ہم پاکستانی کل ملا کے چاہتے کیا ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم بھی نہ جانے کیا چاہتے ہیں؟

خاموشی ہو تو وزرا سمیت ملالہ یوسفزئی اور شرمین عبید چنائے کو بھی طعنے مارے جاتے ہیں کہ اتنے دن ہوگئے کوئی بیان نہیں آیا۔ وزیراعظم کی بھر پورتقریر عالمی فورم پر بھی ہو تو کہتے ہیں تقریر سے کیا ہوگا۔

عبایا صوبائی حکومت نافذ کر دے تو کہتے ہیں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے اگر فیصلہ واپس لے لیا جائے تو کہتے ہیں وزیراعظم کشمیر کی خواتین کی چادریں نوچنے کی بات کرتے ہیں اپنے ملک میں فیصلے واپس لے لیتے ہیں۔

اگر شاہ محمود قریشی یواین او میں اردو میں تقریر کرے تو تنقید ہوتی ہے کہ کس کو سمجھ آئی ہوگی انگریزی میں تقریر کیوں نہیں کی اگر عمران خان انگریزی میں تقریر کرے تو مودی کی مثال دیتے ہیں کہ اس نے اپنی قومی بھاشا میں بھاشن دیا ہے۔

ایک طرف ایک جے یو آئی (ف) کے ایک مولانا کہتے ہیں کہ جس طرح عمران خان نے امت کا مقدمہ لڑا ہے کوئی نہیں لڑ سکا دوسری طرف مولانا فضل الرحمن صاحب فرماتے ہیں یہ یہودی ایجنٹ ہے اور ان کے ایجنڈے پہ کام کررہا ہے اور کشمیر کا سودا کر چکا ہے۔

ایک صاحب فرماتے ہیں کہ خان صاحب ملک کی قیادت کرنے گئے تھے اللہ نے عزت دی اور اقوام عالم کی ثالثی کے لیڈر کے رول کے لئے چن لئے گئے ہیں، دوسرے صاحب کہتے ہیں پاکستان عالمی برادری میں تنہا رہ گیا ہے سوائے چین، ترکی اور ایک دو اور ملکوں کے ہمارے ساتھ کوئی نہیں۔

خان صاحب نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کو مسئلہ فلسطین کے حل کے ساتھ مشروط کر دیا ہے جبکہ ہمارے پیاروں ترکی  اردن، مصر وغیرہ کے سفارتی تعلقات قائم بھی ہیں اور مزید مضبوط ہوتے دکھائی بھی دیتے ہیں۔

کچھ احباب کو خان صاحب کی تقریر اس لئے پسند نہیں آرہی کہ بھٹو کی تقریر ان سے بہتر تھی۔ کچھ نواز شریف کی تقریر کے مندرجات سامنے لا رہے ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ کل اقوام متحدہ میں نہ بھٹو صاحب نے تقریر کرنی تھی نہ میاں صاحب نے، عمران خان نے ہی کرنی تھی۔

کنفیوژڈ قوم، پہلے فیصلہ کر لو چاہیے کیا؟

حرف آخر یہ کہ بہرحال تقریر بہت اچھی تھی، وقت کی ضرورت بھی تھی۔ لیکن اقوام متحدہ کے سر پر جوں رینگنی ہوتی تو اب تک رینگ چکی ہوتی یہ بڑی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کے علاوہ کم ہی کچھ کرتا ہے۔ اس میں خان صاحب کی طرح کی گرجدار تقریریں مختلف ممالک کے سربراہان کی طرف سے پہلے بھی ہوتی رہی ہیں، آئندہ بھی ہوں گی۔ کم از کم اپنی قوم یا پارٹی کے لوگ مطمئن ضرور ہوجاتے ہیں، کچھ عالمی انسانی حقوق کے ادارے بھی ان الفاظ کو لے کر کسی حد تک چرچا کرتے ہیں۔ بالکل خاموشی تو اس بات کی علامت ہے کہ آپ مخالف کے نظریے کو قبول کر چکے۔

لیکن اس سے بڑا سچ یہ ہے کہ اقوام عالم میں اثر پذیری کے لئے آپ اپنے گھر کی صفائی کرنی ہوتی ہے، پالیسیاں بہتر کرنی پڑتی ہیں ورنہ انڈیا کی فرسٹ سیکرٹری کی طرف سے بھی آپ کی پچاس منٹ کی شعلہ بیانی کا چار منٹی جواب آ جاتا ہے۔ انڈیا میں مسلمان اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنے سے پہلے اپنے ملک کی اقلیتوں کو حقوق دینے پڑتے ہیں۔ سب سے بڑھ کرمعاشی طور پر بہتر ہوں پھر ہی کوئی آپ کی بات سنتا ہے، معاشی طاقتوں سے امہ سمیت اقوام عالم کے مفادات زیادہ گہرے وابستہ ہوتے ہیں۔ جناب وزیراعظم کو دورہ امریکہ میں اس کا بار بار ادراک بھی ہوا اور انہوں نے تذکرہ بھی کیا۔

راولپنڈی کے ایک کالم نگار آصف محمود صاحب نے مخالفت برائے مخالفت کے لئے خوب لکھا کہ: ”اچھی تقریر سے کشمیر آزاد نہیں ہو سکتا، پس ثابت ہوا عمران کو بری تقریر کرنی چاہیے تھی۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •