دنیائے کرکٹ اور پاکستان کرکٹ! کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟


\"shafi-bhatti\"

کرکٹ جس کا خالق گورا، جس کو پروان گورے نے چڑھایا، جس نے اس کھیل کو جینٹل مین گیم کا نام دیا۔ یہ کھیل برطانوی دور کے دوران برصغیر آیا اور آتے ہی قدم جماگیا۔ اس وقت دنیائے کرکٹ کا سب سے زیادہ ریوینیو اسی برصغیر سے حاصل ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ کرکٹ کھیلی اور دیکھی اسی خطے میں جاتی ہے۔ بھارت اور پاکستا ن میں اس کھیل کو مذہب کا درجہ دیا جاتا ہے۔ عالمی مقابلوں میں جس دن میچ ہو ،اس دن بازار بند اور گلیاں سنسان ہوجاتی ہیں۔ لوگ جنون کی حدتک اس کھیل کے دیوانے ہیں۔ اس کھیل میں سپانسرز،میڈیا پارٹنرز اور ایڈز کی بھرمار ہے۔ مگر ساتھ ساتھ میچ فکسنگ کی بھی یلغار ہے جو اس کھیل کے قدرتی حسن کو تباہ کرہی ہے۔

کرکٹ پاکستان میں ایک جذبہ،ایک جنون اور ایک مقصد نوجوان نسل میں تصور کیا جاتا ہے۔ اس وقت کرکٹ ایک کھیل کم اور سائنس زیادہ بن گیا ہے۔ آئے روز بننے والے قوانین،کرکٹ کے بلوں کے سائز،باؤلر کے بازو کا مخصوص ڈگریز میں خم وغیرہ یہ ایسی چیزیں ہیں جن کو جب تک اپنایا نا جائے دنیائے کرکٹ سے ہم آہنگی ممکن نہیں ہے۔ پاکستان کرکٹ نے ماضی میں کیے ستارےپیدا کیے۔ دنیا آج تک عمران خان جیسا کپتان، وسیم اور قار جیسے باؤلر، ثقلین جیسا آف سپنر اور انضمام جیسا گیند کاٹائمر نہیں پیدا کرسکی۔ عمران خان کے جانے کے بعد ہی سے میرٹ کی دھجیاں اڑنی شروع ہوگئی تھیں جس سے سفارش کلچر پروان چڑھا اور ہماری کرکٹ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید نیچے جاتی رہی۔ رہی سہی کسر لاہرو میں سری لنکن ٹیم پر حملے نے نکال دی۔

آج اگر دنیائے کرکٹ اور پاکستان کرکٹ کا موازنہ کیا جائے تو ہم پچھلی صف میں کھڑے ہیں۔ کسی بھی کھیل کی پختگی کا انحصار اسکے بنیادی ڈھانچے پر ہوتا ہے۔ لیکن افسوس سے اس وقت ہمارے ہاں بنیادی ڈھانچہ نا ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے ڈومیسٹک میں بجائے کوالٹی کے ہم تعداد پر انحصار کر رہے ہیں۔ اس وقت چوبیس سے زائد ریجنز اور درجن سے زائد ڈیپارٹمنٹس ہیں جن سے معیاری کرکٹز کا انتخاب ناممکن ہے۔ بین الاقوامی سطح پر مقابلوں میں کوکابورا گیند کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ہمارے ڈومیسٹک نظام میں گریس بال کا استعمال ہوتا ہے جس سے بولرز کو آگے جاکر مشکلات پیش آتی ہیں اور وہ اپنا اچھا خاصا وقت اس گیند کے استعمال کو سیکھنے لگا دیتا ہے۔ کیونکہ گریس بال کی سلائی(سیم) موٹی ہوتی ہے جو کہ باولر کے فائدہ مند ہوتی ہے جبکہ کوکابور کی باریک، ہونا تو یہ چاہیے کہ ڈومیسٹک میں کوکابورا کو استعمال کیا جائے۔ لیکن ماضی کی کوششوں کے باوجود یہ تجربہ ناکام ٹھہرا جسکے کئی محرکات ہیں۔ اسی طرح ہماری پچز کا معیار دوسرے ممالک سے بہت برا ہے جسکی وجہ سے آج ہم تین سو رنز بڑی مشکل سے کرتے ہیں۔ ہمارے ڈومیسٹک کی پچز کا معیار اتنا برا ہے کہ، کیا کہنے۔ ہماری پچز کو پروفیشنل کیوریٹرز کی بجائے مالی ہی تیار کرتے ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے۔ اسی طرح ناقص ایمپائرنگ بھی بہت زیادہ ہے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کم ہے۔ جسکی وجہ سے غلط فیصلے ہورہے ہیں۔ اس وقت ہم ایک روزہ کرکٹ میں نویں نمبر پر ہیں جسکی سب سے بڑی وجہ ناقص نظام اور انتظامیہ ہیں۔ جب ترجیحات ہی واضح نہ ہوں گی تو نتائج خاک آئیں گے۔

پاکستان سپر لیگ جو ہم نے متحدہ عرب امارت میں کروائی۔ یہ خوش آئند بات تھی کہ بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے کھلاڑیوں میں جو حوصلے کی کمی تھی پوری ہوجائے گی لیکن یہاں پر بھی پچز کے معیار نے قلعی کھول دی۔ لو سکورنگ میچز سے شائقین کرکٹ مایوس رہے۔ جب آپ کراچی جم خانے کے انداز کی پچز بنائیں گے جس پر صرف لیفٹ آرم سپنر ہی کامیاب ہو تو پھر دوسرے باؤلر کا کیا قصور؟ ساری لیگ میں سپنر ہی چھائے رہے۔ پاکستان کرکٹ کے لیے ضروری ہے کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی کی رونقیں بحال کی جائیں۔ کھلاڑیوں کی ٹیکنیک پر کام کیا جائے۔ ڈومیسٹک نظام کو عالمی معیار کے مطابق لایا جائے۔ پاٹا اور فلیٹ پچز کی جگہ سپورٹنگ پچز بنائی جائیں۔ ٹیموں کی تعداد کم کر کے معیار کو بلند کیا جائے۔ انڈر نائین ٹین،انڈر سکس ٹین اور اے ٹیمز کے ساتھ ہائی کوالی فائیڈ سٹاف رکھا جائے تو چند سالوں میں بہتر نتائج کی توقع ہے۔

Facebook Comments HS