا کرتی۔ کبھی خیال کی پرواز کمزور رہ جاتی ہے، کبھی وقت کی کمی آڑے آتی ہے تو کبھی انا سے لپٹی زنجیر قدم روک دیتی ہے۔

سو ہنر یہی ہے کہ قبل اس کے کہ دلوں میں فاصلے حائل ہوجائیں، احساس کے رشتوں میں گھن لگ جائے، محبت کی کونپل کھلنے سے محروم رہ جائے، آپ کہہ دیجیئے اپنے دل کے مکینوں سے کہ تعلق کی ڈور کو چھوٹی چھوٹی باتوں سے سینچنا لازم ہوا کرتا ہے۔ بتا دیجئے کہ زندگی میں کب کب بہار کا دن ہے اور بہار کی خوشیاں تو اکیلے نہیں منائی جا سکتیں نا !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •