کسی کی ماں میلے میں نہ مرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میلہ اپنے عروج پر تھا۔ لوگوں کا اژدھام تھا۔ شام کی ہلکی ٹھنڈی ہوا کے باجود، پلّو، پسینے میں شرابور تھا۔ اس کے سامنے لکی ایرانی سرکس کے ٹکٹ لینے والوں کا رش لگا ہوا تھا۔ اس کی دائیں طرف موت کا کنواں چل رہا تھا۔ موت کے کنویں کے ٹکٹ بیچنے اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے دو نوجوان رقاصائیں سٹیج پر ڈانس کررہی تھیں۔ سب سے زیادہ رش اسی سٹال کے گرد تھا اور اسی رش کی وجہ سے اس کی مٹھائی بک رہی تھی، خاص طور پر گرما گرم جلیبیاں خریدنے والوں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔

موت کا کنواں چل پڑا تھا۔ ایک موٹر سائیکل سوار جو خود تو ہیلمٹ پہنے ہوا تھا مگر اس کے پیچھے بیٹھی لڑکی کے کھلے بال موت کے کنویں کی دیواروں پر، چلتے موٹر سائیکل کے ساتھ، ہوا میں جھول رہے تھے۔ موت کا کنواں دیکھنے والے، موت کے کنویں اور موٹر سائیکلسٹ کے کمال کی نسبت، اس لڑکی کی کھلے گریبان کی قمیص کے اندر کچھ دیکھنے کی کوشش میں مگن تھے، مگر لڑکی کے ہوا میں لہراتے سیاہ لمبے بال ان کی مطلوبہ شے اور آنکھوں کے درمیان حائل ہو رہے تھے۔

پلو کے کانوں کو موت کے کنویں کے موٹر سائیکل کی آواز چنگھاڑتی چیخوں کی طرح محسوس ہو رہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے مگر اس کی جلیبیاں دھڑا دھڑ بک رہی تھی اور گلا پیسوں سے بھرتا جا رہا تھا، جو اس کے اطمینان کا باعث تھا۔ اسے ابھی ابھی والدہ کے انتقال کی خبر موصول ہوئی تھی۔ اچانک موت کے کنوئیں سے موٹر سائیکل چلنے کی خوفناک آواز نے اسے چیخ مار کر رونے پر مجبور کر دیا۔ گاہکوں نے سمجھا شاید جلیبیوں کے گرم تیل کا چھینٹا اڑ کر اس کے ہاتھ پر گرا ہے۔

وہ گاہکوں سے معذرت کرتا ہوا اٹھا اور خیمہ نما دکان کے عقبی حصے کی طرف چلا گیا۔ اس نے بیگم کو فون پر سمجھایا، کہ ماں کی موت کا ابھی اعلان نہیں کرنا، اونچی آوز میں رونا نہیں اور بچوں کو کچھ نہیں بتانا، نہ ہی اس کی اکلوتی بہن کو اطلاع کرنی ہے۔ نعش کے اوپر چادر ڈال دینی ہے۔ یہ باتیں سمجھا کر وہ واپس گاہکوں میں آگیا۔ اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا، مگر بکتی ہوئی مٹھائی اور تیزی سے بھرتا پیسوں کا گلا اس کی آنکھوں کو چمک اور دماغ کے سکون کا باعث بن رہا تھا۔

رات کا ایک بج رہا تھا۔ میلہ خالی ہوتا جا رہا تھا۔ لوگ گاؤں کو واپس جارہے تھے۔ اس کی جلیبیاں تقریباً بک چکی تھیں۔ اکا دکا کوئی گاہک لڈو وغیرہ لینے آرہے تھے۔ اس کا دل اداسی میں ڈوب گیا۔ وہ صبح سے کام کر رہا تھا اس کے جسم کا رواں رواں دکھ رہا تھا۔ وہ بہت زیادہ تھک چکا تھا، کمر سیدھی کرنے کے لئے لیٹا ہی تھا کہ نید کے غلبے نے اسے گھیر لیا۔

اس نے چاندی کا ایک منقش تخت دیکھا، جس کے پائے سونے کے بنے ہوئے تھے۔ اس تخت پر ایک خوبصورت عورت لیٹی ہوئی تھی، جس نے سفید شال اوڑھ رکھی تھی۔ فرشتے اس تخت کو سفید بادلوں کے بیچ اڑائے پھر رہے تھے۔ وہ کوئی پری تھی، کالی سیاہ آنکھوں سے بادلوں کو اڑتا دیکھ رہی تھی، مگر خاموش تھی۔ فرشتے اس تخت کو ایک خوبصورت باغ میں لے آئے تھے۔ اس باغ میں دودھ اور شہد کی نہریں بہ رہی تھیں، اس باغ کے درختوں کی تراش خراش بھی عجیب تھی۔

فرشتوں نے اس تخت کو ایک محل کے لان میں رکھ دیا۔ جیسے ہی تخت نیچے رکھا گیا، وہ عورت جس کے جوتوں پر لعل و زمرد جڑے ہوئے تھے، اٹھی اور محل کے اندر چلی گئی۔ پلو نے غور سے دیکھا تووہ حیران رہ گیا، یہ تو اس کی ماں تھی۔ اس کی ماں جوان کیسے ہوگئی؟ وہ اسی ادھیڑ بن میں تھا، جب اس کی آنکھ کھل گئی۔ اسے ماں یاد آئی جو اب دنیا میں نہیں رہی تھی۔ چند دن پہلے سے والدہ بیمار رہنے لگی تھی۔ وہ بہت کمزور ہوتی جارہی تھی۔

اس کے جسم پر کئی گلٹیاں بن گئی تھیں۔ وہ گلٹیوں کا تعویذ بھی لے کر آیا تھا۔ دم درود بھی کرائے تھے مگر افاقہ نہ ہوا تھا۔ وہ ماں کو علاج کے لئے بڑے ہسپتال لے کر جانا چاہتا تھا مگر میلے کے دن آگئے تھے۔ میلے پر مٹھائی کی دکان لگانے کے لئے پرمٹ لینا تھا۔ میلے کے خیمے کا بندوبست کرنا تھا۔ مٹھائی کا خام مال خریدنا تھا اور بہت کچھ۔ یہ میلہ ہر سال لگتا تھا اور گذشتہ تین سالوں سے وہ اس میلے میں سٹال لگا رہا تھا۔ ان تین سالوں کی کمائی سے اس نے گاؤں سے باہر تین کمروں کا پکا گھر بنا لیا تھا۔ آج میلے کا آخری دن تھا۔ ابھی اس کی کافی مٹھائی بچی پڑی تھی، اسی مٹھائی کی فکر اسے کھائی جا رہی تھی تھی۔

ناشتے کا وقت تھا اور میلے میں سونے والے، سرکس کے لوگ، مویشی لے کر آئے دیہاتی، سب ناشتے کے لئے، اس کی خیمہ دکان پر رش ڈالے کھڑے تھے۔ دوپہر ہونے کوآئی، تو اس کی بیگم نے پوچھا ”کیا کروں؟ ماں کی لاش اکڑے جارہی ہے۔“ وہ پھر رونے لگا۔ اسے ماں کی یاد آرہی تھی۔ اسے بچپن کے کسمپرسی میں گزرے دن یاد آئے، جب ماں کے پاس عید والے دن بھی پھٹے پرانے کپڑے ہوا کرتے تھے۔ وہ سکول جانا چاہتا تھا مگر اس کی ماں نے اسے مٹھائی کی دکان پر نوکر رکھوادیا تھا۔ اس نے بیگم کو کہا ”ماں کے جسم پر چادر ڈال دو، اور کسی کو مت بتاؤ کہ ماں مر گئی ہے۔ “

آج اس نے دوپر کو ہی جلیبیاں شروع کردیں۔ میلے کا آج آخری دن تھا اور بے پناہ رش تھا۔ اس کی جلیبیاں بک رہی تھی۔ وہ چاہ رہا تھا، اس کا مال جلدی جلدی ختم ہو۔ سرکس کا پہلا شو شروع ہونے والا تھا۔ گراؤنڈ میں نیزہ بازی کے مقابلے چل رہے تھے جس کے بعد ریچھ اور کتّے کی لڑائی ہونی تھی۔ شام ہونے کو آ رہی تھی، جب پلّو کی بیگم نے فون کرکے اسے بتایا کہ بہت برا ہوا۔ اس کی بیگم اونچی آواز میں رو رہی تھی۔ اس کے بین نے پلّو کا دل ہلا کر رکھ دیا، دراصل پلّو کی اکلوتی بہن جو ساتھ والے گاؤں میں رہتی تھی، ماں سے ملنے آ نکلی تھی۔

اس نے گھر آتے ہی ماں کا پوچھا، تو پلو کی بیگم نے اسے بتایا کہ وہ اپنے کمرے میں سوئی ہوئی ہے۔ رات اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور وہ رات دیر تک اس کا سر دباتی رہی تھی۔ صبح کی اذان کے وقت کہیں اس کی آنکھ لگ گئی تھی، اس لئے اسے اٹھانا مناسب نہیں سمجھا۔ اس کی بہن جیسے ہی ماں کے کمرے میں داخل ہوئی، اس نے ماں کو مرے ہوئے پایا، تو اس کی چیخ نکل گئی۔ وہ بین کر تے، اونچی آواز میں رونے لگی۔ اس کے ساتھ پلّو کی بیوی بھی رونے لگی۔ ان کے بین سن کر اڑوس پڑوس کی عورتیں جمع ہونا شروع ہو گئیں، یوں خود بخود پلّو کی والدہ کی موت کا اعلان ہو گیا۔

پلّو کے لئے یہ وقت بہت مشکل تھا۔ اس کا دھیان بیک وقت ماں کی موت اور میلے کی طرف لگا ہوا تھا۔ اس کو تیار کی ہوئی مٹھائی ضائع ہونے کا ڈر تھا۔ سوچ سوچ کر اس نے اپنے نوکر کو میگا فون دے کر دکان کے باہر کھڑا کر دیا۔ وہ اعلان کر رہا تھا ”سو والی پچاس میں۔“ اس نے مٹھائی کی لوٹ سیل لگا دی، ایک گھنٹے کے اندر اندر اس کی مٹھائی بک گئی۔

وہ جب گھر پہنچا، شام ہو چکی تھی۔ اس نے ماں کے کفن دفن کا انتظام کروایا۔ قبر کھدوانے اور کفن سلوانے میں بھی کئی گھنٹے صرف ہوگئے۔ رات دیر سے پلّو کی ماں کا جنازہ گھر سے نکلا تو مئیت سے ہلکی ہلکی بدبو آنے لگی تھی؟ جس کو اگر بتّیوں کی خوشبو سے دبایا گیا۔ پلّو رو رہا تھا۔ اس کی ماں عین میلے کے بیچ مر گئی تھی۔ اس کو مٹھائی لوٹ سیل میں بیچنی پڑی تھی۔ دو طرفہ نقصان ہوا تھا۔ اس سے رہا نہیں جارہا تھا۔ پلّو بے اختیار اونچی آواز میں روتا جارہا تھا اور بڑبڑاتے ہوئے کہتا جا رہا تھا ”شالا کسے دی ماں میلے اچ نہ مرے۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •