پیٹ میں ‌ سوراخ‌ والا آدمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میڈیکل سائنس آج اتنی ترقی کرچکی ہے کہ بغیر کاٹے ہم انسان کے اندر نہایت تفصیل سے دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ایسا ہمیشہ سے نہیں ‌ تھا۔ اگر 1800 کی صدی میں ‌ کسی انسان کے اندر دیکھنا ہو تو اس کو کاٹے بغیر ایسا نہیں کیا جاسکتا تھا۔ لیکن ایک حادثے نے یہ ممکن بنادیا کہ چلتے پھرتے زندہ انسان کے اندر بغیر سی ٹی اسکین یا اینڈوسکوپ کے دیکھا جاسکے۔ اس وقت گیسٹرواینٹیرولوجی کے میدان میں ‌ زیادہ ترقی نہیں ‌ ہوئی تھی اور باقاعدہ یونیورسٹیوں ‌ میں ‌ ایسا کوئی جدید طریقہ موجود نہیں ‌ تھا جس سے یہ معلومات حاصل کی جاسکیں ‌ جو اس واقعے کی وجہ سے تعلیمی اداروں ‌ سے باہر موجود ایک ڈاکٹر کے ذریعے ممکن ہوا۔ اس تجربے نے کلینکل سائنس کے لیے بھی نئے دروازے کھولے۔

1822 میں ‌ ڈاکٹر ولیم بیمانٹ مشرقی مشیگن میں ‌ ایک آرمی سرجن کے طور پر تعینات تھے جہاں اس وقت جانوروں ‌ کی کھالیں جمع کرنے کا پیشہ مقبول تھا۔ ایک روز حسب معمول ڈاکٹر بیمانٹ اپنے کام میں ‌ مصروف تھے جب ان کو ایک مقامی کھالیں جمع کرنے والے کاروبار سے ایمرجنسی کال آئی جس میں ‌ کہا گیا کہ کسی آدمی کو حادثاتی طور پر شاٹ گن سے گولی لگ گئی ہے۔ جب ڈاکٹر بیمانٹ وہاں ‌ پہنچے تو انہوں ‌ نے ایک کینیڈین آدمی کو دیکھا جس کا نام الیکسس سینٹ مارٹن تھا اور وہ زیادہ شراب پینے اور توڑ پھوڑ مچانے کے لیے مشہور تھا۔ مارٹن شدید زخمی حالت میں تھا۔ اس کے سینے اور پیٹ میں ‌ قریب سے گولی لگی تھی اور ایک پھیپھڑا سینے سے باہر لٹک رہا تھا۔ سب کا یہی خیال تھا کہ یہ مرجائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

ڈاکٹر بیمانٹ کی بغیر بے ہوشی کی دوا اور بغیر اینٹی بایوٹکس یا صاف کرنے والی دواؤں کے بغیر کئی سرجریاں کرنے کے بعد مارٹن بچ گیا۔ اس کی جان بچ گئی تھی لیکن پیٹ میں ‌ ایک سوراخ ہوگیا تھا جس سے معدے کو دیکھا جاسکتا تھا۔ وہ جو بھی کھاتا پیتا، وہ معدے میں ‌ دکھائی دیتا تھا۔ اس صورت حال کو ڈاکٹر بیمانٹ نے بہت دلچسپ پایا۔ یہ خیال رہے کہ یہ قریب دو سو سال پرانا واقعہ ہے اور اس وقت آج کل کی طرح‌ کوئی اس طرح‌ معدے کے اندر یا آنتوں ‌ کے اندر نہیں ‌ دیکھ سکتا تھا۔

مارٹن اس سوراخ کو بند کرنے کے لیے مزید سرجری کروانا نہیں ‌ چاہتا تھا کیونکہ وہ ایک شدید تکلیف دہ کام تھا۔ اس زمانے میں ‌ سرجری کرنے کے لیے مریضوں کو بسترسے باندھ دیتے تھے اور وہ ہی کامیاب سرجن سمجھا جاتا تھا جو مریض کی چیخ‌ پکار یا چھوڑ دینے کی التجاؤں ‌ پر کان دھرے بغیر سرعت سے سرجری کرے۔ یہ سرجریاں بڑے تھیٹر نما کمروں ‌ میں ‌ ہوتی تھیں جہاں ‌ میڈیکل اسٹوڈنٹس کے علاوہ عام افراد بھی تماشا دیکھنے جمع ہوتے تھے۔ انسانوں ‌ کی تفریح کی ضروریات اور ان کی اقسام کی تاریخ بھی ایک دلچسپ موضوع ہے۔

ڈاکٹر بیمانٹ نے سینٹ مارٹن کو اپنے گھر ملازم رکھ لیا جس کے لیے اس کو معمولی معاوضہ ملتا تھا۔ سینٹ مارٹن نے اکثر ڈاکٹر بیمانٹ کو چھوڑ کر جانے کی کوشش کی لیکن وہ اس کو بہلا پھسلا کر اور مزید پیسے وغیرہ دینے کے وعدے کرکے روک لیتے تھے۔ کینیڈا میں ‌ اس کی بیوی ایک بیٹی کے ساتھ رہتی تھی جن کو دیکھنے کا اس کو بہت کم موقع ملتا تھا۔ اس نے کئی بار بھاگ جانے کی بھی ناکام کوششیں کیں۔ اس کیس سے میڈیکل سائنس میں ‌ تجربے سے گزرنے والے مریضوں ‌ کے حقوق اور تحقیق کی اخلاقیات کے میدانوں ‌ میں ‌ بھی معلومات میں ‌ اضافہ ہوا۔

ڈاکٹر بیمانٹ سینٹ مارٹن کے معدے میں ‌ کھانے پینے کی اشیاّ دھاگے سے باندھ کر ڈال دیتے اور اس پر معدے میں ‌ موجود رطوبات کے اثر کا مطالعہ کرتے۔ اس سے پہلے ڈاکٹر یہ جانتے تھے کہ معدے میں ‌ پہنچ کر غذا پس جاتی ہے لیکن ان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ہاضمے کا باقاعدہ کیا طریقہ کار ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ پٹھوں ‌ کی حرکت سے یہ خوراک پس جاتی ہے۔ تقریباً بیس سال تک یہ مطالعہ جاری رہا اور یہ دونوں ڈاکٹر اور مریض ساتھ رہتے تھے۔

ان تجربات میں ‌ ڈاکٹر بیمانٹ نے توجہ سے سینٹ مارٹن کا دن رات مشاہدہ کیا۔ انہوں ‌ نے سینٹ مارٹن کے معدے میں ‌ مختلف طرح‌ کی کھانے پینے کی چیزیں ڈال کر ان میں ‌ ہونے والی تبدیلیاں ‌ دیکھیں اور معدے میں ‌ بننے والا گیسٹرک جوس نکال کر مزید تجزیات کے لیے لیبارٹری بھی بھیجا جہاں کیمیا دانوں ‌ کی مدد سے معلومات میں ‌ اضافہ ہوا۔

دو سال کے تجربات کے بعد ڈاکٹر بیمانٹ نے فلاڈلفیا میڈیکل ریکارڈر میں ‌ اپنا پہلا پرچہ چھپنے کے لیے بھیجا جس کا عنوان ”زخمی معدے کا ایک کیس“ تھا۔ اس مضمون میں ‌ انہوں ‌ نے بیان کیا کہ کس طرح‌ یہ کیس معدے کی رطوبات کو سمجھنے کے لیے ایک سنہری موقع تھا۔ انہوں ‌ نے اپنے تجربات کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح‌ یہ محلول معدے میں ‌ سے خود ہی باہر گر جاتا ہے اور اس کو نکالنے سے مریض‌ کو کوئی تکلیف نہیں ‌ ہوتی۔

ان تجربات سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ معدے میں ‌ موجود ہائیڈروکلورک ایسڈ تیزاب اور پٹھوں کی حرکت سے خوراک ہضم کرنے میں ‌ مدد ملتی ہے۔ انہوں ‌ نے خوراک کے ہضم ہونے کی رفتار اور مختلف بیماریوں ‌ کے درمیان تعلق پر بھی روشنی ڈالی۔ جیسا کہ اب ہم جانتے ہیں، جن لوگوں ‌ کو طویل عرصہ سے ذیابیطس ہوتی ہے، ان میں ‌ معدے اور آنتوں ‌ کی حرکت کی رفتار دھیمی پڑجاتی ہے۔ اس بیماری کو گیسٹرو پاریسس کہتے ہیں۔

ان معلومات کے ابھرنے کے بعد گیسٹرواینٹیرالوجی کی فیلڈ میں ‌ کام کرنے والے سائنسدانوں ‌ کو اس میدان میں ‌ مزید ترقی لانے کا موقع ملا۔ بیمانٹ 1853 میں ‌ 67 سال کی عمر میں ‌ برف سے ڈھکی سیڑھیوں ‌ سے پھسل کر دم توڑ گئے۔ سینٹ مارٹن اپنے گذشتہ پیشے سے دوبارہ منسلک ہوگیا جہاں ‌ وہ جانوروں ‌ کی کھالیں اکٹھی کرکے بیچ کر اپنا گزر بسر کرتا تھا۔ بعد میں اس نے کاشت کاری بھی کرنا شروع کی۔ آخرکار 83 سال کی عمر میں ‌ 1880 میں ‌ اس کی وفات ہوئی۔

اس کیس کے چھپنے کے بعد میڈیکل سائنس کی کمیونٹی میں ‌ سینٹ مارٹن کے بارے میں ‌ نہایت دلچسپی پائی جاتی تھی۔ بہت سارے اور بھی ڈاکٹر سائنسدان اس پر مزید تجربے کرنا چاہتے تھے لیکن وہ اور اس کا خاندان نہیں چاہتا تھا کہ اس پر مزید تجربات کیے جائیں۔ سینٹ مارٹن کے مرنے کے بعد اس کے گھر والوں ‌ نے جانتے بوجھتے اس کی لاش دھوپ میں ‌ سڑنے کے لیے چھوڑ دی تھی اور اس کے بعد اس کو ایک خفیہ جگہ دفنا دیا تاکہ اس کے جسم پر مزید تجربے نہ کیے جاسکیں۔

ان پاگل پن کی حدوں ‌ کو چھونے والے ڈاکٹر بیمانٹ کے تجربات کے نتیجے میں ‌ جن میں ‌ انہوں ‌ نے یہ معدے کا جوس پی کر تک دیکھ لیا تھا، سائنس کی دنیا میں ‌ قیمتی معلومات میں اضافہ ہوا۔ کس کس کو بھوک لگ رہی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •