کھلاڑی اور سیلیکٹرز کا سیاستدان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ ایک کھلاڑی تھا، باقی اچھے کھلاڑیوں کی طرح۔ آپ اپنے محلے، علاقے، کلب یا اردگرد نظریں دوڑائیں گے تو آپ دیکھ لیں گے کہ ایک کھلاڑی کو کھیلنے کے علاوہ، پڑھائی لکھائی اور دوسری معاشرتی سرگرمیوں میں کتنی دلچسپی ہوتی ہے؟ پڑھائی لکھائی نہ کرنا تو کھلاڑی کے لئے اپنے بزرگوں اور اساتذہ کی طرف سے سب سے بڑا طعنہ اور تنبیہہ ہوتی ہے۔ ہر کوئی اسے سمجھاتا رہتا ہے کہ تم سارہ دن کھیلتے ہو پڑھائی پر کوئی توجہ نہیں دیتے، جبکہ دوسرے سارا دن پڑھتے ہیں۔ پڑھائی نہ کرنا جتنا برا عمل سمجھا جاتاہے کھیل کھیلنا بھی اتنا ہی برا سمجھا جاتا ہے۔

”دوسرا “ گیند کے خالق، ثقلین مشتاق، ایک ملاقات کے دوران بتا رہے تھے کہ جب سے مجھے کرکٹ کھیلنے کا جنون ہوا اس دن سے لے کر پاکستان کرکٹ ٹیم میں سیلیکشن تک میں دن رات ٹریک سوٹ پہن کر جیتا، جاگتا اور سوتا رہا۔ میں ماموں، تایا، چاچی، نانا اور دوسرے بہت قریبی رشتے داروں کے جنازوں میں، ٹریک سوٹ پہن کر چند لمحوں کے لئے شریک ہوا ہوں۔ اپنے بڑے بھائی کی برات میں نہیں گیا کیونکہ میرے کلب کا اس دن میچ تھا۔ برات واپسی پر گراؤنڈ کے قریب رکی اور میرے لئے بینڈ بجائی۔ کالج امتحان سے ایک مہینے پہلے جاتا۔ میں پڑھائی میں اچھا نہیں تھا بس پاس ہوجایا کرتا تھا۔ یہی حالت ہر اچھے کھلاڑی کی ہوتی ہے۔ اور وہ بھی اچھا کھلاڑی تھا۔

جب دوسرے بچے کیمسٹری کے فارمولے اور فزکس کے کلیے رٹتے ہیں، کھلاڑی کھیلتا ہے۔ جب دوسرے ریاضی کی مہارتیں سیکھتے ہیں، کھلاڑی کھیلتا ہے۔ جب دوسرے تاریخی واقعات، فیصلہ کن جنگوں، قوموں کے عروج و زوال کے اسباب کے بارے میں جانتے ہیں، کھلاڑی کھیلتا ہے۔

جب باقی لوگ قرآن وسنت، حدیث و فقہ میں درک حاصل کرتے ہیں، کھلاڑی کھیلتا ہے۔ جب دوسرے سیاست، الیکشن، پارٹی، معاشرتی، ملکی اور غیر ملکی مسائل پر بحث ومباحثہ اور غور وفکر کرتے ہیں، کھلاڑی کھیلتا ہے۔ جب گلی گلی، دوسرے، احتجاج، زندہ باد مردہ باد، انقلاب، حقوق اور ان کی پامالی کے خلاف میدان میں ہوتے ہیں، کھلاڑی میدان میں کھیلتا ہے۔ جب چھٹی کے دن، دوسرے، دوستوں کے ساتھ، جوش و جذبے سے بھرپور ایک دن گزارنے، کوئی میچ دیکھنے سٹیڈیم جاتے ہیں، کھلاڑی کھیلتا ہے۔

کھلاڑی کو بس ایک کام کرنا آتا ہے، کھیلنا، اور بہترین پرفارمینس دینا، مخالف کو مٹی چٹانا، ہزاروں لوگوں کے درمیان، ان کی تالیوں کی گونج اور کیمروں کی چکاچوند میں، اپنا جیتا ہوا کپ اٹھا کر فخر و انبساط سے دکھانا، یہی اس کی زندگی کا معراج سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لئے کھیل سے بڑھ کر کوئی کام اور جیت سے بڑھ کر کوئی خواہش نہیں ہوتی۔

اب اگر وہ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اور جاپان کو لڑاتے ہیں اور جنگ کے بعد ان کے مشترکہ بارڈر پر مشترکہ صنعتی شہر بساتے ہیں، بابائے قوم کو کینسر کا مریض بتاتے ہیں تو بات یہ ہے کہ انہوں نے عالمی تاریخ، جغرافیہ اور سیاست نہیں پڑھی نہ کوئی دلچسپی رہی کیونکہ وہ کھیلتے تھے۔ اگر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کے بارے میں غیر محتاط یا نامناسب الفاظ استعمال کرتے ہیں تو اس لئے کہ وہ ان کے بارے میں عقیدت اور عزت سے بات کرنے والوں کی محفلوں میں زیادہ نہیں بیٹھے۔ وہ دل کے برے نہیں، بس یہ سب سیکھنے کی بجائے وہ کھیلتے تھے۔

وہ ایک کھلاڑی تھے۔ اپنے کھیل کے ساتھ مخلص کھلاڑی، جس کی ساری توجہ اپنے جسمانی تیاری اور فٹنس پر رہی اور آج تک ہے۔ اس نے عقل، شعور، دماغ، اگر استعمال کیا تو کھیل کھیلنے اور کھیل جیتنے کے لئے۔ اسے اچھی انگریزی آتی ہے۔ (ہمارے ہاں یہ ایک اثاثہ ہے ) تو اس لئے کہ وہ نوجوانی میں انگلینڈ میں کھیلنے گئے۔ وہاں کی یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو ذہنی استعداد یا کسی عقلی معیار کی بنا پر نہیں بلکہ کھیل کی بنیاد پر، کیونکہ وہ کھیلتا تھا۔

آج تک انہوں نے کسی تقریر، بحث یا مذاکرے میں علم یا کتاب کی بات نہیں کی۔ صرف خواب بیچے ہیں۔ کبھی نہیں بتاسکے کہ ایک کروڑ گھر اور پچاس لاکھ نوکریاں کیسے دیں گے؟ کبھی معاشی، معاشرتی، بین الاقوامی امور یا اقتصادیات پر کوئی قابل توجہ بات نہیں کی۔ پہلے دنیا جہاں کی ساری برائیاں نوازشریف میں تھیں اب مودی میں ہیں۔ وہ ہر موقع پر صرف کرکٹ کا ذکر کرتے ہیں۔ امپائر، وکٹ، فیلڈنگ، باؤنسر، ورلڈ کپ، ٹورنامنٹ، بس یہی ان کا ذخیرہ الفاظ ہیں۔ کیونکہ وہ کھیلتے تھے۔

خود کو کپتان (تقریباً ستر سال کے ) کہتے، کہلواتے اور خوش ہوتے ہیں۔ اپنے وزراء، امراء اور قریبی پارٹی ممبران کو پرانے، بوڑھے، ریٹائرڈ کھلاڑیوں کے نام دیتے ہیں۔ جوانی میں لمبے بالوں کا جو سٹائل اپنایا تھا، آج تک چند بالوں کی کمی کے ساتھ وہی سٹائل، وہی لمبے، وہی کالے بال۔ (ذمہ داری سنبھالنے کے بعد امریکی صدور کے بال چند سالوں میں چٹے سفید ہوجاتے ہیں۔) وہ کرکٹ کے کھیل اور سٹیڈیم سے ذہنی طور پر نکلا ہی نہیں بھلے وہ ستائیس سال پہلے ریٹائرڈ کیوں نہ ہوا ہو۔

حالیہ امریکہ دورے کے دوران فارن افئیرز ریلیشنز کمیٹی کے سامنے اور صدر ٹرمپ کے ساتھ، مشترکہ پریس سیشن میں، جب انہوں نے گرم توے پر بیٹھنے کا، بے بسی سے بھرپور اور مایوسانہ ذکر کرنے کے ساتھ اپنے شاندار ماضی میں غوطہ مار کر نوے ہزار تماشائیوں کے درمیان پریشر میں کھیلنے کا ذکر چھیڑا، تو ان کے ساتھ ہمدردی محسوس کرنے کے باوجود اپنے بال نوچنے چاہے۔ ٹھیک ہے کہ وہ کھیلتا تھا لیکن آج اس کی گزری ہوئی کہانیاں کوئی سننا نہیں چاہتا۔ کوئی تو اسے سمجھائے۔ کہ آپ کپتان نہیں وزیراعظم ہیں۔

وہ کھلاڑی تھے۔ کھیل کی سیاست سے باہر انہیں سیاست کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ سیاست کو گند سمجھتا تھا۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں انہوں نے، ایک اخباری نمائندے کے، سیاست میں آنے کے بارے میں، پوچھے گئے سوال کے جواب میں بتایا تھا۔ میں پاگل ہوں کہ سیاست میں آؤں اور لوگوں کی نفرتوں کا شکار بنوں۔ تجھے اچھا نہیں لگتا کہ سب میری عزت کرتے ہیں، مجھ سے محبت کرتے ہیں۔

وہ کھلاڑی تھا۔ چند موقع پرست جرنیلوں اور خرانٹ کالم نگاروں نے، انہیں، خود ان کو، سیاستدان باور کرایا۔ انسان دشمن سیلاب، سونامی سے تشبیہہ دی۔ مشہور زمانہ کارٹون فلم، لائن کنگ کے چوری کردہ مکالمے، اب نہیں تو کب، اور تم نہیں تو کون، ازبر کروائے (مجھے یقین ہے وہ نہیں جانتے کہ جس دانشور نے اپنے جملے کہہ کر ان کو یہ نعرے دیے وہ بچوں کے کارٹونوں سے سرقہ کرتا ہوگا۔)

ایاک نعبدو و ایک نستعین، جیسے سیاق وسباق سے الگ اور ادھوری آیات کریمہ ان کی زبان پر چڑھائیں۔ (الحمدللہ رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین سے جدا کرکے ایاک نعبدو و ایاک نستعین کی الگ کوئی واضح سمجھ نہیں بنتی)۔ روحانیت جیسا زبان زد عام لفظ بمشکل ادا کرنے والے کو ریاست مدینہ کا خلیفہ مشہور کرایا۔ جبکہ مدینے والے صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد کوئی ریاست بنانا نہیں تھا۔ ریاست تو پیغمبری کے صدقے میں ملی تھی۔ حالت یہ ہے کہ مدینے سے پلٹ آنے کے بعد بھی دوسرے چوکھٹوں کو چومتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

کبھی جوتے اتار کر مدینے کی گلیوں میں نیاز مندی کا اظہار کرتے ہیں تو کبھی فوجی دستوں کے درمیان خانہ خدا اور خانہ پیغمبر میں جوتوں سمیت جلوہ گر ہوتے ہیں۔ اتنے سارے سرکاری عمرے کرنے کے باوجود آج تک مدینے والے کی محبت میں، ان کے بال کٹے ہوئے دیکھے، نہ کبھی اپنے بچوں کو مدینے والے کی چوکھٹ پر قدم بوسی کے لئے لے گئے جبکہ ہما شما کو جہازوں میں بھر بھر کر لے جاتے ہیں۔

اگر آپ کو ایک مدبر، سیاستدان ایک ماہر اقتصادیات اور عالمی امور کا ماہر، ایک تاریخ دان اور عالم، عربی زبان، صرف و نحو اور لحن داؤدی میں ید طولیٰ رکھنے والے قرآن وفقہ، قانون و معاشرت پر عبور رکھنے والے رہبر و رہنما چاہیے تھا تو آپ نے ایک کھلاڑی کو کیوں منتخب کیا؟ اگر آپ کو اپنے وزیراعظم کے منہ سے ریلو کٹے جیسے روزمرہ کے الفاظ اور تو تڑاخ والی عوامی زبان اچھی نہیں لگتی تو غلطی آپ کی ہے۔ چند مثتثنیات چھوڑ کر سارے کھلاڑی اسی عوامی زبان میں بات کرتے ہیں۔

ان میں خال خال لکھے پڑھے ملتے ہیں۔ اگر آپ کے ذہن میں چند متشرع کھلاڑی اٹکھیلیاں کرنے لگے ہیں تو ان کو بھی ساتواں نمبر یاد نہیں ہے۔ وہ کھیل کے ماہر ہیں اور ریٹائرڈ ہونے کے بعد ٹیم مینیجر، کوچ، کمینٹیٹرز، اور زیادہ سے زیادہ بورڈ کے چیئرمین بن سکتے ہیں۔ وہ کسی سیاسی پارٹی کے ممبر بنے نہ ورکر، کسی سیاست دان کے سیکرٹری بنے نہ دست راست، احتجاج میں حصہ لیا نہ جلسے جلوس میں، پارلیمانی کمیٹی کے رکن بنے نہ چئیرمین، وزیر بنے نہ وزیر اعلیٰ اور سیاست کرتے ہیں۔

جب ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو اسمبلی میں آنے، سیاست سیکھنے، مسائل اور ان کا حل جاننے، صورت حال اور تنقید برداشت کرنے کی بجائے اسمبلی پر لعنت بھیجتے رہے۔ آپ نے خود ایک کھلاڑی کو وزیراعظم بنایا اور سیاست میں معجزات کی توقع کر بیٹھے۔ کیا آپ زرداری یا نواز شریف کو کرکٹ ٹیم کا کپتان بنانے کے بعد کسی معجزے کی توقع کرسکتے ہیں؟ آپ نے سیاست جیسے قابل ترین دماغوں کے لئے بنے مقدس ترین فن کو، جو قوموں کی زندگی بنا بھی سکتا ہے اور بگاڑ بھی سکتا ہے، جس کو آپ کے ہاں جھوٹ، منافقت، بیان بازی اور موقع پرستی سمجھا جاتا ہے، ایک کھلاڑی کے حوالے کیا اور کھیل سے زیادہ کسی نتیجے کی توقع رکھتے ہیں؟

سیاست ڈھائی ہزار سالہ انسانی تجربات کا نچوڑ ہے۔ یہ چرچل، لائیڈ، ڈزرائیلی، ابراہم لنکن، جناح، گاندھی، نیلسن منڈیلا، اور باچہ خان جیسے نابغہ روزگار شخصیات کا میدان ہے۔ جس قوم کی مت ماری جاتی ہے وہ سیاست کو ناچ گانا، شورشرابا، پھکڑ پن، گالم گلوچ اور جھوٹ سمجھتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •