آخر کار خدا تعالی نے عمران خان کی شکل میں ہماری سُن لی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ تعالی کی خاص الخاص رحمت نے آخر کار وطن عزیز کا راستہ دیکھ ہی لیا۔ دہائیوں سے پاکستانی جس خواب کو آنکھوں میں سجائے بیٹھے تھے وہ پورا ہو ہی گیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جس گھن گرج، جس تمکنت، جس جذبے، جس وقار اور برابری کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وزیر اعظم پاکستان نے گفتگو گی اس ہونی کی امید ہی نے ملک خُدادار میں تبدیلی کی بنیاد رکھی تھی۔ اس وقت عالمی طاقت کے ایوانوں میں زلزلے کی سی کیفیت ہے۔ چہار سو ایک چرچا ہے، امید ہے، جن آنکھوں کے دیے برسوں ہوئے بجھنے کو تھے ایک دم سے ان میں روشنی کی جوالا مُکھی نمودار ہو چکی ہے۔

نیریندر مودی کے لئے بھارت واپسی اب ایک انتہائی مشکل فیصلہ بن چکا ہے۔ بھارت کی ڈیڑھ سو کروڑ عوام اس وقت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے سڑکوں پر ہے۔ کشمیری جس ظلم اور نا انصافی کا شکار ہیں، لوگوں میں اس پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ صرف بھارت میں نہیں خود امریکہ میں صدر ٹرمپ کے لئے امریکی عوام کا غیض و غضب خطرے کی آخری حدوں کو چھوتا دیکھا جا سکتا ہے۔ انسانی تاریخ کے عظیم ترین اجتماع اب نیویارک، واشنگٹن، بوسٹن، شکاگو اور کیلی فورنیا میں بھارتی ہٹ دھرمی اور جارحیت کے خلاف عالمی ضمیر کی انگڑائی پر دلیل ہیں۔

برطانیہ بھی وزیر اعظم پاکستان کی آواز پر لبیک کہہ چکا ہے۔ برطانوی عوام کو نا تو اب بریگزٹ کی فکر ہے نا ہی بورس جانسن کے سیاسی مستقبل کی، کشمیر کی جو تصویر کشی اقوام عالم کے سامنے وزیر اعظم پاکستان نے کی اسے دیکھتے ہوئے پوری برطانوی قوم ندامت کے سمندر میں غوطہ ز ن ہے۔ چین نے پہلی مرتبہ عوامی ردعمل کے ڈر سے پیشگی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چینی قیادت کو خدشہ ہے کہ تنامن سکوائر کی طرح کا کوئی دوسرا واقعہ رونما نا ہو اس لئے بھارتی جارحیت کے خلاف چین نے فوجی قدم اُٹھانے کی ٹھان لی ہے۔ اس وقت ہنگامی طور پر اقوام متحدہ کی معمول کی کارروائی کو روک کر سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی تیاریاں ہیں تا کہ ممکنہ عوامی ردعمل سے بچنے کے لئے کشمیر پر مثبت اور واضع اقدام اٹھائے جائیں۔

سب سے زیادہ اہم اور حیران کُن تبدیلی خود پاکستانی عوام میں دیکھنے میں آئی ہے۔ لوگوں کو اس بات سے کچھ مطلب نہیں کہ پچھلے سالوں میں قومی پیداوار کی جو شرح چھ فیصد کا ہندسہ بھی کراس کر چکی تھی وہ ڈھائی فیصد تک کیوں آن پہنچی ہے۔ صرف آٹو انڈسٹری ہی نہیں ٹیکسٹائل اور ایکسپورٹ سے تعلق رکھنے والی متعدد چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں سے وابستہ بے روزگار بھی اب اپنے گھر کے مسائل، بجلی اور کچن کے اخراجات پر متفکر نہیں۔ اقوام عالم کے ساتھ قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملائے پاکستانی بھائی بھی کشمیر کاز پر متفق اور متحد ہیں۔ اس بات کی قوی ترین امید ہے کہ وزیر اعظم کے وطن واپس آنے سے پہلے کشمیر سے کرفیو ہٹا لیا جائے گا اور مودی اپنی محفوظ واپسی کے لئے آنے سے پہلے کشمیر کو پاکستان کے حوالے نا بھی کرئے تو قابض بھارتی فوج کے انخلاء کا اعلان ضرور کر دے گا۔

پچھلے چار دہائیوں سے، جب سے سویلین حکمرانوں نے ملکی معاملات کی باگ ڈور سنبھالی ہے، بار بار یہ طعنہ سُننے کو ملتا تھا کہ کرپٹ اور بزدل حکمران آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کرتے۔ برابری کی سطع پر موقف واضع نہیں کرتے۔ وہ ساری حسرتیں جو قوم کے سینوں میں چالیس سال سے کُلبلا رہی تھیں خُدا تعالی کی خاص رحمت کی بدولت اب وہ صبح کے چانن کی طرح ایک سچائی ہیں۔ جتنی جلدی ہم اس سچائی کو جان لیں گے اُتنا ہی اچھا ہو گا۔ اگر قوم نا سمجھی تو اگلے سال سلامتی کونسل کے ایسے ہی اجلاس میں وزیر اعظم کو پھر ایسا ہی کچھ کہنا پڑے گا جس کے بعد ایک بار پھر ہمیں یہ بھی سُننے کو ملے گا کہ آج سے پہلے کسی نے بھی۔ خود وزیر اعظم پاکستان نے بھی ایسی اعلی سپیچ نہیں کی جو کہ آج کی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •