ولی خان اور میاں طفیل کے پیروکار اور پاکستان کا مستقبل


\"saleem

جب جنرل ضیاالحق افغانستان میں مہم جوئی پر فیصلے کر رہے تھے اور پاکستان کے کچھ سیاستدان ان فیصلوں کی حمایت یا مخالفت کر رہے تھے تو اختلاف بنتا تھا۔ یعنی اس وقت تو دو رائے ہو سکتی تھیں۔ ایک جنگ جو ابھی شروع ہی ہوئی تھی اس کے نتائج پر قیاس آرائیاں سیاستدانوں کا حق تھا۔ دونوں اطراف کے لوگوں نے اپنی اپنی تھیوریز اور قیاس آرائیاں پیش کیں۔ اب ان تھیوریز کے نتائج پرکھنے کا وقت ہے۔

دو بالکل واضح دھڑے تھے۔ ایک دھڑے کا خیال تھا کہ یہ کفر اور اسلام کی جنگ ہے۔ اور پاکستان کو اسلام کاقلعہ ہونے کے ناطے یہ تن من دھن سے لڑنی چاہیے۔ اور دوسرا دھڑا کہتا تھا کہ یہ کفر اور اسلام کی جنگ نہیں بلکہ امریکہ اور سوویت یونین کی جنگ ہے۔ سرمایہ داری اور اشترکیت کی جنگ ہے۔ پاکستان کو اس میں جھونکنا تباہی کا باعث بنے گا۔

ہم نے وہ جنگ کفر اور اسلام کی جنگ سمجھ کر لڑی۔ اس جنگ کے پاکستان اور افغانستان پر نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ اب یہ تاریخ ہے۔ اور یہ تاریخ ہمارے سامنے رقم ہوئی ہے۔ عبدالولی خان صاحب سیکولر اور لبرل سوچ والوں کے نمائندہ تھے اور میاں طفیل محمد صاحب مذبی اور رجعت پسند سوچ کی علامت تھے۔

میاں طفیل محمد صاحب کے حامیوں کو ایک اہم لیکن بالکل آسان نقطہ سمجھنے میں مشکل ہو رہی ہے۔ وہ نقطہ یہ کہ 1980 میں جب اس مہم جوئی کا آغاز ہو رہا تھا اس وقت تھیوریز (theories) تھیں، قیاس آرائیاں تھیں۔ اس وقت یہ قابل بحث تھا کہ اس جنگ میں پاکستان جو کردار ادا کرنے کا سوچ رہا ہے اس کے اثرات پاکستان پر اچھے ہوں گے یا برے ہوں گے۔ مگر اب افغانستان میں ہماری مہم جوئی ”تاریخ“ ہے۔ اب ہم وہ جنگ ایک خاص نظریے کے تحت لڑ چکے ہیں اور اس جنگ کے جو اثرات پاکستان پر مرتب ہونے تھے وہ ہو چکے ہیں۔ اب اس بحث کا تو فیصلہ ہو جانا چاہیے۔ کہ یہ جنگ پاکستان کے لئے کیسی رہی۔

سوویت یونین کو شکست ہو چکی ہے۔ اب پاکستان اور افغانستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ ہر طرف امن اور ترقی کا دور دورہ ہے۔ دنیا میں اسلام کا بول بالا ہو گیا ہے۔ یعنی جنگ کے حامیوں کی بات ٹھیک نکلی۔

دوسری جانب پاکستان کو اس جنگ میں جھونکنے کے مخالف کافر اور غدار تھے۔ جو یہ کہتے تھے کہ آگ اور خون کا جو کھیل ہم افغانستان میں کھیل رہے ہیں اس کے شعلے پاکستان کو بھی اپنی آگ میں لپیٹ لیں گے۔ حالات ہمارے سامنے ہیں۔ اب دو رائے نہیں ہو سکتیں کیونکہ اب تو یہ سارا کچھ تاریخ بن گیا ہے۔ یہ ماضی قریب اور حال کا قصہ ہے۔

چاہیے تو یہ تھا کہ میاں طفیل محمد صاحب اور ان کے پیروکار جنہوں نے اس وقت امریکہ اور ضیاالحق کا ساتھ دیا تھا وہ اب شرمندہ ہوتے اور معافی مانگتے کہ لاکھوں لوگوں کو قتل، بے گھر اور بے وطن کرنے میں ان کا ہاتھ تھا۔ لیکن ایسا ہو نہیں رہا ہے۔ وہ اب بھی افغانستان کی جنگ میں حصہ لینے پر فخر کر رہے ہیں۔ میاں طفیل محمد صاحب کا کوئی پیروکار یہ کہنے کو تیار نہیں ہے کہ عبدالولی ٹھیک کہتے تھے۔

ہمارے ملک میں حالات کا دھارا اس دن بدلے گا جس دن 1980 کی افغانستان میں ہماری مہم جوئی کے ایڈووکیٹ اور جرنیل اسے اپنی ایک بڑی غلطی قرار دیں گے۔ اس دن ہمارا معاشرہ اس گند سے پاک ہونا شروع ہو گا جو افغانستان میں ہماری مہم جوئی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔

یہ بحث پچھلے دنوں ”ہم سب“ پر جمعیت کے متعلق ہونے والے مکالمے سے نکلی ہے۔ جس میں جمعیت کے لوگوں نے اپنے کارناموں میں افغانستان میں اپنی فتح کو بھی گردانا۔

تو میں عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ جماعت اسلامی اور جمعیت اگر افغانستان کی جنگ میں اپنے کردار پر شرمندہ نہیں ہیں تو یہ پاکستان کے مستقبل کے لئے بہت بری خبر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ افغانستان کی مکمل بربادی اور پاکستان کو بربادی کے دہانے پر لے آنا بھی اگر انہیں سوچنے پر مجبور نہیں کر سکا تو پھر فاش غلطیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik

8 thoughts on “ولی خان اور میاں طفیل کے پیروکار اور پاکستان کا مستقبل

  • 07/10/2016 at 10:34 شام
    Permalink

    وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا

  • 07/10/2016 at 11:18 شام
    Permalink

    سلیم ؟ ملک صاحب آپ اس ملک کی جڑیں کهوکهلی کرنے اور پاک وطن کے دور و نزدیک والے دشمنوں کے لئے سرگرم این جی اوز کا نمک خوب حلال کررهے هیں … آپ اپنا دال دلیه ضرور حاصل کریں مگر ریکارڈ کی درستگی کے لئے وضاحت ضروری هے که سویت فوجیں پاکستان کے دفاع کے لئے نهیں آئی تهیں جس طرح اب نیٹو افواج پاکستان کی سلامتی کے لئے افغانستان پر چڑهائی کئے نهیں بیٹهی هیں…1980 میں بهی پاکستان کی دفاع کی ذمه دار قوتوں نے فیصله کیا تها اور اس وقت یقینا” وهی فیصله پاکستان کے حق میں تها .. آج بهی جو پالیسی بروئے کار هے وه پاکستان کے ان هی سپوتوں کی بنائی هوئی هے جو دفاع وطن په مامور هیں… آپ نے مشرقی پاکستان میں وطن کے دفاع کے جرم میں حسینه واجد کے هاتهوں پهانسیاں پانے والے لوگوں کا موازنه بهی کیا هوتا… آپ خاطر جمع رکهیں اور موجوده تفویض کرده ایجنڈے په لگے رهیں … انشاءالله آپ جیسوں کی ملت فروشی اور دینی قوتوں کو برا بهلا کهنے کی آڑ میں دفاع وطن کی تاریخ رقم کرنے والے جانثاروں کا راسته آپ اور آپ کی آپی حسینه واجد نهیں روک پائیں گے ، کبهی نهیں !

    • 08/10/2016 at 12:52 شام
      Permalink

      جماعت اسلامی والے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کررھے ھیں کہ جیسے سویت یونین کی افغانستان پر چھڑایی ایک نظریاتی اورنوابادیاتی قسم کا یلغار تھا جسکا تعلق مغرب اور ضیالق گورنمنٹ کی پالیسیوں سے کچھ نہ تھا اور پاکستانی جنرلوں اور ان سے وابستہ مذھبی قوتوں بلخصوص جماعت اسلامی کو اس چپقلش میں بامرمجبوری کھودنا پڑا، کیونکہ پاکستان اور اسلام کو ایک بڑا خطرہ لاحق ھو گیا تھا،

      جماعت اسلامی کا اس قسم کا بیانیہ یا تو دروغ گویی کا نتیجہ ھے یا کم علمی اور کم فھمی کا، حقیقت یہ ھے کہ افغانستان میں سویت فوجوں کی امد امریکہ (سی ایی اے) کاافغانستان میں مداخلت کی وجہ سے ھوا تھا اور یہ مداخلت سویت یلغار سے کافی پہلے شروع ھا تھا اوراس حد تک بڑھا تھا کہ سی ایی اے کے تربیت کردہ جہادی سویت یونین کے وسطی ایشیایی ریاستوں میں بھی کارواییاں کرنے لگے تھے اس بات کا اقرار اسوقت کے اعلا امریکی عہدیداروں کے تحریروں سے ملتا ھے، اس قسم کے تحریروں کی ایک مثال سابقہ ڈیفنس سیکریٹری رابرٹ گیٹس کی کتاب ـفرام دی شیڈوزـ ھے ایک اور ماخذ سابقہ امریکی صدر جمی کارٹر کےنیشنل سیکیورٹی ایڈوایزر زبگنیو برزنسکی کے تحاریر اور بیانات ہیں، اس میں ان دونوں نے انکشاف کیا ھےکہ افغان باغیوں کو امریکی فوجی امداد دسمبر ۱۹۷۹ (جب افغانستان پر سویت فوج نے یلغار کیا تھا) سے کیی مھینے پہلے شروع ھویی تھی، اور اس کا مقصد سوویت یونین کو اس حد تک اشتعال دلانا تھا کہ وہ افغانستان پر چڑھایی کرے اور وھاں امریکہ اس سے ویت نام میں اپنی شکست کا بدلہ لے سکے

      اس سارے کھیل میں جنرل ضیالحق اور اسکے مذھبی ھواریوں کا کردارایک گنھاونی خود غرضی اور کوتاہ نظری پر مبنی تھاضیالحق اپنی اقتدار کو طول دینے کے لیے جوازپیدا کرنے کے تگ ودو میں تھا اور جماعت اسلامی سویت یونین کے خلاف جہاد کے اڑ میں اپنے نظرییے کے اثر ونفوس اور بالا دستی کا موقع پیدا کرنے کے جستجو میں،یہ بلکل واضح ہے کہ دو عالمی طاقتوں کے چپقلش میں مذھبی قوتیں بلخصوس جماعت اسلامی ایک مہرے کے طور پر استعمال ھویی، جنرلوں اور پاکستانی حکمرانوں نے جیسے اسلام اور جماعت اسلامی کو ایک کرایے کے الے کے طورپر مغرب کے ھاتھ میں دے دیا مغرب نے ان کو اپنے عالمی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا،اپنے ایک بڑے دشمن کو تباھ کرنے کے لیے، سویت یونین کو شکست ھویی، برلن دیوار گر گیا اور جرمنی ایک ھوا،اور مشرق یورپ اذاد ھوا، امریکہ نے یہ سارے فایدے کییے بغیر ایک امریکی خون بہایے،

      اور ان سب کا نقصان کس کو ھوا؟ پشتونوں، افغانون، پاکستانیوں کو خصوصی طور پر اورمسلمانوں کو عمومی طور پر اور خمیازہ ہم ابھی تک بگھت رھے ھیں، جماعت اسلامی نے انتہایی منفی انسانی رجحانات جیسے کے قانون شکنی، تشدد،دھشت گردی، مذھبی اورفرقہ وارانہ منافرت، وغیرہ کی خوب ابیاری کی، اور معاشرے کوتباھی کے راستے پر ڈال دیا، اب یہ اپنے اس کردار کو طرح طرح کے دلیلوں سے درست ثابت کرنے کی کوشش کرھی ھے

    • 08/10/2016 at 3:53 شام
      Permalink

      جناب منیر افضل صاحب، مضمون میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ اس وقت کی حکومت نے فیصلہ کیا اور کچھ لوگوں نے اس فیصلے کی حمایت کی۔ اس فیصلے کے تحت جنگ لڑی گئی اور اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

      باقی جہاں تک گالیوں اور الزامات کو تعلق ہے تو جناب یہ آپ کی اپنی ذہنی سطح کی ہی عکاسی کرتی ہیں۔

  • 07/10/2016 at 11:31 شام
    Permalink

    Rameesa you 100 % right : kaash saleem saleem ul fitrat he rehta , per pait ki aag……. Ah becharay qalam farosh , deen bezar aur mughalta ye k roashan khyal !
    اولالک فاولا ثم اولالک ….

  • 08/10/2016 at 3:35 صبح
    Permalink

    سلیم ملک صاحب۔۔۔ سابقہ اور حالیہ تحریوں نے یقینا ضمیر جھجوڑ دیا، کئی لوگوں نے گریبان میں نظر ڈالی ہوگی ، آپ کی بات سے اتفاق کیا ہوگا،کیونکہ راہ حق کی طرف اتنے شانداز میں آپ کے سوا کوئی شاید ہی رہنمائی کر سکے۔
    سلیم صاحب، صرف طرز تحریر کو بنیاد بناکر ہم کب تک حقائق کا گلا گھونٹتے رہیں گے؟ جناب من کیا حقائق صرف یہی ہے کہ سویت یونین افغانستان آیا، جی ایچ کیو اور جماعت اسلامی امریکی تعاون سے پہلے سے طے شدہ اہداف کے تحت جنگ میں کود پڑے اور افغانستان، پاکستان اور سویت یونین کو تباہ و برباد کردیا؟
    جناب کی تحریر سے لگتا ہے کہ روس کو افغانستان تک دھکیلنے میں بھی جماعت اسلامی اور روالپنڈی کا ہاتھ تھا، ورنہ وہ تو اپنی حدود میں گزشتہ کئی دہائیوں سے پرامن زندگی گزار رہاتھا، اس پر کسی پرندے کے مارنے کا الزام بھی نہیں لگا، اس بات کو اے این پی تو سمجھتی تھی اور اظہار بھی کرتی تھی جسے ہم پاکستانی سمجھ ہی نہیں پائے۔ سویت یونین کی افغانستان پر چڑھائی میں کسی ’فریب ناتمام‘ کی تلاش یقینا ً حقائق سے نظر چرانے کے مترادف ہوگا۔
    آپ نے تو اپنا خیال بتادیا کہ آج کے افغانستان میں تباہی و بربادی کا جو منظر ہے اس کا ذمہ بھی جماعت اسلامی کے سر ہے نہ کہ کسی دھمکی آمیز فون کال پر اپنا سب کچھ سرینڈر دینے والے لبرل و سیکولر حکمران پر،وہ بھی ایسے وقت میں جب ایک دہائی سے آپ کی یک طرفہ سرحد بالکل محفوظ تھی، لیکن اب ازلی دشمن اگر سرحد کے دونوں جانب سے دھمکیاں دے رہا ہے تو اس کی وجہ بھی شاید نہیں بلکہ یقینا آپ جماعت کے حصے ہی میں ڈالیں گے۔
    کیونکہ باچا خان کے پیروکاروں نے ملک لوٹا ہے نہ کرپشن کی ہے اور نہ سرخ انقلاب کے عنوان سے پاکستان کے روسی ٹینکوں کے ذریعے فتح کرنے کا کوئی منصوبہ تشکیل دیا تھا،وہ تو معصوم ہیں، خطا اور گناہ تو صرف جماعت اسلامی سے سرزد ہوئے ہیں، قوم اگر آج تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کی سہولیات سے محروم ہے تو اس میں بھی جماعت اسلامی کا ہی ہاتھ ہے، اس میں سوئزلینڈ کی بینکوں میں پاکستان کے 250ارب ڈالر لے کر جانے والے سیکولر اور لبرل سیاستدانوں کا حصہ تلاش کرنا یقینا غلط بات ہے۔
    سلیم صاحب آپ حقائق کوتوڑ مروڑ کر پیش کرسکتےہیں، آج کے پاکستان کی پستی کی ہر وجہ کو جماعت اسلامی سے جوڑ کر آپ نے بغض کا مظاہرہ تو کرسکتے ہیں، لیکن قوم کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتے کہ ہمارے سیکولر اور لبرل حکمرانوں نے ملک کو اتنا لوٹا ہے کہ اس کا بیٹرا ہی غرق کردیا ہے، کیا آپ کا قلم پرویز مشرف، بے نظیر بھٹو ، آصف زرداری، نواز شریف،باچا خان کے خاندان اور ان کی پارٹی کے رہنمائوں اور ایم کیو ایم ( لندن و پاکستان) کی کرپشن کی داستانیں بھی بیان کرکے اپنے قبیل کی سچائیاں بیان کرے گا ؟ افسوس۔۔۔ آپ شاید ہی پورا سچ لکھ سکیں، کیونکہ کہیں تو آپ کے بھی’ پر‘ تو جلتے ہی ہوں گے، نوکری کےلالے بھی تو پڑسکتے ہیں، بچوں کا پیٹ بھی سامنے آجاتا ہے۔

    • 08/10/2016 at 6:09 شام
      Permalink

      اس تحریر میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کے ساتھ مل کر سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑنے کا فیصلہ اس وقت کے ڈکٹیٹر جنرل ضیا نے کیا تھا۔ اور جماعت اسلامی نے اس کا ساتھ دیا تھا۔ جماعت اسلامی نے کہا تھا کہ یہ کفر اور اسلام کی جنگ ہے۔ جو اس جنگ کے مخالف تھے انہوں نے کہا تھا کہ یہ اسلام اور کفر کی جنگ نہیںہے اور اس جنگ کو یوں لڑنے سے پاکستان اپنی بربادی کو دعوت دے رہا ہے۔
      میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ وہ نتیجہ اب نکل آیا ہے۔ اس جنگ نے افغانستان کو تباہ کر دیا ہے اور پاکستان تباہی کے دہانے پر ہے۔ میں یہ امید کرتا ہوں کہ اندر اندر جمعت اسلامی اپنی غلطی تسلیم کرتی ہے۔ اور اگر یہ بات وہ سامنے آ کر کر دیں تو ہم سنبھلنا شروع ہو جائیں گے۔ جماعت کو صرف یہی کہنا ہے کہ وہ امریکہ کی مدد سے افغانستان اور پاکستان میں اسلامی نظام پھیلا رہے تھے۔

  • 09/10/2016 at 10:26 صبح
    Permalink

    جناب سلیم ؟؟؟ ملک صاحب آپ کی حقیقت تلاش کرنا ذیاده مشکل نهیں هے که قلم فروشی اور دین بیزار هونا اکثر دوستوں کی مجبوری بذریعه پیٹ میرے ذاتی مشاهدے میں هے کیونکه پلان انٹرنیشنل اور بیداری کی گود میں آپ نے جو تربیت پائی اور جن غیر ملکی فنڈز سے آپ جیسے دوستوں کی معاش وابسته رهی اور هے اس کا نتیجه اور لازمی نتیجه پاکستان کے مسلم نظریے اور اسلامی تهذیب و افکار کی مخالفت کے سوا کچه هو هی نهیں سکتا اور میرے عزیز بهائی آپ کی مجبوریاں بهی سمجه میں آتی هیں آپ جماعت اسلامی اور پاکستان کے دفاع په مامور وطن کے رکهوالوں کو اپنا کام کرنے دیں تاریخی تجزیے کے لئے ذرائع معاش کا آذاد هونا اور تجزیه کار کا غیرجانبدار هونا تجزیے کے قابل بهروسه هونے کی لازمی شرائط هیں بدقسمتی سے آپ ان ابتدائی لازمی شرائط پر هی پورے نهیں اترتے
    میں نے جو کچه کها هے اس کو آپ گالی قرار دے کر اس ردعمل کو ٹال نهیں سکتے جو آپ کے انتهائی اشتهال انگیز الفاظ اور الزامات پر مبنی عمل کے نتیجے میں سامنے آئے گا
    آپ نے پهر بهی محترمه حسینه واجد قاتله کا تذکره دانسته ٹال دیا هے
    کیا خیال هے آپ کا ؟

Comments are closed.